لاہور میں غریب رکشہ ڈرائیور کو مبینہ طور پر اسکول کو پنکھا عطیہ کرنا پڑ گیا

رکشہ ڈرائیور کی بیٹی سکول میں پڑھتی ہے، گرمی کے باعث پڑھنا مشکل تھا، غریب باپ سے بیٹی کی مشکل نہ دیکھی گئی تو اس نے اپنی کمائی سے پنکھا خرید کو سکول کو عطیہ کیا؛ صحافی محمد عمیر کی ایکس پوسٹ

Sajid Ali ساجد علی پیر 5 اکتوبر 2026 11:52

لاہور میں غریب رکشہ ڈرائیور کو مبینہ طور پر اسکول کو پنکھا عطیہ کرنا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 اکتوبر 2026ء) پنجاب حکومت کے تعلیمی دعوؤں اور زمینی حقائق ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے ہیں جہاں لاہور کے ایک سرکاری اسکول میں بنیادی سہولتوں کے فقدان کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں گورنمنٹ ہائی اسکول چوبرجی کے فیس بک پیج پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ نے حکومتی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھا دیئے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صحافی محمد عمیر کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ کے مطابق پنجاب حکومت ایک طرف صوبے بھر میں تعلیم کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے اور سہولتوں کے بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے، لیکن دوسری جانب لاہور کے اس اسکول کے حالات یہ ہیں کہ ایک غریب رکشہ ڈرائیور کو اپنی بیٹی کی خاطر اسکول کو پنکھا عطیہ کرنا پڑا۔

(جاری ہے)

اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ رکشہ ڈرائیور نوید کی بیٹی مذکورہ اسکول میں زیرِ تعلیم ہے، جہاں شدید گرمی اور پنکھے نہ ہونے کی وجہ سے معصوم بچی کے لیے کلاس روم میں بیٹھ کر پڑھنا محال ہو چکا تھا، ایک غریب باپ سے اپنی بیٹی کی یہ تکلیف دیکھی نہ گئی، اور اس نے اپنی روزمرہ کی محدود کمائی سے پیسے بچا کر خود ایک پنکھا خریدا اور اسکول کی انتظامیہ کو عطیہ کر دیا تاکہ اس کی بیٹی اور دیگر بچے گرمی سے بچ سکیں۔

صحافی محمد عمیر نے واضح کیا ہے کہ یہ فیس بک پوسٹ چھ روز پرانی ہے اور تادمِ تحریر سوشل میڈیا پر موجود ہے، جو سرکاری اسکولوں کی ابتر حالت اور حکومت کی جانب سے فنڈز کی فراہمی میں ترجیح پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔