اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 09 اکتوبر 2026ء) جرمنی کی فارن اینٹیلیجنس سروس، بی این ڈی، کے سابق سربراہ ہاننگ کو اس ہفتے جاسوسی اور غداری کے شبے میں گرفتار کیا گیا، جس سے یورپ کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس حلقوں میں تشویش پھیل گئی ہے۔ بی این ڈی میں ان کے سابق چیف آف اسٹاف کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
جرمن
میڈیا کے مطابق بظاہر اس معاملے کا روس سے تعلق نہیں ہے۔ تاہم سینکڑوں خفیہ دستاویزات کی مبینہ خرید و فروخت اور غیر ملکی حکام تک انٹیلی جنس معلومات پہنچائے جانے کے الزامات نے بی این ڈی کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب یورپ میں سکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔جرمنی
کے ایک سکیورٹی عہدیدار نے اس صورتِ حال کو ''مکمل تباہی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی این ڈی کے شراکت دار خفیہ اداروں کے ساتھ تعلقات پر اس کے ممکنہ اثرات ''انتہائی سنگین‘‘ ہو سکتے ہیں۔(جاری ہے)
ہاننگ 2005 میں بی این ڈی سے الگ ہو گئے تھے۔ سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے ایک نجی مشاورتی کمپنی قائم کی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مانفریڈ ڈی نامی ایک عہدیدار کو خفیہ دستاویزات فراہم کرنے کے لیے رقم دینے پر اتفاق کیا تھا۔
مانفریڈ ڈی بی این ڈی کے متعدد سربراہوں کے چیف آف اسٹاف رہ چکے تھے، جن میں ہاننگ بھی شامل ہیں۔
وہ مارچ 2026 میں ریٹائر ہوئے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ہاننگ کو تقریباً دو ہزار دستاویزات فراہم کیں، جن میں سے کم از کم بعض کو خفیہ قرار دیا گیا تھا۔ہاننگ پر شبہ ہے کہ انہوں نے ان دستاویزات سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر غیر ملکی انٹیلی جنس حکام کو بریفنگ دی۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کون سی معلومات فراہم کی گئیں اور اس میں کون سے دیگر فریق ملوث تھے۔
خطرات کا جائزہ
جرمن
میڈیا کے مطابق زیرِ تفتیش دستاویزات میں سے بہت سی وزیراعظم کے دفتر یا دیگر اعلیٰ حکام کے لیے تیار کردہ بریفنگز تھیں، نہ کہ براہِ راست انٹیلی جنس ذرائع سے حاصل کردہ اصل معلومات۔ایک یورپی انٹیلی جنس عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ بعض یورپی خفیہ ادارے اب اس خطرے کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ماضی میں جرمنی کے ساتھ شیئر کی گئی معلومات کہیں افشا تو نہیں ہوئیں۔
ایک دیگر یورپی انٹیلی جنس عہدیدار نے کہا کہ ان کا ادارہ ممکنہ نقصان کا جائزہ لے رہا ہے اور توقع ہے کہ دیگر شراکت دار ادارے بھی ایسا ہی کر رہے ہوں گے۔
ایک تیسرے عہدیدار کے مطابق بی این ڈی سے چوری ہونے والی دستاویزات میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی معلومات بھی شامل تھیں۔ سی آئی اے نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
گزشتہ ماہ مشرقی جرمنی کی ایک ریاست میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کی انتخابی کامیابی کے بعد جرمن انٹیلی جنس حکام کو یہ خدشہ بھی لاحق ہوا تھا کہ روس کے حامی عہدیدار خفیہ معلومات ماسکو تک پہنچا سکتے ہیں۔
تاہم ہاننگ کا معاملہ اس لیے خاص طور پر تشویش ناک سمجھا جا رہا ہے کہ ہاننگ اور مانفرڈ ڈی دونوں کا تعلق جرمنی کے سکیورٹی نظام کے اعلیٰ حلقوں سے رہا ہے۔
ادارت: کشور مصطفیٰ