یو ایس ایڈ کے تعاون سے تعمیر کئے گئے 68 ہائی اسکولز کو جلد پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت فعال کر دیا جائے گا

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی امریکی وفد سے گفتگو

پیر ستمبر 23:52

یو ایس ایڈ کے تعاون سے تعمیر کئے گئے 68 ہائی اسکولز کو جلد پبلک پرائیویٹ ..
کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 ستمبر2019ء) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ شمالی سندھ میں یو ایس ایڈ کے تعاون سے تعمیر کئے گئے 68 ہائی اسکولوں میں غیر رسمی تعلیم شروع کرکے 3.9 ملین اسکول سے باہر بچوں کو کلاس رومز میں واپس لایا جائے گا۔ پیر کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے امریکی وفد سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی جس کی قیادت امریکی سفیر پائول ڈبلیو جونز کررہے تھے۔

وفد کے دیگر اراکین میں قونصل جنرل رابرٹ سلبرسٹن، پولیٹیکل/اکنامسٹ جمی مائولدین، پولیٹیکل چیف نیل فلپس، اکنامسٹ چیف چاڈ مائینر، پولیٹیکل اسسٹنٹ صالح شاہ اور دیگر شامل تھے۔ وزیراعلی سندھ کی معاونت سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پرویز، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری تعلیم احسن منگی، پروجیکٹ ڈائریکٹر یو ایس ایڈ، سندھ میونسپل سروسز ڈیلیوری پروگرام (ایم ایس ڈی پی) قاضی مصطفی جمال قاضی نے کی۔

(جاری ہے)

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ یو ایس ایڈ کے تعاون سے 68 ہائی اسکولز تعمیر کئے گئے ہیں جنہیں بہت جلد پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت فعال کر دیا جائے گا۔ ان اسکولوں میں ہم نے غیر رسمی تعلیمی پروگرام کے تحت جوکہ شام کی شفٹ میں شروع کیا جائے گا، اسکول سے باہر بچوں کو ان اسکولوں میں داخل کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر رسمی پروگرام کے تحت طلبا کو تین سالوں میں 5 سالہ کورس کلاس اول تا پنجم پڑھایا جائیگا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 3.9 ملین ہے اور ان کی حکومت انہیں آسان تعلیمی پروگرام کی پیشکش کرکے انہیں واپس اسکول لانے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صوبے کے وسطی حصوں اور کراچی شہر اور اس کے دیہی علاقوں میں بھی غیر رسمی ایجوکیشن کے تعلیمی پروگرام شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ غیر رسمی ایوننگ کلاسز کے پروگراموں میں مرحلہ وار توسیع کی جائے گی۔

امریکی سفیر نے وزیراعلی سندھ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے یو ایس ایڈ کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ وہ یو ایس ایڈ کے تعلیمی ماہرین کے ذریعے خصوصی کورسز ڈیزائن بھی کر سکتے ہیں۔ ایم ایس ڈی پی کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ یو ایس ایڈ کے تعاون سے ایم ایس ڈی پی3 اضلاع جیکب آباد ، قمبر ۔ شہداد کوٹ اور دادو اور 6 شہروں جیکب آباد، قمبر۔

شہداد کوٹ، خیرپور ناتھن شاہ، مہڑ اور جوئی میں جاری ہے۔ اس پروگرام کو شروع کرنے کے لئے سندھ حکومت نے 926 ملین روپے مختص کئے ہیں جبکہ یو ایس ایڈ نی66 ملین ڈالرز کی فنڈنگ کی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ1.99 ملین روپے کی لاگت سے پانی کی فراہمی کی اسکیم کا کام98 فیصد مکمل ہو چکاہے اور جیکب آباد شہر کے زون، محلوں میں پانی ٹیسٹ کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔

15075 گھریلو کنکشن میں سے 8859 گذشتہ ہفتے کے آخر تک نصب کئے گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ کنکشن بھی نصب کئے جا رہے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ192 ملین روپے کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروگرام کے تحت70 فیصد سے زاہد گاڑیاں، مشینری اور آلات جیکب آباد میونسپل کمیٹی کے حوالے کردیئے گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ کام بھی اس ماہ کے آخر تک ہو جائے گا۔ اجلاس کو یہ بھی بتایاگیا کہ2.88 بلین روپے کا ویسٹ واٹر پروجیکٹ بھی شروع کیا جا رہا ہے جس کے لئے ٹینڈر کھولے گئے اور پروکیورمنٹ کمیٹی کے لئے اسسمنٹ کے لئے کنسلٹنٹ کی تعیناتی کا انتظار ہے۔ اجلاس میں رینیو ایبل انرجی اور سینیٹیشن سیکٹر میں مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments