وفاقی شرعی عدالت نے جعلی خواجہ سراؤں کے سدباب کیلئے تجاویز مانگ لیں

پیر 17 جنوری 2022 14:10

وفاقی شرعی عدالت نے جعلی خواجہ سراؤں کے سدباب کیلئے تجاویز مانگ لیں
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 17 جنوری 2022ء) وفاقی شرعی عدالت نے جعلی خواجہ سراؤں کے سدباب کیلئے تجاویز مانگ لیں  ۔ پیر کو چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت جسٹس محمد  نور مسکانزئی کی سربراہی میں بینچ نے جنس تبدیلی کی اجازت کے قانون کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔  دوران سماعت  درخواست گزار محمد بن ساجد نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ  قانون میں ہر اس شخص کو  خواجہ سرا کہا گیا جو دوسری جنس کا حلیہ اپنائے،رولز میں نادرا کو پابند کیا گیا ہے کہ وہی جنس لکھی جائے گی جو کوئی لکھوانا چاہے،نادرا ریکارڈ میں جنس وہی ہوگی جو کوئی خود کو سمجھتا ہے یا بننا چاہتا ہے،جنس تبدیلی کی اجازت دینے کا قانون ہم جنس شادیوں کی جانب پہلا قدم ہے،قانون میں لکھا ہے کہ خواجہ سراؤں کو حکومت مالی امداد دے گی،عدالت نے کیس شرعی تناظر میں دیکھنا ہے بنیادی حقوق کے نہیں، اللہ تعالی نے ہر مخلوق کو جوڑوں کی صورت میں تخلیق کیا ہے،بعض خواجہ سراؤں میں خواتین، کچھ میں مردانہ علامات حاوی ہوتی ہیں،تیسری قسم کے خواجہ سراؤں میں کوئی علامت حاوی نہیں ہوتی،شریعت میں اپنی جنس چھوڑ کر دوسرے جیسا بننے والے پر لعنت بھیجی گئی ہے،پیدائشی سرٹیفکیٹ میں ہر بچے کی جنس لکھی ہوتی ہے،ایسا نہیں ہو سکتا کہ 34 سال بعد کوئی کسی کو عورت کہے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت  نے اس موقع پر ریمارکس دئیے کہ جو جیسا پیدا کیا گیا اور   خود کو ویسا ہی ظاہر کرے تو اس  پر کوئی لعنت نہیں۔ جسٹس سید انور نے ریمارکس دئیے کہ جو خواجہ سرا نہیں ہیں اور خود کو ظاہر کرتے ہیں ان پر سب کو اعتراض ہے،قانون خواجہ سراؤں کے حقوق اور تحفظ کیلئے بنا ہے،قانون غلط ہونا اور اس کا استعمال غلط ہونا الگ الگ چیزیں ہیں،کسی کو خواجہ سرا کی جنس پر اعتراض ہو تو میڈیکل کروایا جا سکتا ہے۔

جسٹس شیخ قاسم نے اس  موقع پر ریمارکس دئیے کہ کس کی جنس کیا ہے اس پر تو جھگڑا ہونا ہی نہیں چاہیے۔ دوران سماعت درخواست گزرا  اوریا مقبول جان نے موقف اپنایا کہ کوئی مرد خواتین والے کپڑے پہن لے تو وہ عورت کہلائے گا نہ ہی خواجہ سرا، رولز کا نوٹیفکیشن ہوچکا ہے جس میں جنس تبدیلی کی اجازت دی گئی،پیدائشی خواجہ سراؤں کو شریعت نے وراثت اور نکاح سمیت حقوق دیئے ہیں۔

اس دوران وفاقی حکومت کے وکیل  احسن منگی نے عدالت کو  بتایا کہ رولز میں ایسی شق شامل نہیں ہو سکتی جس کا قانون میں ذکر نہ ہو، اس بابت وزارت انسانی حقوق سے ہدایات لیکر آگاہ کروں گا،قانون پر عملدرآمد کیلئے رولز بن رہے ہیں،سینیٹ میں ترمیمی بل ضرور آیا تھا  تاہم  ابھی منظور نہیں ہوا۔ دوران سماعت خواجہ سرا نایاب علی نے عدالت کے رو برو موقف اپنایا کہ ہمیں کوئی امداد ملی نہ ہی نوکریاں جن کا غلط استعمال ہو سکے،خواجہ سراؤں کیخلاف نفرت پھیل رہی ہے، جس پر  چیف جسٹس شریعت کورٹ نے نایاب علی کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ  اللہ نے آپکو تخلیق کیا ہے نفرت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

وفاقی شرعی عدالت نے جعلی خواجہ سراؤں کے سدباب کیلئے تجاویز طلب کرتے ہوۓ معاملہ پر  سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments