جنوبی خیبرپختونخوا کے لیے الگ صوبے کا مطالبہ، بنوں کے شہریوں کی حمایت

ھ*بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان اور ہنگو سمیت جنوبی اضلاع پر مشتمل نئے صوبے کی تجویز

ہفتہ 19 ستمبر 2026 18:00

Mبنوں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 ستمبر2026ء) جنوبی خیبرپختونخوا میں نئے انتظامی یونٹ کے قیام کا مطالبہ ایک بار پھر سامنے آگیا ہے، جہاں بنوں کے شہریوں نے بنوں اور ملحقہ جنوبی اضلاع پر مشتمل الگ صوبے کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی سطح پر انتظامی ڈھانچہ قائم ہونے سے عوام کو سرکاری امور کیلئے پشاور کے طویل سفر سے نجات مل سکتی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بنوں کو مجوزہ نئے صوبے کا دارالحکومت بنایا جائے تاکہ جنوبی اضلاع کے رہائشیوں کو انتظامی، سرکاری اور دیگر امور کے لیے پشاور جانے کی ضرورت کم ہو اور بیشتر معاملات مقامی سطح پر ہی نمٹائے جاسکیں۔ بنوں کے شہریوں نے تجویز دی کہ بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان اور ہنگو سمیت جنوبی اضلاع پر مشتمل نیا صوبہ قائم کیا جائے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں پشاور تک رسائی عام شہری کے لیے مشکل ہے، اس لیے نئے انتظامی یونٹ کے قیام سے مقامی سطح پر مسائل کے حل اور سرکاری خدمات کی فراہمی میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔ شہریوں کے مطابق بنوں اور لکی مروت کی آبادی اور معاشی سرگرمیوں کے پیش نظر یہاں الگ انتظامی یونٹ کے قیام سے روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے ساتھ بنوں کو بھی الگ انتظامی یونٹ کا درجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ جنوبی اضلاع کی ضروریات کو مقامی سطح پر بہتر طور پر پورا کیا جاسکے۔ خیبرپختونخوا حکومت اس سے قبل جنوبی اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ کے قیام کی تجویز پر بھی کام کرچکی ہے۔ جون 2024 میں صوبائی حکومت نے جنوبی اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ کی تجویز تیار کرنے کی ہدایت دی تھی، جس میں کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویڑنز اور متعلقہ ضم شدہ اضلاع کو شامل کرنے پر غور کیا گیا تھا۔

موجودہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں بھی جنوبی اضلاع کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، جن میں بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت دیگر جنوبی اضلاع کے لیے پانی اور صفائی کے منصوبے شامل ہیں۔ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کے قیام کے حوالے سے حتمی فیصلہ آئینی، قانونی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق متعلقہ فورمز پر ہوگا، جبکہ بنوں کے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی اضلاع کی انتظامی ضروریات اور عوامی سہولت کو سامنے رکھتے ہوئے اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔