بہاولپور،شوگر ملز کے سامنے گنے سے لدی گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں

ضلع انتظامیہ اور کین کمشنر پنجاب کو مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے،کاشتکاروں کا مطالبہ

جمعہ 25 دسمبر 2020 14:10

بہاولپور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 دسمبر2020ء) ضلع بہاولپور میں گنے کے کرشنگ سیزن کا آغاز ہوتے ہی شوگر ملز کے سامنے گنے سے لوڈ ٹریکٹر ٹرالیوں اور ٹرالرز کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔تفصیلات کے مطابق ضلع بہاولپور میں گنے کے کرشنگ سیزن کا آغاز ہوتے ہی شوگر ملز کے سامنے گنے سے لوڈ ٹریکٹر ٹرالیوں اور ٹرالرز کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں جس کے باعث کاشت کاروں کو گنے کی فروخت کے لیے کئی کئی دن انتظار کرنا پڑ رہا ہے، گنے کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے شوگر ملز اور نجی خریدار کاشت کاروں سے مقررہ سرکاری ریٹ سے چند روپے زیادہ میں خریداری کر رہے ہیں۔

حکومتِ پنجاب کی طرف سے پابندی کے باوجود ضلع میں جگہ جگہ گنے کی خریداری کے لیے نجی خریداری پوائنٹس لگ چکے ہیں۔

(جاری ہے)

نجی خریدار گنے کی خریداری شوگر ملز کے مقابلے میں ایک دو روپے فی 40 کلو گرام زیادہ قیمت میں کر رہے ہیں۔کاشت کاروں کے مطابق نجی خریدار گنے کے وزن میں بہت زیادہ کٹوتی کر رہے ہیں۔شوگر ملز اس سال گنے کی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے اپنی ملز کی ضرورت کے مطابق گنے کی خریداری کے لیے کاشت کاروں سے حکومتی مقررہ ریٹ سے زیادہ قیمت میں گنا تو خرید رہی ہیں تاہم وزن میں کٹوتی اور کاشت کاروں کو ادائیگی میں بلا جواز تاخیر کر رہی ہیں۔گنے کے کاشت کاروں کا مطالبہ ہے کہ ضلع انتظامیہ اور کین کمشنر پنجاب کو مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

متعلقہ عنوان :

بہاولپور میں شائع ہونے والی مزید خبریں