اسماعیل شاہ

پاکستان فلم انڈسٹری کا ڈانسنگ ہیرو

جمعرات اکتوبر

Ismail Shah
پاکستان فلم انڈسٹری کے ڈانسنگ ہیرو اسماعیل شاہ کو مداحوں سے بچھڑے 28برس بیت گئے۔22مئی1962ء کو پشین بلوچستان میں پیدا ہونے والے اسماعیل شاہ کا اصل نام سید محمد اسماعیل شاہ تھا،اداکاری کا شوق بچپن ہی سے تھا جس کا موقع انہیں اس وقت ملا جب نسیم حجازی کے تاریخی ناول پر ڈرامہ سیریل ”شاہین“ میں انہیں بدربن مغیرہ کا کردار دیا گیا،یہ ڈرامہ 1980ء میں پی ٹی وی سے نشر ہوا اور اسے کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔

ہدایتکار ممتاز علی خان نے 1986ء میں فلم ”باغی قیدی“ کے ذریعے انہیں فلم انڈسٹری میں متعارف کروایا جس میں لبنیٰ خٹک نے ان کے مقابل مرکزی کردار ادا کیا تھا،اس فلم کی کامیابی سے ان پر فلم انڈسٹری کے دروازے کھل گئے ،وہ فلمی مصروفیات کے باوجود پی ٹی وی لاہور مرکز کے ڈراموں میں بھی کام کرتے رہے۔

(جاری ہے)


اپنے سات سالہ مختصر فلمی کیریئر کے دوران انہوں نے کم وبیش 70فلموں میں کام کیا جن میں 19اُردو،25پنجابی،6پشتو اور 20ڈبل ورژن فلمیں تھیں۔

ان کی مشہور فلموں میں سونے کی تلاش، جرأت،دُلاری،ناچے ناگن،برداشت،پانی،اللہ وارث،ہوشیار،حفاظت،منیلا کے جاسوس،لاوا،ماں بنی دُلہن،پیار ہی پیار،شیدا ٹلی، لیڈی اسمگلر،باغی حسینہ،تحفہ اور ایک سے بڑھ کر ایک جیسی فلمیں شامل ہیں جن میں کویتا،نیلی،نادرہ،بابرہ شریف،سبیتا،ریما،سونیا، گوری ،مدیحہ شاہ اور ندا ممتاز ان کی ہیروئنز تھیں۔


ان کا پہلا اردو ڈرامہ ریگ بان اور پہلا ڈرامہ سیریل شاہین تھا جن میں ان کی اداکاری کو بہت پسند کیا گیا۔اسماعیل شاہ کی پہلی فلم”سونے کی تلاش“ تھی تاہم نمائش کے لحاظ سے”باغی قیدی“پہلی فلم قرار دی جاتی ہے جو 17اگست 1986ء کو سینماؤں کی زینت بنی۔اسماعیل شاہ کو رقص میں مہارت حاصل تھی جس کی وجہ سے وہ فلم سازوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

ان کے حصے میں متعدد فلمیں ایسی آئیں جو ماضی کی فلموں کا ری میک تھیں لیکن اسماعیل شاہ نے ان فلموں میں ماضی کے فنکاروں کے ادا کردہ کرداروں کو دہراتے ہوئے بھی انصاف کیا۔ان کی پہلی فلم ”باغی قیدی“ بھی دراصل فلم ”عجب خان“ کا ری میک تھی جس میں اسماعیل شاہ کو لالہ سدھیر والا کردار ملا تھا۔
”باغی قیدی“ کے بعد حیدر چوہدری کی پنجابی فلم”دلاری“میں اداکارہ ستارہ کے ساتھ ان کی پرفارمنس بہت پسند کی گئی،اس کے بعد حیدر چوہدری ہی کی ”ناچے ناگن“میں وہ نادرہ کے ہیرو تھے جس میں وہ شیش ناگ اور نادرہ شیش ناگن تھی،اس فلم سے اسماعیل شاہ کو بہت عروج ملا۔

1987 ء میں ہدایتکار وزیر علی کی”لو ان نیپال“ میں وہ شبنم اور اظہار قاضی کے بیٹے کے رول میں آئے اور خوبصورت اداکاری کی۔ داؤد بٹ کی ”تحفہ“ میں اسماعیل شاہ نے وہی کردار کیا جو”انجمن“میں وحید مراد یا”دلا دے سودے“ میں اعجاز درانی کر چکے تھے۔یہ خوبصورت فنکار 29اکتوبر 1992ء کو دل کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments