eسی پی او نے بچوں کو ہر قسم کے تشدد سے محفوظ بنانے کے لئے تینوں ڈویژنل ایس پیز کوبچوں کے تحفظ کے لئے قائم سرکاری ادارے چائلڈ پروٹیکشن کے افسران سے میٹنگ کرنے کی ہدایات جاری کر دیں

اتوار ستمبر 21:30

Kراولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 22 ستمبر2019ء) سی پی او نے بچوں کو ہر قسم کے تشدد سے محفوظ بنانے کے لئے تینوں ڈویژنل ایس پیز کوبچوں کے تحفظ کے لئے قائم سرکاری ادارے چائلڈ پروٹیکشن کے افسران سے میٹنگ کرنے کی ہدایات جاری کر دیں،تعلیمی اداروں،بینکوں ،ان کی اے ٹی ایم مشینوں کی سیکورٹی روزانہ چیک کرنے کا حکم،اقلیتوں کی عبادگاہوں کی سیکورٹی فول پروف بنانے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئیں،تفصیلات کے مطابق سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے اتوار کو چھٹی کے باوجود24/7پولیسنگ کا سلسلہ جاری رکھا،انہوں نے پنڈی پولیس کے تینوں ڈویژن کے ایس پیز ،ایس پی صدر رائے مظہر اقبال،ایس پی پوٹھوہار سید علی اور ایس پی راول آصف مسعود کو ہدایات جاری کیں کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لئے قائم سرکاری ادارے چائلڈپروٹیکشن کے افسران سے میٹنگ کر کے ان کے ساتھ بھی بچوں کے تحفظ کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدمات شیئر کریں،سی پی او نے کہا کہ ہمیں ہر قیمت پر پنڈی کے بچوں کو ہر قسم کے تشدد سے بچانا ہے ،ہم نے بچوں کو استحصال کا نشانہ بنانے والے ہاتھوں کو قانون کے شکنجے میں کسنا ہے ،سی پی او نے کہا کہ پنڈی پولیس کے تینوں ڈویژنل ایس پیز اپنی نگرانی میں روزانہ کی بنیاد پر تعلیمی اداروں کی سیکورٹی چیک کروائیں ،چھٹی کے وقت پولیس کا گشت تعلیمی اداروں کے اردگرد ہونا چاہیے اگر کوئی مشکوک شخص کسی بچے کو کسی بھی حوالے سے ہراساں کرتا ہے تو اس پر فوری قانون کی گرفت ہونی چاہیے،سی پی او نے کہا کہ بینکوں اور مالیاتی اداروں اور ان کی اے ٹی ایم مشینوں کی سیکورٹی کا روزانہ چیک ہونا ناگزیر ہے،ایس پی اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے علاقہ کے تمام بینکوں اور ان کی اے ٹی ایم مشینوں پر سی سی ٹی وی کیمرہ جات لگے ہیں اور مکمل فنگشنل ہیں،سی پی او نے کہا کہ اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کی سیکورٹی بھی پولیس کی بنیادی اور اولین ذمہ داری ہے ،ڈویژنل ایس پیز اپنی نگرانی میں اقلیتوں کی عبادگاہوں کی سیکورٹی کو چیک کرواتے رہیں ،اتوار کے روز تمام ایس پیز لازمی طور پر مسیحی برادری کے چرچز کی سیکورٹی کو خود چیک کریں،چرچز کی انتظامیہ سے ملاقات کر کے سیکورٹی اقدامات کے حوالے سے انہیں اعتماد میں لیا جائے ۔

متعلقہ عنوان :

راولپنڈی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments