مائرہ قتل کیس چالان پر 48 عتراضات لگ گئے، پراسیکیوشن برانچ نے پولیس کو اعتراضات جلد دور کرنے کا حکم دیدیا

پیر 26 جولائی 2021 23:01

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 جولائی2021ء) مائرہ قتل کیس چالان پر 48 عتراضات لگ گئے، پراسیکیوشن برانچ نے پولیس کو اعتراضات جلد دور کرنے کا حکم دیدیا۔تفصیلات کے مطابق مائرہ قتل کیس چالان پر 48 عتراضات لگ گئے۔پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ پولیس کی ناقص تفتیش سے ملزمان رہا ہو جاتے ہیں، پولیس تفتیش کا معیار بہتر نہیں ہو رہا ،پراسیکیوشن کمیٹی نے پولیس کوسختی سے اعتراضات دور کرنے اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا حکم دیا ہے۔

(جاری ہے)

پراسیکیوشن سکروٹنی کمیٹی نے مائرہ قتل کیس پر اعتراضات لگاتے ہوئے کہا ہے بتایا جائے کہ اہم کیس کا چالان تاخیر سے کیوں پیش کیا جہاں واقعہ ہوا اس جگہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کیوں نہیں لگائی گئی ملزمان کے پولی گرافی ٹیسٹ کیوں نہیں کروائے گئی ،پراسیکیوشن نے سوال اٹھایا کہ ملزمان کی ڈی این اے رپورٹ کیوں چالان کہ ساتھ نہیں لگائی پراسیکیوشن نے پولیس کو اعتراضات دور کرکے دوبارہ چالان جمع کرانے کا حکم دیا ہے،ملزم ظاہر جدون، اس کے بھائی طاہر جدون اور وسیم جاوید کو چالان میں گناہ گار ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments