عمران خان بتائیںخود انہوں نے کس کس کی وفاداریاں خریدیں، اسفندیارولی

جمعہ اپریل 23:59

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ اپریل ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پختون قوم کی خدمت اور خطے میں پاک سیاست ہمارے اسلاف کی میراث ہے، جسے جاری رکھا جائیگا، باچا خان اور ولی خان کے افکار کی روشنی میں پختونوں اور تمام مظلوم قومیتوں کی بقاء کیلئے آئینی جدوجہد جاری رکھیں گے، اٹھارویں ترمیم کو رول بیک نہیں کرنے دینگے،چیف جسٹس صاحب نے وزیراعلی اور صوبائی حکومت کے دعووں کاسارا پول کھول دیاہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلعی چارسدہ کے یونین کونسل نستہ اور یونین کونسل ڈھیرئی زرداد کے زیراہتمام منعقدہ جلسہ عام سے کیا۔اس موقع پر صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان اورچارسدہ کی ضلعی قیادت بھی موجود تھی۔

(جاری ہے)

اسفندیارولی خان نے اپنے خطاب میں فاٹا انضمام میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں مزید لیت و لعل اور تاخیر مزید پیچیدہ مسائل کا پیش خیمہ بنے گی، اس لئے قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کرکے صوبائی اسمبلی میں نمائیندگی دی جائے، انہوں نے کہا کہ فاٹا کے تمام مسائل کا حل خیبر پختو نخوا میں انضمام سے وابستہ ہے، فاٹا انضمام کے مطالبے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہمارا مطالبہ ہے کہ فاٹا کو پختونخوا اسمبلی میں نمائیندگی دی جائے اور ایک آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی کابینہ میں انہیں حصہ بھی دیا جائے ۔

اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ بعض اوقات سیاسی مصلحتیں اڑے آجایا کرتی ہیں لیکن ہمیں رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی وہ تقریر یاد ہے جسے انہوں نے وصیت کا نام دیا تھا، اس وصیت میں رہبر تحریک نے صوبے کے نام کی تبدیلی اور حقوق کی پامالی کی بات خصوصیت کے ساتھ کی تھی، اسنفدیارولی خان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان کی دونوں وصیتوں کو پورا کردیا، اس صوبے کو پختونخوا کا نام دیدیا اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبے کے حقوق حاصل کئے اور اب اسے رول بیک کرنے کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائیگی اور اس اقدام کے خلاف ہم میدان میں نکلیں گے۔

انہوں نے پختونخواملی عوامی پارٹی کے محمودخان اچکزئی اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا کہ وہ کیونکر فرنگی کی چھوڑی وراثت کا دفاع کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے ان 20 ممبران کے نام تو لے لئے جو سینٹ الیکشن کے موقع پر بک گئے تھے مگر یہ نہیں بتایا کہ خود عمران خان نے کس کس کی وفاداریاں خریدیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پتہ تھا کہ ہم سینٹ کی نشست نہیں جیت سکتے لیکن ہمارا خیال تھا کہ اپنے ارکان کو بدنامی سے بچانا ضروری ہے یوں ثابت ہوگیا کہ ہر کوئی بک سکتا ہے مگر باچا خان کے پیروکار بکاو مال نہیں ہیں۔

ہمیں ضمیروں کو فروخت کرنے میںنہ ہی خریدنے میں دلچسپی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلی پرویز خٹک کس منہ سے اے این پی پر الزامات لگاتے ہیں جبکہ وہ اس پارٹی کی حکومت میں وزیر رہے ہیں۔ انہیں اس وقت کرپشن کیوں نظر نہیں آئی پانچ سال ہوئے مگر عوامی نیشنل پارٹی کے کسی وزیر، ایم این اے، سنیٹر یا ایم پی اے پر کچھ ثابت نہیں کیا جاسکا۔اے این پی کے سربراہ کا کہنا تھا قومی وطن پارٹی کے سربراہ افتاب احمد خان شیرپاو کس منہ سے قوم اور قوم پرستی کی راگ الاپ رہے ہیں جب 12 مئی کو کراچی میں پختون اپنے جنازے اٹھارہے تھے اس وقت موصوف پرویز مشرف حکومت میں وزیرداخلہ تھے اور اس تقریب میں اسٹیج پر براجمان تھے جس میں جنرل مشرف مکے لہرا لہراکر سوگوار خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکارہے تھے۔

انہوں نے کہا کہآفتاب خان شیرپاو میں اخلاقی جرات ہوتی تو کم ازکم استعفی ہی دیدیتے۔پرویز مشرف کے خواری اب ہمیںکس طرح للکاریں گی اسفندیارولی خان نے آفتاب شیرپاو کی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے ساتھ گرم سرد تعلقات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موصوف اصول نامی کسی چیز سے اشنا نہیں ہیں۔ ۔متحدہ مجلس عمل کی بحالی پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے اسفندیارولی خان نے کہا کہ یہ سارا کھیل اقتدار کیلئے ہے ورنہ مولانا فضل الرحمن اگر ایک فون کال پر فاٹا اصلاحات کا بل رکواسکتے ہیں تو شریعت کیوں نافذ نہیں کراتی

Your Thoughts and Comments