اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںمستقبل میں سمندر زرعی اقتصادی اور دوسری سرگرمیوں کے مراکز ہوں گے، رپورٹ

مستقبل میں سمندر زرعی اقتصادی اور دوسری سرگرمیوں کے مراکز ہوں گے، رپورٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 05 جولائی۔2015ء) زمین نہیں سمندر ، مستقبل میں سمندر زرعی اقتصادی اور دوسری سرگرمیوں کے مراکز ہوں گے ایک رپورٹ کے مطابق مستقبل میں صاف پانی کی کمی سمندر سے پوری کی جائے گی ۔

(خبر جاری ہے)

کرہ ارض کا 36 کروڑ 40 لاکھ مربع میل کا رقبہ سمندروں نے گھیر رکھا ہے جبکہ ان کی اوسط گہرائی 36000 میٹر تک ہے ۔ 600 ٹن سونا ، بحیرہ کیپٹن میں آ جاتا ہے جبکہ کھارا نمک بھی سمندر سے حاصل کیا جا رہا ہے دنیا کا آٹھواں کم شدہ براعظم بھی سمندر کی تہہ میں پایا جاتا ہے جو یورپ اور براعظم شمالی و جنوبی امریکہ کے درمیان گم ہوا تھا ۔براعظم آہستہ آہستہ کھسک رہے ہیں


اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں