اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریں ہمیں جائزہ لینا ہوگا پاکستان کن عوامل کی وجہ سے آج اس نہج پر کھڑا ہے،مذہب ..

ہمیں جائزہ لینا ہوگا پاکستان کن عوامل کی وجہ سے آج اس نہج پر کھڑا ہے،مذہب کو اقتدار میں آنے کیلئے استعمال کیا گیا ،پاکستان پیپلز پارٹی ،

کیا ریاست سٹرٹیجک ڈیتھ اور پان اسلامیزم کی پالیسی تبدیل کرنے کیلئے تیار ہے ، صرف ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی ختم نہیں ہوسکتی ، سینیٹر میاں رضا ربانی کا سینٹ اجلاس میں اظہار خیال

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔29دسمبر 2014ء ) پاکستان پیپلز پارٹی نے سینٹ میں کہا ہے کہ ہمیں جائزہ لینا ہوگا پاکستان کن عوامل کی وجہ سے آج اس نہج پر کھڑا ہے ریاست نے مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا ، سیاسی و مذہبی گروپوں نے بھی مذہب کو اقتدار میں آنے کیلئے استعمال کیا ، کیا ریاست سٹرٹیجک ڈیتھ اور پان اسلامیزم کی پالیسی تبدیل کرنے کیلئے تیار ہے ، صرف ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی ختم نہیں ہوسکتی ، ان خیالات کا اظہار پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں سانحہ پشاور پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ پشاور میں بچوں کو جس بے دردی سے قتل کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی چنگیز خان کے دور میں بھی ایسے مظالم نہیں کئے گئے سانحہ کے بعد اتفاق رائے سے بیس نکاتی پروگرام کا مرتب ہونا خوش آئند ہے میں اس اتفاق رائے کو متاثر نہیں کرنا چاہتا نہ ہی تنقید کرنا چاہتا ہوں لیکن چند نکات اٹھانا چاہتا ہوں تاکہ ان کا جواب بھی آئے اور ہماری اصلاح بھی ہو ۔

(خبر جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل داخلی سلامتی کی پالیسی مرتب کی گئی جس میں نیکٹا کے قیام کی بات کی گئی لیکن وہ ادارہ کیوں اب تک نہیں بن سکا ہر 90دن بعد اس کے بورڈ کی میٹنگ ہونا تھی اس ادارے نے تمام تر انٹیلی جنس کو جمع کرنا اور کریمنل جسٹس سسٹم کو بہتر بنانا تھا لیکن ایک دن بھی اس کا اجلاس نہیں بلایا گیا آج ایک بار پھر کہا گیا کہ نیکٹا بنے گا ۔

سوال یہ ہے کہ اب تک اسے فعال کیوں نہیں کیا گیا اس کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف انٹرنل سکیورٹی بننا تھا وہ بھی نہیں بن سکا نیشنل سکیورٹی کی پالیسی ناکام ہوگئی اب وہی اقدام ہوگا اس کی کیا ضمانت ہے ؟ اس ایوان کو سوال اٹھانے کا اختیار حاصل ہے حکومت ان کا جواب دے نفرت پر مبنی مواد کیخلاف بھی کارروائی نہیں ہوسکتی دیکھتے ہیں حکومت اس حوالے سے اب کیا اقدامات کرتی ہے انہوں نے کہا کہ نئے نام سے کام کرنے والی کالعدم تنظیم کیخلاف کیا کارروائی ہوتی ہے ؟ ان پر قانون کا ہاتھ پڑتا ہے یا نہیں ؟ آئندہ 15 دنوں میں اس کا بھی جائزہ لیں گے 9ماہ پہلے بھی اینٹی ٹیررسٹ فورس کی بات کی گئی اب تک ان کا کوئی وجود نہیں ، 22 ہزار مدارس کی رجسٹریشن ہوئی ہے صرف اسلام آباد میں 400 غیر رجسٹرڈ مدارس اس وقت کام کررہے ہیں دیکھتے ہیں حکومت اگلے 15روز میں کتنے مداس کو رجسٹرڈ کرتی ہے او ان کے کوائف سامنے لاتی یہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں جائزہ لینا ہوگا کہ پاکستان کن عوامل کی وجہ سے آج اس نہج پر کھڑا ہے ریاست نے مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیاا ، سیاسی و مذہبی گروپوں نے بھی مذہب کو اقتدار میں آنے کیلئے استعمال کیا ریاست نے افغان وار شروع کی اور غیر ملکی جنگجوؤں کو پناہ دی انہیں استعمال کیا گیا اور انہیں واپس نہیں بھجوایا گیا ۔ انہوں نے کہا ک ہ اگر دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنی ہے تو سخت اور مشکل سوالات کرنا ہوں گے اور ان کے جوابات لینا ہوں گے، کیا ریاست سٹرٹیجک ڈیتھ اور پان اسلامیز کی پالیسی تبدیل کرنے کیلئے تیار ہے صرف ملٹری آپشنز سے دہشتگردی ختم نہیں ہوسکتی جب تک کہ بنیادی تبدیلیاں نہیں کی جائینگی تب تک ایسے سانحہ ہوتے رہیں گے صرف فوجی عدالتوں سے دہشتگردی ختم نہیں ہوگی عدالتیں آئین کے آرٹیکل 175،212،203اور 225 کے تحت قیام کی گئی ہیں ان میں کہیں فوجی عدالتوں کا ذکر نہیں جب سول جوڈیشری موجود ہے تو اس سسٹم کو فعال بنانے کی بجائے فوجی عدالتیں کیوں بنائی جارہی ہیں


اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں