دنیا میں انسانی زندگی کا نعم البدل نہیں ،محکمہ صحت بلوچستان و عالمی ادارہ صحت

شعبے میں کمی بیشی ،خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کرتے ہوئے شرح اموات میں کمی کے لئے عالمی تجاویز کے مطابق حکمت عملی تشکیل دی جائے صوبے میں معیاری طبی سروسز کی فراہمی کے لئے رائج الوقت قوانین اور پالیسوں کو صحت سے متعلق وضح کردہ عالمی اصلاحاتی سفارشات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور

جمعہ 17 ستمبر 2021 00:36

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 16 ستمبر2021ء) محکمہ صحت بلوچستان اور عالمی ادارہ صحت نے صوبے میں معیاری طبی سروسز کی فراہمی کے لئے رائج الوقت قوانین اور پالیسوں کو صحت سے متعلق وضح کردہ عالمی اصلاحاتی سفارشات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں انسانی زندگی کا نعم البدل نہیں اس لئے طبی شعبے میں کمی بیشی ،خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کرتے ہوئے شرح اموات میں کمی کے لئے عالمی تجاویز کے مطابق حکمت عملی کی تشکیل ضروری ہے، جمعرات کے روز یہاں بلوچستان صوبائی اسمبلی کے کمیٹی روم میں" گلوبل پیشنٹ سیفٹی ڈی" کے حوالے سے محکمہ صحت بلوچستان، صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ اور ڈبلیو ایچ او کے باہمی اشتراک سے منعقدہ ٹیکنیکل سیشن اور اوئیرنیس واک منعقد ہوئی جس میں اراکین قانون ساز اسمبلی ، سول سوسائٹی ، ماہرین طب اور مختلف اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی ، پروگرام کے آغاز پر ڈبلیو ایچ او کوئٹہ کے نمائندے ڈاکٹر اسفندیار شیرانی نے موضوع کی مناسبت سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پیشنٹ کئیر سیچوئیشن پر جائزہ رپورٹ پیش کی جبکہ ماہر امراض زچہ و بچہ ڈاکٹر نائلہ احسان نے بلوچستان میں دوران زچگی شرح اموات کا موازنہ دستیاب طبی سہولیات سے کرتے ہوئے ایسی اموات کی وجوہات کے تدارک اور روک تھام کے لئے اقدامات تجویز کئے ، ٹیکنیکل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پروگرام کی میزبان پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ انٹر نیشنل پیشنٹ سیفٹی ڈے منانے کا مقصد عوام اور طب سے وابستہ افراد میں شعوری آگاہی کا فروغ ہے تاکہ روز مرہ کے معمولات زندگی میں طبی امور سے عدم واقفیت اور لاپرواہی کے باعث ہونے والی اموات پر قابو پایا جاسکے انہوں نے کہا کہ دوران زچگی شرح اموات کے حوالے سے ساوتھ ایشین ریجن میں افغانستان کے بعد پاکستان وہ دوسرا ملک ہے جہاں صورتحال غیر معمولی سنگین ہے گو کہ 2012 کے سروئے کے مقابلے میں 2017 کے سروئے میں یہ تناسب کم رہا لیکن یہ صورتحال اطمیان بخش بھی نہیں، پاکستان میں اکاون فیصد زچگی کے کیس اسپتالوں میں کئے جاتے ہیں جبکہ نصف کے لگ بھگ غیر تربیت یافتہ روایتی دائیوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جس سے شرح اموات میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے دیہی علاقوں میں زچہ و بچہ کو زچگی کی بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی تربیت یافتہ خواتین کی کثیر الجہتی خدمات حاصل کرنی ہونگی انہوں نے کہا کہ صحت ایک ایسا موضوع ہے جس پر تمام اراکین اسمبلی کا موقف یہ ہے کہ ہر غریب و امیر کو بلا امتیاز حکومتی سطح پر بہتر اور معیاری علاج معالجے کی سہولیات میسر ہوں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے نمایاں اصلاحات لائی جاررہی ہیں جس کے نتیجے میں حکومتی ثمرات کے فوائد عام آدمی تک پہنچ سکیں گے انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت دنیا کے 22 ممالک میں مریضوں کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کا فعال معاونت کار ہے اس مقصد کے لئے تمام ممالک میں مخصوص اسپتال منتخب کرکے وہاں طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے معاونت کی جاررہی ہے اس منصوبے میں کوئٹہ کے دو بڑے اسپتالوں بی ایم سی اور سول سنڈیمن اسپتال میں ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کی جاررہی ہے اس کے علاوہ یونیورسل ہیلتھ کوریج میں بلوچستان کے سات اضلاع شامل ہیں اس پروگرام میں آبادی کے تناسب سے بلوچستان کی نمائندگی دیگر صوبوں سے کہیں زیادہ ہے ٹیکنیکل سیشن میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل اور ایشین ریجن کے سربراہ ڈاکٹر پالیتھا ماہیپلہ کے پیغامات بھی نشر کئے گئے سیشن کے بعد گلوبل پیشنٹ سیفٹی ڈے کے حوالے سے اوئیرنیس واک بھی منعقد کی گئی ، کیک کاٹا گیا اور ہوا میں غبارے چھوڑے گئے ٹیکنیکل سیشن اور اوئیرنیس واک میں ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر خان موسی خیل، اراکین صوبائی اسمبلی زینت شاہوانی، بانو خلیل، ثنا اللہ بلوچ، اختر حسین لانگو، زبیدہ خیر خواہ، سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ، سیکرٹری پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ عزیز احمد جمالی ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر علی ناصر بگٹی، ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر اسفند یار شیرانی، آئی ڈی ایس پی کی سربراہ قراتلعین و دیگر نے شرکت کی پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے اس کامیاب پروگرام کے انعقاد پر خصوصی تعاون کے لئے سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments