وفاقی ترقیاتی ادارہ کاہائوسنگ سوسائٹیوں اور سکیمز مالکان سے سی ڈی اے اور آئی سی ٹی زوننگ ریگولیشن پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا فیصلہ

جمعرات نومبر 19:06

اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 نومبر2020ء) : وفاقی ترقیاتی ادارہ(سی ڈی ای)نے ہائوسنگ سوسائٹیوں اور اسکیمز مالکان سے سی ڈی اے اور آئی سی ٹی زوننگ ریگولیشن پر سختی سے عمل درآمد کروانے کا فیصلہ کیا ہے، متعدد غیر قانونی ہائوسنگ اسکیمز وسوسائٹیوں کے دفاتربھی سیل کردیئے۔جمعرات کو سی ڈی اے کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق 1992 کے آئی سی ٹی زوننگ ریگولیشن کے تحت اسلام آباد کو5زونز میں تقسیم کیا گیاتھا۔

زونگ ریگولیشن کے تحت زون ون کے سیکٹر ای الیون،زرن2اورزون5 میں بھی ہائوسنگ اسکیموں کی پلاننگ اورڈویلپمنٹ کی جاسکتی ہے۔ان زوننگ ریگولیشن میں 2010 میں سی ڈی اے نے ترمیم کی اور زون 4 میں ایگرو فارم اسکیم کے ساتھ ہائوسنگ اسکیم کی بھی اجازت دی گئی،تاہم زون فور کو مزید 4زونز میں تقسیم کیاگیا تھا۔

(جاری ہے)

فی الحال نجی اسکیموں کی پلاننگ اور ڈویلپمنٹ SRO64(I)2020 کے تحت کی جاتی ہیاور سی ڈی اے کی دوڈائریکٹوریٹس ان کوریگولریٹ کرتے ہیں۔

شعبہ ہائوسنگ زون 2 اور زون 5 جبکہ ریجنل پلاننگ ڈائریکٹوریٹ زون 4 کی اسکیمز کی پلاننگ اور ڈویلپمنٹ کو ریگولیٹ کرتا ہے۔غیر قانونی اسکیمز کے سدباب کیلئے سی ڈی اے بورڈ میں تجویز بھی لے جائی جارہی ہے جس کے تحت اسکیموں کی ریگولرائزیشن اور نئی ڈویلپمنٹ کو روکناشامل ہے۔چند روز قبل سی ڈی اے نے اس سلسلے میں عائشہ ٹائون،اسلام آباد کو آپریٹ ہائوسنگ اسکیم، گلف ریزیڈنشیا،رائل سٹی،رائل ریزیڈنشیا،ڈریم لینڈ سٹی،بابر انکلیو،آئیڈیل ریزیڈنشیا،راول انکلیو،یار محمد سوسائٹی کے دفاترکو سربمہر کیا ہے۔

مذکورہ ہائوسنگ اسکیمز کے دفاتر کوسیل کرنے کامقصد سی ڈی اے سے منظوری(این اوسی) کے بغیر ڈویلپمنٹ کی حوصلہ شکنی کرنا ہے تاکہ جو بھی اسکیم ڈویلپ ہو وہ سی ڈی اے کے قوائد وضوابط کے مطابق ہواور لوگوں کو معیاری رہائشی سہولیات میسر ہوں اور خرید کنندگان کے سرمائے کی حفاظت ہوسکے۔ مزید برآں اس سے سی ڈی اے کیلئے ریونیو بھی پیدا کیا جاسکے گا۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments