سپریم کورٹ سے شریف خاندان کو بڑا ریلیف مل گیا

کلثوم نواز اور شہباز شریف کے خلاف ایف بی آر کی اپیلیں خارج کر دی گئیں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر 6 دسمبر 2021 14:00

سپریم کورٹ سے شریف خاندان کو بڑا ریلیف مل گیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 06 دسمبر 2021ء) : شریف خاندان کو سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے کلثوم نواز اور شہباز شریف کے اضافی ویلتھ ٹیکس سے متعلق ایف بی آر کی اپیلیں خارج کردی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ کلثوم نواز اور شہباز شریف نے 1994ء سے 1998ء تک ویلتھ ٹیکس جمع کروایا، ایف بی آر نے اضافی ویلتھ ٹیکس کے لیے نوٹس جاری کیے تھے۔

اضافی ویلتھ ٹیکس کیلئے ڈیمانڈ نوٹس کا دیا جانا ضروری ہے، لیکن ایف بی آر کلثوم نواز اور شہباز شریف کو ڈیمانڈ نوٹس بھجوانا ثابت نہ کر سکا، اضافی واجبات کے نوٹس بھی ویلتھ ٹیکس جمع کروانے کے بعد بھیجے گئے۔ یاد رہے کہ شریف خاندان نے ایف بی آر نوٹس لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیئے تھے۔ خیال رہے کہ جنوری 2021ء میں جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی تھی۔

(جاری ہے)

ایف بی آر کے وکیل نے بتایا کہ شریف خاندان نے ویلتھ ٹیکس کی ادائیگی تاخیر سے کی،تاخیر سے ٹیکس ادائیگی پر ایڈیشنل ٹیکس کا نوٹس بھیجا گیا،لیکن شریف خاندان نے ایڈیشنل ٹیکس کا نوٹس لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا،جسٹس عمر عطابندیال نے سوال اٹھایا کہ کیاشریف خاندان نے ٹیکس ریفنڈ کی درخواست دی تھی ،جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے ٹیکس نوٹس 1997ء میں دیا،ایڈیشنل ٹیکس کو نوٹس 2002ء میں دیا گیا،ایف بی آر 5 سال تک کیوں بیٹھا رہا،جسٹس منیب اخترنے سوال اٹھایا کہ ویلتھ ٹیکس کیخلاف شریف خاندان کی اپیلوں پر کیا فیصلہ ہوا،ہو سکتا ہے ویلتھ ٹیکس کیخلاف اپیلیں ٹیکس اپیلیٹ اتھارٹی نے منظور کر لی ہو،لاہور ہائیکورٹ میں رٹ تو ایڈیشنل ٹیکس پر دائر کی گئی تھی،اس پر وکیل نے موقف اپنایا کہ ایف بی آر سے نئی ہدایات لینے کے لیے وقت دیا جائے، جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی تھی۔

سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے ویلتھ ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ایف بی آر کے وکیل کوہدایت کی ہے کہ وہ ادارے ایف بی آر سے نئی ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کریں کہ ویلتھ ٹیکس کے خلاف شریف خاندان کی اپیلوں پر کیافیصلہ ہوا ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments