میونسپل کارپوریشن حیدرآباد کی جانب سے کتا مار مہم کا آغاز قاسم آباد میں جاری کتا مارمہم کے دوران کتوں کو دیاجانے والا زہربے اثرنکلا

اتوار ستمبر 23:10

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 ستمبر2019ء) میونسپل کارپوریشن حیدرآباد نے کتوں کی بھر مار اورشہریوں کو کاٹنے کے واقعات کے بعدسٹی اورلطیف آبادکی 96یونین کونسلوں میں ’’کتا مارمہم ‘‘کا آغاز کرتے ہوئے 100سے زائد کتے ماردئیے،مہم ایک ماہ تک جاری رہے گی،کتوں کو مارنے کے لئے 5ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں ،میونسپل کمیٹی قاسم آباد میں جاری کتا مارمہم کے دوران کتوں کو دیاجانے والا زہربے اثرنکالا۔

(جاری ہے)

حیدرآباد میونسپل کارپوریشن شعبہ ہیلتھ سروسز نے سٹی اورلطیف آباد کے علاقوں میں آوارہ کتوں کی بھرمار ،کتوں کے گھروں میں گھسنے اورپبلک مقامات پر کتوں کے غول کی موجودگی پر 96یونین کونسلوں میں ’’کتامارمہم ‘‘کاآغاز کردیا،اس سلسلے میں ڈائریکٹر ہیلتھ اینڈسروسزمحمد ارشدسعید شیخ نے چیف سینٹری انسپکٹرزرحمت علی راجپوت،احمد حسین،خالد خورشید،اشرف حسین صدیقی،شہزاد احمد کی سرکردگی میں 5ٹیمیں تشکیل دی ہیں ،جبکہ 96یونین کونسلوں کو 5حصوں میں تقسیم کرکے مرحلہ وارکتامارمہم کی حکمت علی ترتیب دی گئی ہے ،مذکورہ مہم کاآغاز لطیف آباد کی تمام یونین کونسلوں سے کیاگیا ہے جس کے دوران اب تک 100سے زائدکتوں کو زہریلے کیپسوں کھلاکر مراگیا اورمردہ کتوں کو پبلک مقامات اورکچراکنڈیوں سے اٹھاکر شہر سے باہر منتقل کیاگیا ہے ،ڈائریکٹر ہیلتھ ارشد سعید شیخ کا کہناہے کہ بلدیہ عملہ مذکورہ مہم کی مکمل کامیابی کے سلسلے میں یونین کونسلوں کے چیئرمینز ،کونسلروں اورمعززین شہر سے رابطے میں ہے ،جبکہ ٹائون کمیٹی قاسم آباد میں چند روز قبل شروع کی جانے والی کتا مارمہم ابتدائی مراحل میں ہی کرپشن کی بھینٹ چڑگئی ہے ،معلوم ہواہے کہ کتوں کو مارنے کے لئے استعمال کئے جانے والا زہربے اثرنکالا ہے ،جس پر شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے جبکہ تاحال زہر کی خریداری میں ملوث افسران کے خلاف کاروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے ۔

متعلقہ عنوان :

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments