غزہ جنگ میں خاتون سربراہ والے گھرانوں میں اضافہ، یو این ویمن
یو این
جمعرات 10 ستمبر 2026
00:30
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 10 ستمبر 2026ء) غزہ میں خواتین کی سربراہی والے گھرانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جہاں اسرائیل کے متواتر فضائی حملوں اور انتہائی محدود وسائل کے باعث یہ خواتین روزانہ انتہائی مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔
صنفی مساوات کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ویمن' نے بتایا ہے کہ غزہ میں ایک چوتھائی گھرانوں کی سربراہ خواتین ہیں اور ایسے خاندانوں کی مجموعی تعداد تقریباً 86,290 ہے۔
یہ شرح اکتوبر 2023 سے پہلے کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہے جو جنگ میں فلسطینی مردوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے نتیجے میں سامنے آئی۔ ادارے کی سربراہ صوفیہ کالتورپ کا کہنا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی معاہدے کو 11 ماہ گزرنے کے باوجود غزہ میں حملے اور ہلاکتیں جاری ہیں۔
(جاری ہے)
پابندیاں، عدم تحفظ اور بمباری
صوفیہ کالتورپ نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ غزہ بھر میں خوراک، پینے کے پانی، حفظان صحت کی اشیا اور بنیادی خدمات تک رسائی بدستور انتہائی محدود ہے۔
خواتین کی سربراہی والے گھرانے روزانہ اس مشکل صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں کہ محدود وسائل کس طرح تقسیم کیے جائیں، امداد تک کیسے پہنچا جائے اور جن لوگوں کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے ان کی زندگی کیسے بچائی جائے۔ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا)نے غزہ کے طبی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد مجموعی طور پر 1,303 افراد ہلاک اور 4,336 زخمی ہو چکے ہیں۔
دو تہائی علاقہ ناقابل رسائی
یو این ویمن نے کہا ہے کہ خواتین کی سربراہی والے گھرانوں کو دیگر کے مقابلے میں پناہ گاہوں، خوراک اور مالی وسائل کی کہیں زیادہ کمی کا سامنا ہے۔ ایسے گھرانوں کے بے گھر ہونے یا ان کے گھر تباہ ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں تقریباً 21 لاکھ آبادی پر مشتمل غزہ کے بیشتر لوگ آج بھی بے گھر ہیں۔
فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی کے 40 فیصد سے بھی کم رقبے تک محدود کر دیا گیا ہے۔'اوچا' کے مطابق، غزہ کی 58 فیصد آبادی کو پناہ کے حوالے سے انتہائی سنگین یا تباہ کن حالات کا سامنا ہے۔ جنگ بندی کے بعد 'زرد لکیر' قائم کیے جانے کے وقت یہ آبادی غزہ کی پٹی کے تقریباً 53 فیصد رقبے پر رہ رہی تھی۔بعد ازاں اس لکیر کو مزید آگے بڑھایا جاتا رہا جس کے نتیجے میں غزہ کا تقریباً دو تہائی حصہ ناقابل رسائی ہو گیا۔
اس طرح شہریوں کو گنجان آباد اور غیر محفوظ علاقوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ادارے نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے، ضرورت مند لوگوں تک بڑے پیمانے پر اور کسی رکاوٹ کے بغیر امداد پہنچنی چاہیے اور امدادی سرگرمیوں کو خواتین اور لڑکیوں کی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا جانا چاہیے۔
متعلقہ عنوان :
مزید اہم خبریں
-
ٹرمپ: ایران جنگ مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ختم ہونے کی توقع، جوہری تنصیبات پر حملے کے امکانات برقرار
-
عمران خان سے اعلیٰ ترین سطح پربات چیت ہورہی ہے، اسی سال جیل سے باہر آ جائیں گے، بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن
-
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت صحت کارڈ پلس پروگرام سے متعلق اہم اجلاس
-
پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تقاضوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا، ترجمان دفتر خارجہ
-
پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا حامی ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری معاشی منظرنامے کو نئی شکل دے رہی ہے، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان
-
پٹواریوں نے عوام پر ایک اور مہلک پیٹرول بم پھینک دیا، مونس الٰہی کی حکومت پر شدید تنقید
-
فون کو الٹا رکھنا بہتر یا سیدھا ماہرین نے اہم وجوہات بتادیں
-
مالک مکان نے کرایہ دار کی دو بیویوں کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال بارے تبادلہ خیال
-
عوام کی جیبوں پر ڈاکہ؛ صرف 3 دنوں میں پیٹرول 21 روپے 88 پیسے فی لیٹر مہنگا
-
احسن اقبال کی زیر صدارت اڑان پاکستان کے قومی اقتصادی مشن، ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اجلاس
-
سعودی شہروں پر حوثی باغیوں کے حملے کے بعد پاکستان کی ایران کو سخت وارننگ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.