غزہ جنگ میں خاتون سربراہ والے گھرانوں میں اضافہ، یو این ویمن

یو این جمعرات 10 ستمبر 2026 00:30

غزہ جنگ میں خاتون سربراہ والے گھرانوں میں اضافہ، یو این ویمن

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 10 ستمبر 2026ء) غزہ میں خواتین کی سربراہی والے گھرانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جہاں اسرائیل کے متواتر فضائی حملوں اور انتہائی محدود وسائل کے باعث یہ خواتین روزانہ انتہائی مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔

صنفی مساوات کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ویمن' نے بتایا ہے کہ غزہ میں ایک چوتھائی گھرانوں کی سربراہ خواتین ہیں اور ایسے خاندانوں کی مجموعی تعداد تقریباً 86,290 ہے۔

یہ شرح اکتوبر 2023 سے پہلے کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہے جو جنگ میں فلسطینی مردوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے نتیجے میں سامنے آئی۔

Tweet URL

ادارے کی سربراہ صوفیہ کالتورپ کا کہنا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی معاہدے کو 11 ماہ گزرنے کے باوجود غزہ میں حملے اور ہلاکتیں جاری ہیں۔

(جاری ہے)

اکتوبر 2025 سے 28 جولائی 2026 تک اسرائیلی فضائی بمباری اور زمینی عسکری کارروائیوں میں 246 فلسطینی خواتین اور لڑکیاں ہلاک ہو چکی ہیں۔ یہ تعداد ہر ہفتے اوسطاً چھ خواتین اور لڑکیوں کی ہلاکت کے برابر ہے۔

پابندیاں، عدم تحفظ اور بمباری

صوفیہ کالتورپ نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ غزہ بھر میں خوراک، پینے کے پانی، حفظان صحت کی اشیا اور بنیادی خدمات تک رسائی بدستور انتہائی محدود ہے۔

خواتین کی سربراہی والے گھرانے روزانہ اس مشکل صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں کہ محدود وسائل کس طرح تقسیم کیے جائیں، امداد تک کیسے پہنچا جائے اور جن لوگوں کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے ان کی زندگی کیسے بچائی جائے۔

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا)نے غزہ کے طبی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد مجموعی طور پر 1,303 افراد ہلاک اور 4,336 زخمی ہو چکے ہیں۔

دو تہائی علاقہ ناقابل رسائی

یو این ویمن نے کہا ہے کہ خواتین کی سربراہی والے گھرانوں کو دیگر کے مقابلے میں پناہ گاہوں، خوراک اور مالی وسائل کی کہیں زیادہ کمی کا سامنا ہے۔ ایسے گھرانوں کے بے گھر ہونے یا ان کے گھر تباہ ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں تقریباً 21 لاکھ آبادی پر مشتمل غزہ کے بیشتر لوگ آج بھی بے گھر ہیں۔

فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی کے 40 فیصد سے بھی کم رقبے تک محدود کر دیا گیا ہے۔'اوچا' کے مطابق، غزہ کی 58 فیصد آبادی کو پناہ کے حوالے سے انتہائی سنگین یا تباہ کن حالات کا سامنا ہے۔ جنگ بندی کے بعد 'زرد لکیر' قائم کیے جانے کے وقت یہ آبادی غزہ کی پٹی کے تقریباً 53 فیصد رقبے پر رہ رہی تھی۔

بعد ازاں اس لکیر کو مزید آگے بڑھایا جاتا رہا جس کے نتیجے میں غزہ کا تقریباً دو تہائی حصہ ناقابل رسائی ہو گیا۔

اس طرح شہریوں کو گنجان آباد اور غیر محفوظ علاقوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔

ادارے نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے، ضرورت مند لوگوں تک بڑے پیمانے پر اور کسی رکاوٹ کے بغیر امداد پہنچنی چاہیے اور امدادی سرگرمیوں کو خواتین اور لڑکیوں کی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا جانا چاہیے۔