سپریم کورٹ میں’’اصلاحات سے اعتراف تک: ایک مؤثر ضلعی عدلیہ کی تشکیل‘‘ کے موضوع پر قومی عدالتی فلاح و بہبود کانفرنس کا انعقاد

ہفتہ 12 ستمبر 2026 19:17

سپریم کورٹ میں’’اصلاحات سے اعتراف تک: ایک مؤثر ضلعی عدلیہ کی تشکیل‘‘ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 ستمبر2026ء) سپریم کورٹ آف پاکستان میں ’’اصلاحات سے اعتراف تک: ایک مؤثر ضلعی عدلیہ کی تشکیل‘‘ کے حوالہ سے قومی عدالتی فلاح و بہبود کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے زیرِ اہتمام کانفرنس کا مرکزی محور عدالتی فلاح و بہبود، ادارہ جاتی معاونت اور ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کا اعتراف تھا۔

سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق کانفرنس میں چیف جسٹس آف پاکستان، سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے معزز ججز نے شرکت کی،تمام صوبائی ہائی کورٹس اور گلگت بلتستان چیف کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان بھی کانفرنس میں شریک ہوئے۔کانفرنس میں ملک بھر سمیت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی ضلعی عدلیہ کے نمایاں کارکردگی کے حامل ججز نے بھی شرکت کی ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا کہ ضلعی عدلیہ نظامِ انصاف کی ریڑھ کی ہڈی اور شہریوں کے لیے انصاف کا پہلا باضابطہ فورم ہے، نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد بڑی حد تک ضلعی عدلیہ کی سطح پر قائم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر نظامِ انصاف کے لیے صرف فعال عدالتیں نہیں بلکہ پیشہ ورانہ طور پر بااختیار اور ادارہ جاتی معاونت کے حامل ججز بھی ضروری ہیں۔

چیف جسٹس نے عہدہ سنبھالنے کے بعد دور دراز اور کم سہولیات والے اضلاع کے دوروں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ضلعی دوروں کے دوران ججز، وکلاء، سائلین اور عدالتی صارفین کی عملی ضروریات اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا گیا، جس کے تناظر میں ضلعی عدلیہ میں کام کے ماحول، پیشہ ورانہ وسائل، عدالتی انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی کمپلیکسز کی سولرائزیشن، ای لائبریریز، انٹرنیٹ اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے۔پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور اسلام آباد میں متعلقہ اصلاحاتی منصوبے کامیابی سے مکمل کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے 18 اضلاع میں اصلاحاتی منصوبے مکمل کر لیے گئے، باقی اضلاع میں کام جاری ہے،بلوچستان کے باقی اضلاع میں دشوار گزار جغرافیہ اور امن و امان کی صورتحال کے باعث انتظامی مشکلات درپیش ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ سال 2026-27 کو جینڈر ریسپانسیو جسٹس انیشی ایٹو کے لیے مختص کیا گیا ہے، خواتین سائلین کو ایک ہی چھت تلے ضروری سہولیات اور معاونت فراہم کرنے کے لیے ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں،ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز میں خواتین کے وقار، رازداری، تحفظ اور آسان رسائی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کے معیاری ڈیزائنز کے لیے انسٹیٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس پاکستان کے تعاون سے ملک گیر مقابلہ منعقد کیا گیا۔

جسٹس یحیٰ آفریدی نے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے ٹائم باؤنڈ مقدمات کے فیصلوں اور زیرِ التوا مقدمات میں کمی پر ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ستمبر 2025 سے جولائی 2026 تک 14 لاکھ 60 ہزار سے زائد ٹائم باؤنڈ مقدمات کے فیصلے کیے گئے،ماڈل کریمنل اور سول کورٹس نے ستمبر 2025 سے جولائی 2026 تک ایک لاکھ 33 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے۔

کانفرنس کے دوران قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی جانب سے بتایا گیا کہ ضلعی عدلیہ کی کارکردگی مسلسل ادارہ جاتی کوشش اور انصاف کی بروقت فراہمی کے عزم کی عکاس ہے۔اس موقع پر تمام ہائی کورٹس اور گلگت بلتستان چیف کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان نے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں عدالتی فلاح و بہبود کے اقدامات سے آگاہ کیا۔کانفرنس میں ادارہ جاتی مضبوطی، ڈیجیٹلائزیشن، احتساب، شفافیت اور عدالتی انتظام میں بہتری کے اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔

جوڈیشل افسران اور عملے کی فلاح، پیشہ ورانہ معاونت اور سروس مراعات بھی کانفرنس کے اہم موضوعات میں شامل رہیں۔عدالتی اصلاحات میں انصاف فراہم کرنے والے ججز کی فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ وقار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔انصاف کی فراہمی میں پائیدار بہتری کے لیے قابلِ پیمائش کارکردگی کے ساتھ ججز کی فلاح و بہبود بھی ناگزیر ہے۔کانفرنس میں اصلاحات کو کارکردگی کے اعتراف سے جوڑتے ہوئے نمایاں کارکردگی کے حامل ججز کی خدمات کو سراہا گیا۔

نمایاں کارکردگی کے حامل جوڈیشل افسران کو ’’کمنڈیشن فار جوڈیشل ایکسیلنس‘‘سے نوازا گیا۔جوڈیشل افسران کو بروقت، مؤثر اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی خدمات پر اعزازات بھی دیے گئے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا کہ ضلعی عدلیہ عدالتی اصلاحاتی ایجنڈے کی مرکزی ترجیح رہے گی،عدالتی فلاح و بہبود، پیشہ ورانہ معاونت اور ٹائم باؤنڈ فیصلوں پر مسلسل توجہ دی جائے گی،بہتر عدالتی انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات، ادارہ جاتی احتساب اور عوامی سہولت اصلاحاتی ایجنڈے کی ترجیحات ہیں۔