Live Updates

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہوسیاسی فائدے کے لیے ترکیہ کو نیا دشمن قراردے رہے ہیں.سابق امریکی سفیر

نیتن یاہو کی انتخابی مہم اور حملے کے وقت نے اسرائیل اور بیرونِ ملک یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا اسرائیل نے حقیقی خطرے کے خلاف پیشگی کارروائی کی یا انتخابی حمایت حاصل کرنے کے لیے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا.رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 28 اگست 2026 14:15

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہوسیاسی فائدے کے لیے ترکیہ کو نیا دشمن قراردے ..
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 اگست ۔2026 ) سابق امریکی سفیر برائے ترکیہ فرانسس جے ریکارڈون نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ترکیہ کو اسرائیل کا نیا دشمن قرار دینے میں”سیاسی فائدہ‘ ‘دیکھ رہے ہیں خصوصاً یہ نظریہ اکتوبر میں ہونے والے قانون ساز انتخابات میں انہیں فائدہ پہنچا سکتا ہے. عرب نشریاتی ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فرانسس ریکارڈون نے کہا کہ تل ابیب کی مرکزی شاہراہ پر لگائے گئے ایک بڑے انتخابی اشتہار میں ترک صدر رجب طیب اردوان کو ایران، حزب اللّٰہ اور نیویارک کے میئر کے ساتھ اسرائیل کے مخالفین کے طور پر دکھایا گیا ہے.

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ اشتہار پر درج ہے کہ اردوان نیتن یاہو کو ہرانا چاہتے ہیں، انہیں کامیاب نہیں ہونے دینا ہے دوسری جانب مذکورہ بینرز کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اشتہار کے چند روز بعد ہی ترکیہ اسرائیل کی نئی فوجی کشیدگی کا مرکز بن گیا ہے اسرائیلی جنگی طیاروں نے شمالی شام میں ابو الظاہر ایئر بیس پر حملہ کیا، اسرائیلی حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد وہاں ترکیہ کی جانب سے مبینہ طور پر بڑھائی جانے والی فوجی موجودگی کو نشانہ بنانا تھا.

واضح رہے کہ اسرائیلی انتخابات میں 2 ماہ سے بھی کم وقت باقی رہنے کے باعث نیتن یاہو کی انتخابی مہم اور حملے کے وقت نے اسرائیل اور بیرونِ ملک یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا اسرائیل نے حقیقی خطرے کے خلاف پیشگی کارروائی کی یا انتخابی حمایت حاصل کرنے کے لیے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا. رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کئی دہائیوں سے خود کو اسرائیل کی سلامتی کے مضبوط محافظ کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں اور ماضی میں بھی مختلف بحرانوں کو سیاسی فائدے میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکے ہیں ترکیہ، امریکا اور نیتن یاہو کے بعض اسرائیلی سیاسی مخالفین نے بھی حملے کے وقت پر سوال اٹھایا ہے.

ادھر ترکیہ نے بھی اسرائیلی موقف کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیاں اپنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں انقرہ کا کہنا ہے کہ شام میں امن، استحکام اور خوش حالی کے قیام کے لیے شامی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے. نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیردفاع نے ترکیہ کی شام میں ممکنہ فوجی موجودگی کو اسرائیل کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں ترک فوجی موجودگی کو جڑ پکڑنے اور اسرائیل کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دیں گے اسرائیلی وزیرٍ اعظم کے دفتر نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو اپنے ہی عوام پر ظلم کرنے والا یہود مخالف آمربھی قرار دیا تھا. 
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات