ڈبلیو ڈبلیو ای کی تاریخ میں پہلی بار پاکستانی نژاد ریسلر کو کمپنی کی سب سے بڑی چمپئن شپ مقابلے میں شرکت کا موقع مل گیا

مصطفی علی فروری میں شیڈول ایونٹ ایلیمنیشن چیمبر میں ڈبلیو ڈبلیو ای چمپئن ڈینیئل برائن کے مدمقابل ہونگے ڈبلیو ڈبلیو ای میں لڑنا میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، یہ وہ خواب ہے جس کے ساتھ میں بڑا ہوا،مصطفی کی گفتگو

بدھ جنوری 23:16

ڈبلیو ڈبلیو ای کی تاریخ میں پہلی بار پاکستانی نژاد ریسلر کو کمپنی کی ..
نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 جنوری2019ء) ڈبلیو ڈبلیو ای کی تاریخ میں پہلی بار ایک پاکستانی نژاد ریسلر کو اس کمپنی کی سب سے بڑی چمپئن شپ مقابلے میں شرکت کا موقع مل گیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستانی نژاد امریکی ریسلر مصطفی علی جو کافی عرصے تک ڈبلیو ڈبلیو ای کے پروگرام 205 لائیو میں کروزر ویٹ کلاس میں شامل تھے، فروری میں شیڈول ایونٹ ایلیمنیشن چیمبر میں ڈبلیو ڈبلیو ای چمپئن ڈینیئل برائن کے مدمقابل آئیں گے ۔

اس بات کا اعلان ڈبلیو ڈبلیو ای کے سی او او ٹرپل ایچ نے گزشتہ شب اسمیک ڈائون کے دوران کیا۔گزشتہ شب اسمیک ڈائون میں ڈبلیو ڈبلیو ای چمپئن ڈینیئل برائن کی نئی چمپئن شپ بیلٹ کے پرومو کے موقع پر یہ اعللان کیا گیا کہ مصطفی علی، سموا جوئی، اے جے اسٹائلز، رینڈی اورٹن اور جیف ہارڈی ایلیمنیشن چیمبر میچ میں دفاعی چمپئن کا مقابلہ کریں گے۔

(جاری ہے)

مصطفی کچھ عرصے پہلے ہی اسمیک ڈائون کا حصہ بنے اور اپنے پہلے میچ میں ڈینیئل برائن کو نان ٹائٹل میچ میں شکست دینے کے قریب پہنچ گئے جبکہ ایک ٹیگ ٹیم میچ میں مصطفی علی نے ڈینیئل برائن کو چت بھی کیا۔

اگرچہ مصطفیٰ علی کروزر ویٹ چمپئن شپ تو جیتنے میں ناکام رہے مگر انہیں ہارٹ آف 205 لائیو کی عرفیت دی گئی تھی جس کی وجہ ان کی صلاحیت اور میچز تھے۔اب وہ کروزر ویٹ ڈویژن سے نکل کر اسمیک ڈائون کے رکن بن چکے ہیں اور اس بارے میں مصطفی علی کا کہنا تھا کہ جب وہ ڈبلیو ڈبلیو میں آئے تو انتظامیہ چاہتی ھتی کہ وہ اینٹی امریکن ریسلر کا کردار ادا کریں تاہم ڈبلیو ڈبلیو ای کے سابق پروڈیوسر روڈ ڈوگ نے انہیں مشورہ دیا کہ برے ریسلر کی بجائے وہ بے بی فیس بنیں اور اس طرح وہ لوگوں کی محبت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

مصطفی علی پہلے پاکستانی نڑاد ریسلر ہیں جو ریسل مینیا کا بھی حصہ بن چکے ہیں۔ڈبلیو ڈبلیو ای کی آمد کے موقع پر ایک انٹرویو کے دوران مصطفی علی کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ڈبلیو ای میں لڑنا میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، یہ وہ خواب ہے جس کے ساتھ میں بڑا ہوا، اس کے لیے میں 13 برسوں سے کوشش کررہا تھا، اسی کے لیے میری ہڈیاں ٹوٹیں، متعدد تقریبات کو فراموش کیا، ڈبلیو ڈبلیو ای کے رنگ میں کھڑے ہونے کے لمحے کے جذبات بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 30/01/2019 - 23:16:08

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments