بقاء کی جنگ لڑنے کے علاوہ اسرائیل کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں، نیتن یاہو
یو این
جمعہ 25 ستمبر 2026
12:15
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 25 ستمبر 2026ء) اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں سالانہ اجلاس سے اپنے خطاب کے دوران خطے کی صورتحال پر تفصیلی بات کرتے ہوئے ایران کے خلاف اسرائیلی اقدامات، غزہ جنگ، حماس اور حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا۔
ان کا دعویٰ تھا کہ اسرائیل نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کارروائی کی اور یہ فیصلہ ان کے ملک کی بقاء کے لیے ناگزیر تھا۔
نیتن یاہو نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل اپنے وجود کی جنگ لڑ رہا ہے اور یہ کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے برسوں پہلے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف خبردار کیا تھا اور اب اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کر کے اس خطرے کو ختم کر دیا ہے۔
(جاری ہے)
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ اقدام نہ کیا جاتا تو اسرائیل شدید خطرے سے دوچار ہو جاتا۔
’یہودی ریاست کی مخالفت‘
انہوں نے 1967 کی چھ روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی اسرائیل کو ختم کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں جبکہ اسرائیل مغربی کنارے، غزہ یا گولان کی پہاڑیوں پر موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق تنازعے کی اصل وجہ سرزمین نہیں بلکہ ایک یہودی ریاست کے وجود کی مخالفت ہے۔
وزیراعظم
نیتن یاہو نے 7 اکتوبر 2023 کے فلسطینی مسلح تنظیم ’حماس‘ کی طرف سے حملے کو اسرائیل کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے حملے میں 1,200 اسرائیلی ہلاک ہوہے۔ ان کے مطابق اس کے بعد اسرائیل نے مختلف محاذوں پر جنگ لڑی اور حماس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں۔صدر ٹرمپ کی تعریف
اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اسرائیل حماس، حزب اللہ، حوثیوں، ایران، عراق اور شام کی ملیشیاؤں اور مغربی کنارے کے فلسطینی عسکریت پسندوں کے خلاف ایک "سات محاذوں کی جنگ" لڑتا آ رہا ہے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ اسرائیل اور امریکہ نے مل کر ایران کی عسکری صلاحیتوں اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ حماس اور حزب اللہ کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کیں۔ ان کے بقول دونوں ممالک نے اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے لیے بھی مل کر کام کیا۔
غزہ اور مغربی کنارہ
غزہ
میں اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید اور نسل کشی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ حماس نے ہسپتالوں، سکولوں اور مساجد کو عسکری مراکز کے طور پر استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے شہریوں کو خبردار کرنے کے لیے فون کالیں، پیغامات اور پمفلٹوں کا استعمال کیا اور خوراک و ویکسین کی فراہمی میں بھی مدد دی۔مقبوضہ مغربی کنارے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ بین الاقوامی برادری آبادکاروں کے تشدد پر تو توجہ دیتی ہے لیکن اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں پر ہونے والے حملوں کو نظرانداز کرتی ہے۔
قطر، ترکیہ اور عالمی بیانیہ
وزیراعظم
نیتن یاہو نے قطر پر اسرائیل مخالف نظریات پھیلانے کا الزام لگایا اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو صرف فوجی محاذ پر نہیں بلکہ عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا میں بھی بیانیے کی جنگ کا سامنا ہے۔خطاب کے اختتام پر اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ ایک دن ایرانی عوام اپنے حکمرانوں پر غالب آ جائیں گے اور ایران میں موجودہ نظام ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنے دفاع اور بقا کی جدوجہد جاری رکھے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی مکمل تقریر سنیے
مزید اہم خبریں
-
تمام سیاسی جماعتوں سے گزارش کرتا ہوں کہ ہمیں حکم دیں کہ ہم آپ کو کہاں بٹھائیں، صدر کسان اتحاد
-
پی ٹی آئی لانگ مارچ ڈیوٹی پر ڈیرہ غازی خان سے اٹک آنے والا پولیس اہلکار ہارٹ اٹیک سے جاں بحق
-
اسلام آباد میں احتجاج کا تماشہ ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا، رانا ثنااللہ
-
پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب کا اجتماعی دفاع مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
-
کووڈ 19: چھ سال گزر گئے لیکن کیا اگلی وباؤں کے خلاف تیاری موجود؟
-
مغربی کنارے جبری بیدخلی اور گھروں کی مسماری میں اضافہ، انسانی حقوق دفتر
-
ڈیجیٹل شعبہ میں صنفی مساوات کے لیے ٹیکنالوجی سنٹر بنانے کا اعلان
-
پانی مصر کے لیے وجودی مسئلہ جس پر سمجھوتہ ناممکن، مصطفیٰ کمال
-
امن جبری نقل مکانی روکنے کا سب سے اہم ذریعہ، برہم صالح
-
یمنی حکومت اور حوثیوں میں لڑائی سے انسانی بحران سنگین، یو این ادارے
-
سلامتی کونسل: سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، یمنی حکومت کی حمایت
-
مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد خطے میں امن و استحکام کا قیام، شہباز شریف
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.