مقبوّضہ وادی میں فلموں کی عکس بندی قصّہ پارینہ بن گئی

دلفریب نظارے اور حسین موسم فلمسازوں کی توّجہ کا مرکز رہے کشمیر سے متعلق بھارتی فلموں میں پراپیگنڈانمایاں ہوتا ہے

ہفتہ 8 دسمبر 2018

غلام نبی بھٹ
کشمیر اپنی دلفریب وادیوں ،کوہساروں ،سبززاروں ،دریاؤں ،ندی نالوں ،آبشاروں اور گھنے جنگلات کی وجہ سے ہمیشہ فلمی دنیا کے لئے ایک پُر کشش مقام رہا ہے جہاں فلمبندی یا عکس بندی کی خواہش ہر فلمساز کے دل میں مچلتی رہی ہے ۔لیکن بھارتی فوج کے ظلم وبربریت اور مقبوضہ وادی میں ہونے والے قتل عام کی وجہ سے جنت نظیر وادی میں فلموں کی عکس بندی اب قصہ پارینہ بن کررہ گئی ہے۔
1960ء کی دہائی میں بھارتی فلمسازوں نے کشمیر میں فلمبندی کی راہ اپنائی اور کشمیر کے خوبصورت پہاڑی علاقوں اور برف پوش میدانوں میں اپنی فلموں کی عکس بندی کرنے لگے۔صرف یہی نہیں کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کی شہرہ آفاق ڈل جھیل پر تو باقاعدہ فلم بھی بنائی گئی ۔ان میں ایک فلم جس کا گانا”
پردیسیوں سے نہ آکھیاں ملانا“جو ششی کپور اور نند اپر فلمایا گیا آج بھی مشہور ہے ۔

(جاری ہے)

اسی طرح شمی کپور کی ”جنگلی “فلم جس کا گانا ”چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے“والا گانا گلمرگ کے حسین برف زاروں میں فلمائی گئی۔
انہی کی ایک مشہور فلم ”کشمیر کی کلی “تو مکمل کشمیری ہاؤس بوٹ کے مکینوں کے طرز زندگی کی عکاسی کرتی ہے ۔جس کا مشہور گانا ”تعریف کروں کیا اس کی جس نے تمہیں بنایا“آج بھی لوگ گاتے پھرتے ہیں ۔پھر 70ء سے 80ء کی دہائی تک بے شمار فلمیں کشمیر میں فلمائی گئیں ۔بے شمار لافانی گیت وہاں پکچراز ہوئے۔60ء تا85ء تک کا 25سال کا عرصہ میں بھارتی فلمسازوں پر اٹلی اور سوئزر لینڈ سے زیادہ کشمیر چھایا رہا ہر فلم کی اور کچھ نہیں تو گانوں کی فلمبندی کشمیرمیں ہونے لگی۔کشمیر کے دلکش نظارے دریا ندیاں وادیاں سب دلوں کو لبھاتی رہیں ۔اس دور میں اکثر فلموں کی شوٹنگ اور خاص طور پر گانے کشمیر میں فلمائے گئے جن میں ”آج موسم بڑا بے ایمان ہے “وغیرہ بھی شامل ہیں ۔اس دور میں کشمیر میں ایشیا کا سب سے بڑا ٹیولپ (گل لالہ گارڈن سری نگر میں بنا جس میں فلم ”سلسلہ “کا گانا جس کے بول یہ ہیں ”دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلہ ہوئے “امیتابھ بچن اور ریکھا پر لکھایا گیا۔
ایک حیرت کی بات یہ ہے کہ پہلگا م میں چند واڑی روڈ کے نیچے لدھر دریا کے کنارے ایک خوبصورت جنت نشاں وادی ہے یہاں بھارتی فلمساز نے ایک پوری فلم ”بیتاب “بنائی جس کے لئے سیٹ لگائے ۔اطراف میں بلند وبالا برف پوش پہاڑ گھنٹے جنگلا ت اور وادی کے درمیان میں خوبصورت چوڑی ندی جوبل کھاتی لہراتی چندن واڑی روڈ کے نیچے بہنے والے سرکش لدھر نالے میں جا گر تی ہے ۔اس وادی کا عجیب حُسن اپنی مثال آپ ہے ۔
ندی کا پانی فیروزی ہے جبکہ لدھر دریا یانالے کا گہرا سبز مائل ہے ۔سڑک سے وادی کو ملاتا ایک خوبصورت زیگ زیگ پل اور وادی میں سفید ے کے سینکڑوں اور درخت پہاڑوں کے دامن میں بلند وبالا شیشم وچیڑ اور دیوار کے درختوں کے درمیان بنی یہ فلم ھٹ ہوئی اور اس وادی کا نام ہی ”بیتاب ویلی “پڑگیا ۔اس کے علاوہ پہلگام کے بلند وبالا پہاڑ ،گھنے جنگلات ،سرکش دریائے سندھو کے آس پاس درجنوں خوبصورت مناظر والے علاقے بھلافلمسازوں کی نظروں سے کہا چھپ سکتے تھے ۔
70ء اور 80ء کی دہائی میں بننے والی فلم ”کبھی کبھی “میں کشمیر کے حسین مناظر آج تک فلم بینوں کو نہیں بھولے۔گلمرگ دوسرا بڑا نام ہے جہاں برف باری کا موسم اور سارا سال جمی برف اس کے پہاڑوں کو چاندی کے پہاڑ بنا دیتی ہے جہاں الیکٹرک چےئر اور کیبل بہت پہلے بھارت لگاچکا ہے وہاں بھی سارا سال شوٹنگ ہوتی رہتی تھی ۔”تُو نے اور نگیلے کیسا جادو کیا “والا گانا اس حسین وادی میں فلمایا گیا۔جہاں آج بھی دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں اور برف پر سکیٹنگ کے مزے لیتے ہیں ۔
اس کے علاوہ سونہ مرگ ،توسہ میدان ،کوکرناگ ،مانسبل ،بل جھیل اور ولر جھیل میں بھی بے شمار فلموں کی شوٹنگ ہوتی رہی۔اس بہانے سینکڑوں نہیں ہزاروں کشمیریوں کو بھی روزگار ملتا تھا اور دنیا بھر میں کشمیر کی خوبصورتی کے چرچے ہوتے تھے ۔دنیا بھر کے سیاح جوق درجوق کشمیر کا رُخ کرتے تھے جس سے کشمیر اور کشمیریوں کو فائدہ ہوتا تھا۔ 1990ء تا 2000ء تک کے عرصے میں کشمیر میں مسلح تحریک آزادی کی وجہ سے فلم بنانے کا کام تقریباً بندرہا ۔
بھارتی فلمسازوں کو بیرون ملک کام فلمبند کرانا پڑتا تو ان کے اخراجات بھی کروڑوں کے حساب سے بڑھ گئے ۔80ء تا2000ء تک کشمیر میں بھارتی فلمبندی کا کام تقریباً بندرہا پھر بھارت نے اپنی حُب الوطنی اور بھارتی فوج کا مورال بلند کرنے کے لئے کشمیر کے موضوع پہ پے درپے پراپیگنڈا ٹائپ کی فلمیں بنانا شروع کیں تا کہ بھارتی فوج کا مورال بلند ہو ،ان فلموں کی عکس بندی کشمیر میں بھی کی گئی ۔ان میں عام طور پر مجاہدین کے خلاف بھارتی فوج کی حُب الوطنی اور نام نہاد قربانیوں کو اُجا گر کیا گیا۔یہ کشمیر دشمن فلمیں بھی کشمیر کی خوبصورت وادیوں ‘برف زاروں میں فلمسائی گئیں ۔
ان میں سب سے اہم شاہد کپور کی ”حیدر “نامی فلم ہے جو مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتی ہے ۔اگر چہ اس میں بھی پراپیگنڈابہت ہے ۔اس طرح سلمان خان کی ”بجرنگی بھائی “بھی پراپیگنڈ اوار کا حصہ ہے۔ماضی میں ہر یتک روشن کی فلم ”مشن کشمیر “جس کا گانا ”بھمبھرو،بھمبھرو“بہت مشہور ہوا‘بھی اس پلاننگ کا حصہ تھی ۔ان فلموں میں کافی حد تک کشمیری کلچر کو بھی اجاگر کیا گیا ۔تاہم یہ سب مجاہدین اور کشمیر آزادی پسند کشمیری عوام کے اکثر یتی طبقے کے نظریات کے خلاف تھیں ۔
ان میں سے ”حیدر “اور ”بجرنگی بھائی “کو پے درپے مقبولیت حاصل ہوئی۔پُرانی فلموں میں سے جو فلمیں کشمیر میں عکس بند ہوئیں یا فلمائی گئیں ان میں زیادہ تر پیار ومحبت تھا اور یہ رومانوی فلمیں ہوتی تھیں ۔ان کے علاوہ درجنوں فلموں کی صرف تھوڑی بہت عکس بندی یا گانے کشمیر میں فلمسائے گئے ۔اس کے بعد جب جدید فلموں کا دور آیا جو 2001ء سے شروع ہو کر 2015ء تک پھیلا ہے ۔اس میں درجن بھر فلمیں کشمیر میں بنیں ۔ان میں بھارتی سیاست ‘پروپیگنڈا اور کشمیر میں تحریک کے خلاف بھارتی فوج کی نام نہاد کا میابیاں دکھائی گئی ہیں ۔
یہ تو بھارتی فلموں کا تذکرہ ہے جو کشمیر میں بنی ۔حال ہی میں ایک ایرانی فلمسا زنے کشمیر پر ایک فلم بنائی ہے ۔اس کا نام ہی اس کا تعارف ہے ۔فلم کا نام ہے ”کشمیر خون وآتش “اس فلم میں کشمیریوں کی تحریک آزادی میں بھارتی مظالم کو نمایاں کیا گیا ہے ۔یہ ایک اہم اور نہایت اچھوتی کوشش ہے ۔بھارت نے فلموں میں جس طرح پہلگام ‘گل مرگ ‘سونہ مرگ ‘ٹیولپ گارڈن ‘شالیمار ‘نشاط ‘نسیم باغ ‘ڈل ‘مانسبل ‘وولر اور کشمیر کے درجنوں پہاڑی علاقوں کو ماحول کو فلموں کے ذریعے عام کیا اس کا اثر یہ ہوا کہ بھارت کے طول وعرض سے لاکھوں سیاح ہر سال کشمیر آنے گے ۔
یوں بھارت نے کشمیر کو اربوں روپے سالانہ کمائی کا ذریعہ بنالیا۔کشمیر میں گرمی ‘سردی‘خزاں اور بہار سب نہایت شدید ہوتے ہیں ۔ان موسموں کا ہر رنگ ایک دوسرے سے جدا ہے ۔برف میں پوری وادی برف سے ڈھک کر سفید ہو جاتی ہے ۔
گرمی میں پوری وادی سرسبز ہو جاتی ہے ۔خزاں میں پوری وادی سرخ اور زرد رنگ میں ڈوب جاتی ہے جبکہ بہار میں پوری وادی بادام ‘سیب ‘خوبانی ‘کنول ‘گلاب ‘عشق پیچاں ‘للی‘نیلو فر اور گل بدلہ کے حسن سے خوشبو سے مہک اُٹھتی ہے ۔بھارت کی فلم انڈسٹری نے ان چاروں موسموں کا بھر پور فائدہ اُٹھایا ۔
یہ چار حسین موسم اپنے پورے جوبن کے ساتھ ایک ہی جگہ بہت کم نظر آتے ہیں ۔خاص طور پر ڈل جھیل اور دریائے جہلم میں ہاؤس بوٹ یعنی پانی پر تیرتے ہوٹل اور گھر دکانیں شاید کہیں اور پائے جاتے ہیں ۔بھارت کی فلموں میں یہ سب کچھ دیکھنے کو ملتا تھا۔
اس کے برعکس جب ہم پاکستان کی فلم انڈسٹری پر نظر ڈالتے ہیں تو بہت افسوس ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر میں درجنوں حسین وادیوں ۔دریائے نیلم وجہلم کے درجنوں سیاحتی مقامات کے ہوتے ہوئے آج تک ہمارے فلمسازوں نے یہاں آکر فلم بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔ہمارے فلمسازوں کی ساری توجہ صرف مری اور سوات تک محدودرہی ۔
#کشمیر پر بھی سوائے ”یہ امن “کے اور کوئی فلم بنائی نہیں جا سکی ۔”یہ امن “کا بھی جو حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے ۔اس فلم کی وجہ سے ریاض شاہد جان سے گزر گئے ۔یہ فلم آزاد کشمیر میں لفمائی گئی۔اس کے بعد شاید کسی نے کشمیر کے موضوع کواس قابل نہیں سمجھا کہ اس پر فلم بنائے اور نہ ہی اس کی حسین وادیوں کی طرف کسی کا خیال گیا۔
جب جب پھول کھلے ۔کشمیر کی کلی کے علاوہ ”نوری“فلم ہے جو مکمل کشمیری فلم کہلاسکتی ہے ۔جس کا گانا ”آجا رے آجا اومیرے دلبر آجا“آج بھی لوگوں کو یاد ہے ۔اس طرح فلم ”حنا “کشمیر اور پاکستان کے پس منظر میں فلمائی گئی ہے ۔یہ زیبا بختیار کی پہلی فلم ہے اس کا مشہور گانا ”میں ہوں خوش رنگ حنا “کافی مقبول ہوا ۔جنگلی کاتذکرہ پہلے ہو چکا ہے ۔
پھر اس کے علاوہ فتور ‘لکشے ‘فنا ‘بارڈرلمحہ‘ٹائیگر ز آف انڈیا‘ روجاطیارے ‘رازی‘ جب تک ہے جان‘ راز‘ واک سٹار‘ پریم روگ‘ بھاگ‘ سات خون معاف‘ میں بھی حسن کشمیر شائقین کے دل کو لبھاتا ہے ۔ان میں سے اکثر فلمیں بھارتی سیاسی پراپیگنڈے سے لیس ہیں ۔مگر فلمبندی کمال کی ہے ۔اس طرح جموں اور لداخ جو کشمیر کا ہی حصہ ہیں ان فلموں کی وہاں بھی شوٹنگ ہوئی مگر یہ عشق ہائے ۔
بیٹھے بٹھائے جنت دکھائے ہاں اوراما “میں کرینہ کپور اور شاہد کپور کو بدھ لاماؤں کے ساتھ رقص کرتے اور اسی طرح تھری ایڈیٹس میں لداخ کی مشہور عالم جھیلوں کو اور شوریہ‘ سٹوڈنت آف دی اےئر کے علاوہ جوانی دیوانی میں بھی حسن کشمیر لداخ اور جموں کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا تھا۔
اس وقت کشمیر یونیورسٹی سرینگر میں ایک طالبہ”کشمیر اور وہاں بنائی بھارتی فلموں “کے موضوع پر پی ایچ ڈی بھی کررہی ہیں ۔امید ہے ان کی یہ کتاب ایک مکمل تاریخ ہو گی ۔یہ تو سلور سکرین کی فلموں کا تذکرہ ہے ۔اگر ڈاکو مینٹری فلموں کی تاریخ مرتب کی جائے تو وہ ایک علیحدہ کتاب بن سکتی ہے ۔کیونکہ بھارت کے علاوہ دنیا بھر میں ہزاروں افراد کشمیر کی خوبصورتی پر ثقافتی رنگ رنگی اور تنوع پر ہزاروں ڈاکیو منٹری فلمیں بنا چکے ہیں ۔کاش ہمارے پاکستانی فلمساز بھی آزاد کشمیر کے دلفریب حسین نظاروں پر نظر ڈالیں تو یہ علاقے بھی فلمبندی کے لئے کسی سے کم نہیں ․․․․․!

مزید متفرق کے مضامین :