جسٹس شاہد وحید کاسپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان دائرہ اختیارات پرسوال

عدلیہ کے درمیان باہمی احترام کے قائل ہیں، اعتماد اور روابط کا شدید فقدان چل رہا ہے،کہیں نہ کہیں کوئی غلط فہمی موجود ہے . سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید کے ریمارکس

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ 16 ستمبر 2026 12:57

جسٹس شاہد وحید کاسپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان دائرہ اختیارات ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 ستمبر ۔2026 ) تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی ہسپتال منتقلی کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان دائرہ اختیارات پرسوالات اٹھائے ہیں. عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان سے سوال کیا کہ آئینی عدالت نے مقدمات کا ریکارڈ منگوا کر سماعت کیلئے فکس کرنے کا آرڈر دیا،مقدمات کو فکس کرنے کے آرڈر کے نتائج کیا ہوں گے،اٹارنی جنرل اس نکتے پر ہماری معاونت کریں، ایسا نہیں چاہتے کہ اعلیٰ ترین عدالتوں میں کوئی تضاد سامنے آئے.

(جاری ہے)

سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید نے کہاکہ اعتماد اور روابط کا شدید فقدان چل رہا ہے،کہیں نہ کہیں کوئی غلط فہمی موجود ہے جس پراٹارنی جنرل نے کہامیں چیک کر لیتا ہوں جسٹس شاہد وحید نے کہاکہ علاج سرکاری یا نجی ہسپتال میں ہوگا یہ نقطہ سائیڈ پر رکھ دیں،کیا ہمارے آرڈر کے باقی حصے پر عمل ہو رہا ہے؟کیا ملاقاتیں اور بچوں سے بات کرائی گئی،سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا،عدالت میں اپیلیں فوجداری مقدمہ اور توہین عدالت کی درخواستوں سے آئیں.

سپریم کورٹ نے کہاکہ زیرالتوا مقدمات میں آگے کیسے بڑھا جائے اٹارنی جنرل معاونت کریں،اٹارنی جنرل نے کہاکہ سپریم کورٹ کا آرڈر اپنی جگہ موجود ہے ‘ آئین کے مطابق آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ ہی نہیں‘کیسز بھی منگوا سکتی ہے‘ اس بات کا تعین ہونا ہے کہ آئینی عدالت کہاں کہاں سے ریکارڈ منگوا سکتی ہے جس پرجسٹس شاہد وحید نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت سے آئین کی منشا سمجھنا چاہ رہے ہیں، عدلیہ کے درمیان باہمی احترام کے قائل ہیں، سوالات کا منفی مطلب نہ لیجیے گا، یہ صرف سمجھنے کے لیے ہیں.

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار آئین میں واضح ہیں، جس پر جسٹس شاہد وحید بولے آئینی عدالت کے حکم میں لکھا ہے کہ وہ تعین کریں گے کہ بنیادی حقوق کے کیسز کون سن سکتا ہے، بنیادی حقوق کا معاملہ تو ہر کیس میں ہوتا ہے، شفاف ٹرائل کا بنیادی حق ہر فوجداری کیس میں سامنے آتا ہے. سپریم کورٹ نے کہا کہ آئینی عدالت نے مقدمات کا ریکارڈ منگوا کر سماعت کے لیے مقررکرنے کا حکم دیا، مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کے حکم کے کیا نتائج ہوں گے؟ اٹارنی جنرل اس نکتے پر ہماری معاونت کریں ‘جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت میں کیسز مقرر کرنے کا لفظ ہمیں تنگ کر رہا ہے، اٹارنی جنرل ہماری معاونت کریں کہ وفاقی آئینی عدالت کیسے کیس سن سکتی ہے؟.

جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا اڈیالا جیل انتظامیہ کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہوا تھا، سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی، کیا جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کردیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا مناسب ہوگا کہ ایک موقع دے دیں.