لاشیں بھی حرکت کرتی ہیں،سائنس کا نیا دعویٰ

مرنے کے ایک سال بعد تک جسم کے اعضا حرکت کرتے رہتے ہیں

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل ستمبر 05:45

لاشیں بھی حرکت کرتی ہیں،سائنس کا نیا دعویٰ
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 ستمبر2019ء)   سائنس میں نت نئی دریافتوں اور قانون قدرت کو سمجھنے کی پیش رفت ہر روز ہوتی رہتی ہے،اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ بھی اسی عقل و شعور کی بنا پر دیا تھا کہ وہ کائنات میں چھپے اسرار و رموز سے پردہ اٹھا سکے۔یہی وجہ ہے کہ انسان کی جبلت میں یہ چیز پائی جاتی ہے کہ وہ ہر چیز کے اندر جھانکنے اور اس کی اصلیت جاننے کے لیے بے چین رہتا ہے۔

اب ایک ایسے ہی نئے راز سے سائنس کی نئی تحقیق نے پردہ اٹھا دیا ہے۔کیا آپ یقین کریں گے کہ مرنے کے بعد بھی انسانی لاشیں ڈی کمپوز (مسخ) ہونے کے دوران حرکت کرتی رہتی ہیں؟کم از کم ایک نئی تحقیق میں یہ رونگٹے کھڑے کردینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے جس کے دوران محققین نے ایک لاش کا معائنہ 17 مہینے تک کیا۔

(جاری ہے)

تحقیقی ٹیم کے قائد آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایلیسین ولسن نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ایک لاش کو مرنے کے ایک سال بعد بھی حرکت کرتے دیکھا اور اس دریافت سے پوسٹمارٹم تحقیقات کے حوالے سے نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ لاش مسخ ہونے کا عمل اس کی حرکت کا باعث ہوسکتا ہے یعنی جیسے جیسے جسم خشک ہونے لگتا ہے اور نسیج کے بندھن خشک ہوتے ہیں تو جسمانی حصے حرکت کرنے لگتے ہیں۔ان کا کہنتا تھا کہ‘ہم نے دریافت کیا کہ ہاتھ نمایاں حد تک حرکت کرتے ہیں، یعنی اگر ہاتھ اگر لاش کے پہلو میں رکھے ہیں تو وہ آخر میں سائیڈ میں اوپر کی جانب اٹھ گئے’۔

اس مقصد کے لیے سڈنی میں انہوں نے ایک ڈونر باڈی پر نظر رکھنے کے لیے کیمرے کا استعمال کیا جو اس دوران آسٹریلین فیسیلٹی فار Taphonomic Experimental Research میں رکھی تھی اور یہ سلسلہ 17 ماہ تک جاری رہا۔محقق نے بتایا کہ اس دریافت سے تحقیقاتی اداروں کو کسی لاش کے مرنے کے زیادہ درست وقت کا تخمینہ لگانے میں مدد ملے گی جبکہ مرنے کی وجہ کا تعین کرنا بھی آسان ہوسکے گا۔ یہ پہلی بار ہے جب اس حقیقت کو سامنے لایا گیا ہے، لوگ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ لاشیں کس حد تک حرکت کرسکتی ہیں۔

متعلقہ عنوان :

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments