اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت:خواجہ حارث کی واجد ضیاءپر جرح جاری

ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت:خواجہ حارث کی واجد ضیاءپر جرح جاری

اسلام
آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس
ایجنسی۔03اپریل۔2018ء)اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نوازشریف ، مریم نواز
اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی جس کے
دوران نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءپر آج
پھر جرح کی۔دوران جرح احتساب عدالت کے جج نے واجد ضیاءکی طرف اشارہ کر کے
خواجہ حارث کو مشورہ دیا کہ آپ انہیں بہت تھکا دیتے ہیں، انہیں چائے پلایا
کریں۔

اس سے قبل خواجہ حارث نے واجد ضیاءسے پوچھا کہ آپ کے پاس جو جواب آیا
اس میں باہمی قانونی معاونت کا حوالہ دیا گیا، کیا یہ درست ہے؟جس پر واجد
ضیاءنے بتایا کہ خط کے مطابق یہ بات درست ہے۔خواجہ حارث نے پوچھا کہ خط میں
نہیں لکھاکہ میوچل لیگل ریکویسٹ کےساتھ کوئی دستاویزلگائی گئی ہوں،یہ بات
درست ہے کہ درخواست کے ساتھ کوئی کاغذ نہیں لگایا گیا؟واجد ضیا ءنے جواب
دیا کہ جے آئی ٹی نے ایم ایل اے کے تحت 4 خطوط بھیجے، دو خطوط کا تعلق
خریدوفروخت کے معاہدے سے تھا۔

(خبر جاری ہے)

خواجہ حارث نے کہا کہ لیکن اس میں دبئی کورٹ
سسٹم، دبئی کسٹم، سینٹرل بینک کی کوئی دستاویزنہیں لگائی گئی، جوخط لکھا
گیا اس پر سوال نمبر2،3، 4سے متعلق کوئی دستاویز نہیں لگائی گئی۔واجد
ضیاءنے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ خط میں تین سوالوں سے متعلق کوئی
دستاویز نہیں لگائیں۔خواجہ حارث نے جرح کے دوران پوچھا کہ باہمی قانونی
مشاورت کے لیے کب اور کتنے خطوط لکھے؟واجد ضیاءنے بتایا کہ سینٹرل اتھارٹی
انٹرنیشنل کوآپریشن ڈیپارٹمنٹ وزارت انصاف دبئی کو 7خطوط لکھے، 7میں سے
4خطوط ایک ہی دن بھیجے گئے، باہمی قانونی مشاورت کے تحت لکھے گئے خطوط سے
متعلق ریکارڈ سربمہر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ درست نہیں کہ جے آئی ٹی نے
والیم ٹین کو سربمہرحالت میں پیش کیا، جے آئی ٹی کی طرف سے اوپن کورٹ میں
سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی تھی، والیم ٹین کو سیل کرنے کا حکم عدالت میں
سنایا گیا تھا،تحریری حکم کا علم نہیں، والیم ٹین کو سربمہر حالت میں نہیں
دیکھا۔خواجہ حارث نے کہا کہ کیا آپ نے اس بات کی تحقیقات کیں کہ 1978ءمیں
75 فیصد شیئرز کی فروخت کے معاہدے کے بعد باقی 25 فیصد شیئرز کا کیا
بنا؟واجد ضیاءکا کہنا ہے کہ اس بات کے جواب کے لیے جے آئی ٹی رپورٹ دیکھنی
پڑے گی۔

خواجہ حارث نے کہاکہ آپ جے آئی ٹی رپورٹ دیکھ کر بتا دیں۔واجد
ضیاءنے جواب دیا کہ اس بات کا جواب جے آئی ٹی رپورٹ کے صفحہ 37 پر موجود
ہے،جے آئی ٹی کے مطابق آہلی اسٹیل ملز کے باقی 25 فیصد شیئرز 1978 ءسے
1986ءکے دوران فروخت ہوئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں