Live Updates

مکہ دفاعی معاہدہ کے تحت پاکستان اور ترکی کا سعودی عرب میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ

DW ڈی ڈبلیو منگل 6 اکتوبر 2026 12:20

مکہ دفاعی معاہدہ کے تحت پاکستان اور ترکی کا سعودی عرب میں فوج تعینات ..
  • مکہ دفاعی معاہدہ کے تحت پاکستان اور ترکی کا سعودی عرب میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ

مکہ دفاعی معاہدہ کے تحت پاکستان اور ترکی کا سعودی عرب میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ

یہ فیصلہ پیر کو ریاض میں تینوں ممالک کے وزرائے دفاع اور خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد کیا گیا۔ اجلاس میں سعودی عرب پر حالیہ حملوں، بالخصوص مسلمانوں کے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے والے حملوں کا ذکر کیا گیا۔

تاہم مشترکہ بیان میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کا نام نہیں لیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی تعداد یا فوجی سازوسامان کی تفصیلات بھی نہیں بتائی گئیں۔

7 اگست کو معاہدے پر دستخط کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب مکہ دفاعی اتحاد کے تحت باہمی دفاعی شق کو فعال کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ کمیٹی نے ’’اتحاد کے دائرہ کار میں اجتماعی دفاعی معاہدے کو فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ حملوں اور ان کے تمام ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اتحاد نے ’’مملکت اور مقدس مقامات کے خلاف ہونے والے سنگین حملوں کا سامنا کرنے کے لیے فریقین نے اتحاد اور یکجہتی‘‘ کا بھی اعادہ کیا ہے۔

پاکستان کا بیان

پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک الگ بیان میں کہا گیا کہ تینوں ممالک سعودی عرب کو ’’متفقہ فوجی دستے اور دفاعی صلاحیتیں فراہم کریں گے اور ان کی فوری تعیناتی یقینی بنائیں گے۔‘‘

بیان کے مطابق یہ اقدامات ’’منظور شدہ انتظامات‘‘ کے تحت اور ہر ملک کے قوانین کے مطابق کیے جائیں گے۔

پاکستانی فوج کے دستے پہلے ہی طویل عرصے سے جاری فوجی شراکت داری کے تحت سعودی عرب میں موجود ہیں۔

پاکستان اور ترکی کے ممکنہ کردار سے متعلق ایک سوال پر پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ دونوں ممالک آپریشنل علاقے میں موجود ہیں، تاہم اس وقت صرف سعودی فورسز ہی براہِ راست لڑائی میں حصہ لے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترکی اور پاکستان فی الحال ’’معاون کردار‘‘ ادا کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان نگرانی اور معلومات اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں میں شامل ہے۔

حملے جاری

یہ اعلانات ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حامی فورسز نے حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی شروع کی ہے۔ حوثی ملیشیا نے گزشتہ ماہ یمنی حکومت سے متعدد علاقے چھین لیے تھے۔

سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحیرہ احمر کے بندرگاہی شہر مخا پر دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور اب اہم باب المندب آبنائے ان کے کنٹرول میں ہے۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یمنی حکومت کی کارروائی میں اپنی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے 100 جنگی طیارے فضائی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

دوسری جانب حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ساحلی شہر رابغ میں آرامکو ریفائنری پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے ایک ہوائی اڈے، ایئربیس اور دیگر اہم تنصیبات سمیت متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔

تاہم ریاض کی جانب سے حوثیوں کے ان دعوؤں کی تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔

ادارت‌: کشور مصطفیٰ

Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات