نوازشریف گلف اسٹیل کےکاروبار میں کسی بھی طرح شامل نہیں رہے

نوازشریف سےمتعلق زبانی شواہد بھی نہیں ملےکہ جن سےظاہر ہو نواز شریف ہل میٹل کاروبارکی ڈیل کرتے ہوں،العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء کی جرح

جمعہ جون 17:11

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ جون ء): مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرس میں استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے بتایا کہ ایسی دستاوزیات نہیں ملیں کہ نوازشریف گلف اسٹیل کے کاروبار میں کسی بھی طرح شامل رہے ہوں، نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے آج احتساب عدالت میں واجد ضیاء پر جرح جاری رکھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آج پھر احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے موقع پرسابق وزیراعظم نوازشریف عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پرعدالت میں نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء سے سوال کیا کہ آپ اپنی تفتیش کا بتائیں کب قائم ہوئی؟ جس پرواجد ضیاء نے بتایا کہ ملزمان کی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق2005ء میں رجسٹرڈ ہوئی۔

(جاری ہے)

احتساب عدالت میں سربراہ پاناما جے آئی ٹی واجد ضیاء نے واضح کیا کہ دستاویزات میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی کہ نوازشریف کو ہل میٹل کا کاروبار چلانے کی اتھارٹی دی گئی ہو۔ قرض لینے کا اختیار ملا ہو اور ایسی بھی کوئی دستاویزات نہیں ملی کہ ہل میٹل کی طرف سے نواز شریف مالی اداروں سے ڈیل کرتے ہوں۔ انہوں نے عدالت کو واضح کیا کہ نوازشریف سے متعلق زبانی شواہد بھی نہیں ملے کہ جن سے ظاہر ہو نواز شریف ہل میٹل کاروبار کی ڈیل کرتے ہوں۔

اسی طرح نوازشریف سے متعلق گلف اسٹیل میں بھی کسی طرح شامل ہونے کی شواہد نہیں ملے۔ واضح رہے گزشتہ روز احتساب عدالت میں نوازشریف کےوکیل خواجہ حارث نے سوال کیا کہ ’’کیا کسی نے کہا کہ نواز شریف العزیزیہ اسٹیل مل کے شیئرہولڈر ہیں؟‘‘ جس پر واجد ضیاء نے جواب دیا کہ شیئرہولڈر بھی مالک ہونے کی ایک قسم ہے۔ شیئر ہولڈنگ کی بات آجائے تو سب بات واضح ہوجائے گی ۔

واجد ضیاء نے کہا کہ براہ راست کسی گواہ نے بیان نہیں دیا کہ نواز شریف العزیزیہ مل کے مالک ہیں۔ ایسی دستاویز یا زبانی شواہد نہیں ملے جو ظاہرکرے کہ العزیزیہ کیلئے رقم پاکستان سے گئی ہو۔جےآئی ٹی نے جب نواز شریف سے پوچھا کہ پیسے باہرگئے ہیں توانہوں نے کہا نہیں گئے۔ اسی طرح ایسی کوئی دستاویزنہیں ملی جو ظاہرکرے کہ نوازشریف مل کی فروخت میں شامل ہوئےہوں؟ ایسی کوئی دستاویزنہیں کہ ملز کی فروخت کی رقم نوازشریف کے اکاؤنٹ میں گئی ہویا کیش ملا ہو۔

کسی شخص نے زبانی طور پر نہیں کہا کہ نواز شریف مل کی فروخت میں شامل رہے ہوں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ شہبازشریف نے بالواسطہ اشارہ دیا کہ نوازشریف شیئرہولڈر ہیں۔نوازشریف سے پوچھا کہ پیسے باہر گئے توانہوں نے کہا کہ نہیں گئے۔ اسی طرح کسی نے نہیں کہا کہ نوازشریف مل کی فروخت میں شامل رہے۔ تاہم احتساب عدالت نے نوازشریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس میں واجد ضیاء پر جرح پیر تک ملتوی کردی گئی ہے۔

Your Thoughts and Comments