پاکستان میں 20ملین سے زائد افراد ذیابیطس کا شکار!

ذیابیطس کے پھیلاؤ میں پاکستان دنیا کے سرِفہرست 10ممالک میں شامل۔ملک کے 17.1فیصد سے زائد بالغ افراد ذیابیطس کے مریض ہیں!

جمعرات نومبر 13:33

پاکستان میں 20ملین سے زائد افراد ذیابیطس کا شکار!
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2019ء) ذیابیطس کے عالمی دن کے موقع پر بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (آئی ڈی ایف)نے نئے اعداد وشمار جاری کردیئے ہیں جو پوری دنیا میں ذیابیطس کے پھیلاؤ کے خطرناک اعدادوشمار کو ظاہرکرتے ہیں۔آئی ڈی ایف ذیابیطس اٹلس کے نویں ایڈیشن میں شائع ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ذیابیطس کے پھیلاؤ میں پاکستان دنیامیں سرِفہرست 10ممالک میں شامل ہوچکا ہے۔


رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطس کا پھیلاؤ17.1 فیصدتک جاپہنچا ہے جو اس سے پہلے شائع ہونے والے اعدادوشمار کے مقابلے میں 148فیصد زیادہ ہے۔2019میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ملک میں19ملین سے زائد ذیابیطس کے مریض بن چکے ہیں جس سے انہیں جان لیوا پیچیدگیا لاحق ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

(جاری ہے)

ان 19ملین میں سے8.5ملین غیر تشخیص شدہ ہیں جس کے نتیجے میں ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔


ایک اندازے کے مطابق عالمی سطح پر 2017کے مقابلے میں 38ملین زائد بالغ افراد ذیابیطس کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ463ملین بالغ افرادذیابیطس کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں جن میں سے 90فیصد سے زائد افراد ٹائپ 2ذیابیطس کا شکار ہیں۔ ان افراد میں سے 55 فیصد مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بستے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ معاشرتی،معاشی، آبادیاتی، ماحولیاتی اور جینیاتی جیسے عوامل کی وجہ سے ٹائپ 2ذیابیطس کے مریضوں میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں ۔

اس کے علاوہ شہروں میں بڑھتی آبادی(Urbanisation)،بڑھتی ہوئی عمر، جسمانی سرگرمیوں میں کمی، وزن اور موٹاپے میں اضافہ بھی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔جبکہ کچھ نامعلوم وجوہات کی بناء پر ٹائپ 1ذیابیطس کے مریضوں میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذیابیطس کے اثرات جغرافیہ اور آمدنی سے قطع نظر ہر عمر کے لوگوں پر پڑتا ہے۔رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر1.1ملین بچے اور نو عمر افراد ٹائپ 1ذیابیطس کا شکار ہیں جبکہ 20-64سال کی عمر کے کام کرنے والے ہرچار میں سے تین افراد ذیابیطس کے مریض ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں میں اضافہ ملکوں کی مجموعی صلاحیتوں پر اثرانداز ہورہا ہے جس پر مناسب دیکھ بھال اور ضروری ادویات تک سستی رسائی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ذیابیطس کے غیرتشخیص شدہ ہونے کی وجہ سے اس کا شکار افراد میں دل کا دورہ، فالج، گردوں کی خرابی، اندھا پن اور نچلے اعضاء کے کٹاؤکا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

ذیابیطس کی وجہ سے معیارِ زندگی صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافے کے ساتھ ساتھ فیملی پر بھی غیر مناسب دباؤ پڑتا ہے۔
اس موقع پر بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائبیٹالوجی اینڈ اینڈوکرئنالوجی(Diabetology & Endocrinology) اورآئی ڈی ایف ڈائیبیٹیس اٹلس کمیٹی کے ممبر پروفیسر عبدالباسط نے کہا کہ ذیابیطس عالمی صحت کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے جو کسی بھی معاشرتی حدود اور معاشی حیثیت کا احترام نہیں کرتی۔

پاکستان میں ذیابیطس کا پھیلاؤ نہایت تشویش ناک ہے۔ ہمیں ٹائپ 2ذیابیطس سے بچنے کیلئے ذیابیطس کے تمام اقسام اورپیجیدگیوں کی جلد تشخیص پر مزید کام کی ضرورت ہے۔ہمیں اس امر کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ذیابیطس کے شکار ہر فرد کو اپنی دیکھ بھال کیلئے سستی اور بلاتعطل ادویات تک رسائی حاصل ہو۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذیابیطس کے اثر کو کم کرنے کیلئے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔

شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی تشخیص، ہر قسم کی ذیابیطس کی مناسب دیکھ بھا ل اور ادویات تک رسائی سے لوگوں میں ٹائپ 2ذیابیطس کے اثرات اور پیچیدگیوں کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے ۔
 ذیابیطس اٹلس کے نویں ایڈیشن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ
1۔ذیابیطس موت کی سرِفہرست دس وجوہات میں شامل ہے جس میں آدھے سے زیادہ افراد 60سال سے کم عمر ہوتے ہیں

ذیابیطس کا شکار افراد کی تعداد 2030تک بڑھ کر 578ملین جبکہ 2045تک700ملین ہوجائے گی
3۔374ملین افراد میں Impaired Glucose Tolerance(IGT) پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان میں ٹائپ2ذیابیطس ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
4۔2019میں ذیابیطس کی وجہ سے صحت کے زمرے میں لوگوں نے 760ارب ڈالر سے زائد خرچ کئے۔
5۔حمل کے دوران ہر چھ میں ایک پیدا ہونے والا بچہ ہائپرگلیکیمیا(Hyperlgycaemia)کا شکار ہے۔

متعلقہ عنوان :

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments