عمران خان کی رہائی کا فی الحال کوئی امکان نہیں، لیکن کیا ہو سکتا ہے؟ نئی پیشگوئی سامنے آگئی

عمران خان کی ہسپتال آمدورفت شروع ہوسکتی ہے، بشریٰ بی بی کو بنی گالہ منتقل کیا جا سکتا ہے، بہنوں کو رہا کیا جاسکتا ہے، بشریٰ بی بی کی بنی گالہ منتقلی دراصل ایک نئی اسٹرٹیجی کا حصہ ہوگی؛ تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کالم

Sajid Ali ساجد علی پیر 5 اکتوبر 2026 10:58

عمران خان کی رہائی کا فی الحال کوئی امکان نہیں، لیکن کیا ہو سکتا ہے؟ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 اکتوبر 2026ء) ملک کے سینئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ برسوں کی رپورٹنگ کے تجربے کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ موجودہ مذاکرات کے دائرہ کار کی کچھ طے شدہ حدود ہیں جن سے باہر نکلنے کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
اپنے کالم میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ مذاکرات کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ عمران خان کی ہسپتال آمدورفت شروع ہو جائے، بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل سے بنی گالہ منتقل کر دیا جائے، اور پی ٹی آئی کی زیرِ حراست خواتین رہنماؤں و بہنوں کو رہا کر دیا جائے، تاہم بانی پی ٹی آئی کی فوری رہائی یا ان کی سیاست میں باضابطہ واپسی کا اس وقت دور دور تک کوئی امکان موجود نہیں۔

کالم نگار نے انکشاف کرتے ہوئے لکھا کہ بشریٰ بی بی کو بنی گالہ منتقل کرنا دراصل ایک نئی سیاسی اسٹرٹیجی کا حصہ ہو گا جس کا مقصد علیمہ خانم اور بشریٰ بی بی کے دونوں گروہوں کو تقسیم کرنا ہے، چونکہ عمران خان اپنی بہن کی نسبت اپنی اہلیہ کی بات زیادہ مانتے ہیں، اس لیے بشریٰ بی بی کی بنی گالہ منتقلی سے علیمہ خانم کا اثر و رسوخ اور پارٹی پر طاقت کمزور ہو جائے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت اور مقتدرہ دونوں سوشل میڈیا اور یوٹیوبرز کی جارحانہ بیانیہ سازی سے شدید تنگ ہیں، اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ تحریکِ انصاف کو تقسیم کر کے اسے اوورسیز پی ٹی آئی اور مقامی پی ٹی آئی جیسے واضح دھڑوں میں بانٹ دیا جائے، اس وقت مقتدرہ اور اہلِ سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے دونوں کی عزت اور ساکھ میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، لیکن اگر مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو گئے تو ملک میں مایوسی اور سیاسی اندھیرا مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔

سہیل وڑائچ کا مزید کہنا ہے کہ کوئی انقلاب نہیں آنے والا، اور نہ ہی اس سے کوئی حکومت تبدیل ہونے والی ہے، تاہم اگر ماحول میں کشیدگی کم ہو جائے، پارلیمان فعال ہو جائے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان میل ملاقات کا سلسلہ شروع ہو جائے، عمران خان کا ہسپتال میں معائنہ اور قیدی خواتین کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کر لیا جائے تو یہی اس طویل بحران میں مذاکرات کی بہت بڑی کامیابی کہلائے گی، وگرنہ صورتِ حال وہیں کی وہیں اٹکی رہے گی۔