akhri udhaar

Akhri Udhaar

آخری ادھار

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ کہنے لگا: اچھا بھائی ! تمھاری مرضی۔ ہم آج تیسرے دن بھی بھوکے رہ لیں گے۔ اس کے لہجے میں اتنا درد تھا کہ رحیمو کا کا کے دل کو کچھ ہوا۔ وہ فورا ہی بول پڑا

ڈاکٹر عمران مشتاق

وہ بڑی لجاجت سے کہہ رہا تھا :'' بھائی ! مجھے آخری بار دھار دے دو؟“رحیمو کا کانے دوٹوک انداز میں جواب دیا: "تمھارا تین مہینے کا حساب باقی ہے۔ جب تک وہ ادا نہیں ہوتا، میں تمہیں مزیدا دھار نہیں دے سکتا۔

وہ تقریبا رو دینے کے قریب تھا۔ بھرائی ہوئی آواز میں بولا : آج کے بعدتم کبھی مجھے ادھار مانگتے ہوئے نہیں دیکھو گے۔ بس آخری بار۔ رحیمو کاکا نے ہاتھ اٹھایا اور بولا:” بس ایک بار کہہ دیا تو کہہ دیا “
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔
کہنے لگا: اچھا بھائی ! تمھاری مرضی۔ ہم آج تیسرے دن بھی بھوکے رہ لیں گے۔ اس کے لہجے میں اتنا درد تھا کہ رحیمو کا کا کے دل کو کچھ ہوا۔ وہ فورا ہی بول پڑا:”اچھاٹھرو۔ میں کچھ کرتا ہوں مگر یہ آخری بار ہوگا۔

(جاری ہے)

“ اس نے جواباََ شکر گزاری کے اظہار کے طور پر دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔

رحیمو کا کا اسے سودا سلف لے کر جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ .
عبدالرحیم کی شہر میں ایک چھوٹی سی کریانہ کی دوکان تھی۔ اسے سب رحیمو کا کا کہہ کر بلاتے تھے۔ اس کے زیادہ تر گاہک سامان ادھار پر لیتے تھے اور مہینے کے شروع میں پچھلے مہینے کا حساب برابر کر لیتے تھے۔
اکثر تو کئی کئی مہینے رقم ادا نہ کر پاتے۔ وہ بھی ان میں سے ایک تھا۔
در یا پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ وہ مایوس تھا۔ زندگی میں کوئی امید باقی نہ رہی تھی، اسی لیے وہ دریا کے پل پر آیا تھا۔ اس پل پر دور دور تک کوئی نہیں تھا لیکن نہیں کچھ فاصلے پر کوئی تھا۔
کچھ سوچ کر وہ اس کی طرف بڑھا۔ وہ ایک نوجوان تھا ، جس کی ایک ٹانگ دریا کے پل کے نیچے لٹک رہی تھی۔ اس نے تیزی سے بڑھ کر نوجوان کو جکڑ لیا۔وہ نوجوان چلا یا : مجھے مت روکو، ایسی زندگی کا کیا فائدہ؟وہ لڑکے کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے بولا : نہیں بھائی ! ایسا نہ کر یں۔
آپ نوجوان ہیں۔ زندگی بہت قیمتی چیز ہے۔“ -نوجوان نے پوچھا: اگر زندگی قیمتی چیز ہے تو رات کے وقت تم یہاں کیا کررہے ہو؟“وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا :” میں… یہ مت پوچھیں ،، نوجوان نے غصے سے کہا: کیوں نہ پوچھوں؟ تم نے مجھے روک کر اچھا نہیں کیا۔
وہ نوجوان کوپل کی ریلنگ سے دور کھینچتے ہوئے بولا : اچھا ادھر آئیں۔ میں آپ کو ساری بات بتاتا ہوں۔“نوجوان اس کے ساتھ کھنچا چلا آیا۔ نوجوان کی کار ایک طرف کھڑی تھی۔ وہ دونوں کار میں بیٹھ گئے تو اس نے نوجوان سے کہا: میں تعلیم یافتہ انسان ہوں مگر میری تعلیم کی قدر کسی نے نہیں کی۔
بس چھوٹی موٹی نوکریاں کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہوں۔ پچھلے تین مہینے سے بے روز گار ہوں۔ آج میں نے اپنے محلے کے دکان دار رحیم کا کا سے آخری بار ادھار مانگا تھا، جو اس نے بڑی مشکل سے دیا۔“ نوجوان نے حیرت سے پوچھا: ”آخری آدھار... کیا مطلب ؟ کیا آج کے بعد تم کبھی ادھا رنہیں مانگو گے؟“نوجوان کی حیرت کو محسوس کر کے وہ مسکرایا: مطلب میں بعد میں سمجھاوٴں گا۔
“وہ نو جوان اسے اپنے گھر لے گیا تھا۔ نوجوان نے اسے بتایا:'' میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ میرے والد کا ابھی حال ہی میں انتقال ہو گیا۔ والدہ بھی نہیں تھیں۔ میں اکیلا اور نا تجر بے کار تھا ، اس لیے رشتے داروں اور دوسرے لوگوں نے مجھے اتنا ستایا تھا کہ مجھے اپنی زندگی بے کار لگنے کی تھی۔
والد کی جائیداد اور رقم میرے نام ہے لیکن رشتے دار میری ساری دولت چھین لینا چاہتے تھے، اسی لیے میں دریا پر گیا تھا ، تا کہ دنیا والوں سے جان چھٹر ا سکوں اس وقت میں زندگی سے مایوس تھا کہ اس دوران تم نے مجھے بچالیا۔“اس نے بھی نوجوان کو اپنی کہانی سنائی : میں نے اپنی زندگی کا آخری ادھارلیا تھا۔
میں نے سوچا تھا کہ جب میں ہی نہیں رہوں گا تو ادھار بھی نہیں لینا پڑے گا۔ آخری بار گھر کا سودا سلف اپنی بیوی اور بچوں کے حوالے کیا اور خود دریا میں کودنے کے لیے آ گیا تھا، مجھے احساس ہے کہ میرا یہ عمل نا مناسب تھا۔نوجوان کا نام کاشف تھا۔
اس کے والد کی ایک بڑی فیکٹری تھی۔ اب کاشف اس کا مالک تھا۔ کاشف نے اسے اپنے ساتھ کام کرنے کی دعوت دی تھی۔ وہ چوں کہ تعلیم یافتہ تھا، اس لیے اس نے تین ہی مہینے میں کاشف کے کارو با رکواتنی اچھی طرح سے سنبھالا تھاکہ اب وہ کاشف کی فیکٹری کا جنرل میجر تھا۔
کاشف اس پہ بہت بھروسا کرتا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی مدد سے مایوسی اور نا امیدی کی زندگی سے باہرنکل آئے تھے اوررحیمو کاکا نے آج اسے تین مہینے کے بعد دیکھا تھا۔ دیکھتے ہی طنز کیا: کیوں آج پھر آخری بارا دھار لینے آئے ہو؟ وہ بڑے آرام سے بولا : نہیں رحیمو کا کا! آخری بار کا مطلب آخری بار ہی ہوتا ہے۔
میں ادھار مانگنے نہیں آیا۔رحیمو کا کا نے تیکھالحجہ اختیار کیا: تو کیا تین مہینے کا حساب چکتا کرنے آئے ہو؟“وہ اطمینان سے بولا:’ ایسا ہی ہے۔ میں آج تمھارا سارا قرض اتارنے آیا ہوں۔ مجھے بتاوٴ کہ تمھاری کتنی رقم بنتی ہے؟“رحیمو کا کا فوراََ ہی حساب جوڑنے میں لگ گیا۔
وہ رحیمو کا کا کی طرف دیکھتے ہوئے کسی اور ہی جہاں میں کھو گیا۔رحیمو کاکا کی آواز اس سے حال میں واپس لے آئی ارے میاں ! کہاں کھو گئے ؟ اتنی دیر سے آوازیں دے رہا ہوں۔“بس رحیمو کا کا ! ایسے ہی آخری ادھار کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
آج آپ کے سارے پیسے دے کر میں آخری ادھار چکا دوں گا اور اللہ سے مجھے بڑی امید ہے کہ وہ مجھے آئندہ اس آزمائش میں نہیں ڈالے گا“رحیمو کاکا کا سارا حساب چکا کر وہ بڑے پر وقار انداز میں اپنے راستے پر چل پڑا اور رحیمو کا کا حیرت سے اسے جاتا ہوا دیکھتارہا۔

Your Thoughts and Comments