Ahmed Faraz

احمد فراز ․․․․

Ahmed Faraz
عرفان جاوید:
پردہ اٹھتا ہے اور اسٹیج پر دل ربا شاعر اسپاٹ لائٹ میں آن کھڑا ہوتا ہے ۔ہر سواند ھیرا ہے جو اُلجھے بالوں اور دل پذیر مسکراہٹ والے البیلے آدمی کو روشنی کے دائرے میں نمایاں کردیتاہے۔مزاحمتی شاعروں پر مسکراہٹ نہیں جچتی ‘یہ عجب مزاحمت کار ہے جس کا تبسم اس کی شخصیت نکھارد یتا ہے۔آج اُس کے دو سراخ چراغ عشق سے فروزاں ہے۔

وہ شعر پڑھنا شروع کرتا ہے۔
یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں
تمام تیری حکایتیں ہیں
یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں
لڑکیاں اپنی انگلیاں دانتوں تلی داب لیتی ہیں ۔مسحور ہیں وہ مجبور ہیں۔
مگر ہر ایک بار تجھ کو چھو کر
یہ ریت رنگ حنا بنی ہے
یہ زخم گل زاد بن گئے ہیں
یہ آہ سوزاں گھٹا بنی ہے
یہ دور موج صبا ہوا ہے
یہ آگ دل کی صدا ہوا ہے
ہر شعر کے اختتام پر دادو تحسین اور آہ کا نغمہ دل بلند ہو تا ہے اور فضا میں بکھر جاتا ہے۔

(جاری ہے)


اور اب یہ ساری متاع ہستی
یہ پھول یہ زخم سب ترے ہیں
یہ دکھ کے نوح یہ سکھ کے نغمے
جو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیں
جو تیری قربت تری جدائی
میں کٹ گئے روز وشب ترے ہیں
ہر ناز نین دل آرا دو شیز ہ حسن آرا کا گمان ہے کہ ان اشعار کی مخاطب وہ ہے ۔وہ سمجھتی ہے کہ یہ اشعار اس کا دل جس طرح گد گداتے ہیں کسی اور کی روح ایسے نہیں چھوتے ہوں گے ۔

شاعر انھیں نظر بھر کے دیکھتا ہے اور حیران ہوتا ہے کہ اس کے دل میں کیسے ہر لڑکی کے لیے ایک ساجذبہ موج زن ہے ۔وہ کئی دل فگار چہروں پر اُچنتی نگاہ ڈالتا ہے ۔فراز پرایک لڑکی عاشق ہوئی تھی ۔وہ حسین تھی یہ جذباتی ۔وہ گا یکی میں نام رکھتی تھی یہ شاعری میں ۔سو بات بڑھ کر شادی تک جا پہنچی ۔فراز تد بذب کا شکار تھے۔سو اپنے مربی فیض احمد فیض کے پاس مشورے کے لیے جا پہنچے ۔

انھوں نے مزید آگئے بڑھنے میں سے روک دیا۔ سو معاملہ جہاں تھا وہیں تھم گیا ۔بہت بعد فیض صاحب کے گزرجانے کے بھی بہت بعد فراز اس مشورے پر ازحد شکر گزار رہے۔
فراز کی محبتوں میں ازدواجی متعلقات کی جانب سے مداخلت نہ تھی ۔ایسے دبنگ آدمی تھے کہ شاعر انہ اور سیاسی معاملات کے علاوہ گھر یلو معاملات میں ان کا کہا حکم کا درجہ رکھتا تھا۔کسی کو ان کے معاملات حیات میں مداخلتکی جرا نہ ہوتی ۔

آزاد روش ارو زندگی کے اس حد تک قائل تھے کہ رات کو مطالعے کے بعد تنہا سوتے ۔غالبا ازدواجی بند شوں سے ذہنی طور پر آزاد ہونے کی وجہ سے ان میں لڑکپن باقی تھا۔ان کی شخصیت کا ایک پہلواور بھی تھا ۔ان کے والد پیشے کے لحاظ سے اکاوٴنٹینٹ تھے ۔وہ ایک سخت مزاج اور ڈسپلن برقرار رکھنے والے والد تھے ۔چناں چہ لڑکپن میں ادب کی جانب رحجان ہونے نی وجہ سے فراز گودو ستوں کی ادبی محافل میں بیٹھنے کا کچھ ایسا لپکا پڑا کہ کبھی گھر لوٹتے ہوئے تا خیر ہو جاتی ۔

ان کے والد بیٹے کے انتظار میں ہوتے۔ چناں چہ دروازہ کھولتے ہوئے وہ بر خودار کی نہ صرف باآواز بلند سر زنش کرتے بلکہ غصے میں دست وبازو پر اختیار کھو بیٹھتے۔والد کی سخت گیری کا ان کی نفسیات پر کچھ ایسا اثر ہو ا کہ وہ انفرادی شخصی آزادی کے نہ صرف اس حدتک قائل ہوگئے کہ اپنی ذات کے ہوگئے بلکہ گمان ہے کہ اس کا ردعمل ان کی شخصیت شاعر ی اور نظریات میں بھی نفود کرگیا۔

کچھ ایسی متلون مزاجی آگئی کہ پل میں تولہ پل میں ماشہ ۔سخت سے سخت بات کو ہنس کر ٹال دیا اور خفیف سی تنقید پر زودرنجی کا یہ عالم ہوا کہ ا س شخص کو عمر بھر معاف نہ کیا ۔مزاج میں سخاوت آئی تو احباب کے سہرے لکھ ڈالے اور طبیعت منقبض ہوئی تو تلخ نوائی میں وشام کی آگ بھڑک اٹھی ۔حاسدین نے کیا کیا الزامات نہ لگائے لیکن خود مست شاعر کبھی کبھار کچھارسے نکل کر دہاڑتو دیتا تھا دل کا روگ نہ لگاتا تھا۔

لوگ بھارت نواز ہونے کا الزام لگاتے ہوئے بھول گئے کہ شاعر شیردل بھارت اور دیگر ممالک جاکر ہندستان پر خوب دہاڑاتھا۔ دیگر ممالک تو فراز صاحب کا جانا عمر بھر لگارہا۔مشاعروں کی دعوتیں امریکہ سے لے کر یو گنڈا تک دنیا کے طول پر وعرض سے آتیں ۔فراز صاحب شاعر توضرور تھے لیکن ناوان نہیں جس دور میں امریکی ڈالر ایک مستحکم کرنسی تھی اور اسلام آباد میں زمین سستی فراز صاحب بیرون ملک مشاعروں کی آمد نی سے کاروبار ی بوجھ کے ساتھ سرمایہ کاری کرتے۔

پلاٹوں کے معاملات پر ان کی مقدمہ بازی چلتی رہتی ۔ عموماََ فیصلے ان کے حق میں آجاتے جن پر بعض بذلہ سنج کہتے۔رند فراز کے اندر ایک مومن چھپا بیٹھا ہے جس پر خدا اتنا مہربان ہے کہ اسے خوش کرنے کا سامان دنیا ہی میں مہیا کیے دیتا ہے۔
ہم حسب معمول فراز کو یاد کر رہے تھے تو بتانے لگے ۔ فراز من موجی آدمی تھے۔کبھی لوگوں کو تاثر دیتے جیسے وہ سو شلسٹ اور اہل تشکیک میں سے ہوں ۔

ایک مرتبہ میں نے فراز سے پوچھا کہ پٹھان ہوتے ہوئے تم اتنی اچھی اردو شاعری کیسے کر لیتے ہو تو انھوں نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور بولے ۔یہ اس کاکرم ہے۔ شاعری کے علاوہ شخصیت اور کردار کے لحاظ سے فیض کو بہت مانتے اور کہتے بہت solid آدمی تھے ۔زیدی صاحب کے لہجے میں اداسی تھی ۔فراز نے مجھے کئی باتیں بتانے سے منع کیا تھا آخری مرتبہ مجھ سے ملے تو مشاعر میں شرکت کرنے امریکا اور کینیڈا جا رہے تھے۔

واپسی پر نامکمل منصوبوں پر سوچ بچار کا پروگرام بنایا اور چلے گئے ۔وہیں بیمار ہو ئے ۔گردوں کا مسئلہ تو تھا ہی پھسل کر گرنے سے ایسی چوٹ آئی جو کئی قبامتیں ساتھ لے آئی ۔اسپتال داخل کروایا گیا۔چند روز بعد وطن واپسی کی ضدکرنے لگے ۔مجھے واپس لے چلو جب واپس آرہے تھے تو وہیل چیئر پر تھے ۔وہ بنگ فراز ایک بیمار کم زور مریض کی صورت واپس ہوا ۔

کومامیں تھا سوارد گرد سے بے نیاز تھا۔ واپسی پر فوٹو گرافروں کو ان کی تصاویر پر بنا نے سے منع کردیاگیا۔ہم دہنگ اور شرارتی فراز کا تاثر قائم رکھنا چاہیے تھے۔ وہ فراز جو اردو شاعر ی کا دل کش جسم بھی تھا اور اس کی مضطرب روح بھی ۔اسی لیے فراز کے ان لمحات کی تصاویر رکارڈ پر نہیں۔ میں نے سوچتے ہوئے کہا ۔ زیدی صاحب بولے ۔ان کا بہت کچھ ریکارڈپر نہیں فراز کی عمومی شہرت ایک کفایت شعار آدمی کی تھی ۔

ذہنی میں ان کے ایک قریبی دوست تھے جن کے ہاں وہ ہمیشہ قیام کرتے دوست کے بیٹے سے وہ اپنی اولاد جیسی محبت کرتے تھے ۔ اسنے اعلیٰ تعلیم کے لیے امیکا جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔فراز نے اسی وقت پچیس لاکھ روپے کا چیک کاٹا اور دوست خط کرکے دوست کویہ کہتے ہوئے دے دیاکہ بچے کے لیے اس کی حسب خواہش تعلیم بہت ضروری ہے ۔ اخراجات فراز صاحب اٹھائیں گے۔

واقعی ؟“ میں نے حیرت سے پوچھا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ بعد میں دوست نے چیک واپس لوٹادیا زیدی صاحب نے وضاحت کی ۔فرازکے بھائی مسعودکوثرصبوبہ سرحدکے گورنررہے۔فراز نے کبھی اپنے بھائی کے حوالے سے ملی مفعت کی کوئی بات نہ کی ۔․․․ایک مرتبہ ایک بینک نے فرازکے ساتھ لاہور کے مقامی ہوٹل میں ایک پرتکلف تقریب کااہتمام کیا۔جب تقریب کی کمپیئرنگ کی بات آئی تو انھوں نے ایک دوست کا نام تجویزکیا۔

اس تجویز کے پس پردہ اس دوست کو مالی فائدہ دیتے کا خیال تھا چوں کہ اسے ان دونوں چندمعاملات میں معاشی وسائل کی ضرورت تھی۔فراز اس تقریب میں اپنے جوبن پرتھے ۔انھوں نے چٹکلے واقعات خیالات اور اشعار کی رنگارنگ پھوار سے ماحول کو ہولی رنگ کردیا۔ یہ اسی تقریب کا واقعہ ہے کہ دانش ور سیاست دان اور قانون دان اعتزازاحسن اٹھ کر آئے اور ان کے قدموں کو محبت اور احترا م سے چھولیا۔


فراز کی روزمرہ زندگی کی ایک چھوٹی سی عادت ان کی ذات کے شبستان میں ننھے جگنوکی طرح دمکتی ہے۔ان کے ہاں ایک میاں بیوی کا جوڑاملازم تھا ۔جوڑے کا مناسااکلوتا بیٹا سماعت وگویائی چے محروم تھا۔جب کبھی فراز گھر آتے تو وہ ننھا سا گونگا بہر ہ بچہ بھاگتا ہواان کی جانب لپکتا اور فراز جیب سے کبھی ٹافی تو کبھی کوئی میٹھی شے اسے شفقت سے تھما دتے ۔

وہ بچے کے لیے ہر مرتبہ اہتمام سے کوئی شے لے کر گھر جاتے اور اسے معصومانہ مسرت کا اظہار کرتے دیکھ کر کھل اٹھتے ۔اس شام زیدی صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے گویا ایک رازبتانے کا فیصلہ کرلیا وہ افسر دہ لہجے میں بولے ۔فرازہوتے تو ناراض ہوتے ایسے معاملات دوسروں کے لیے مثال بنتے ہیں اس لیے بتار ہاہوں ۔ایک غریب صحافی ان کے ارادت مندوں میں سے تھا۔

ایک برسات میں ایسی موسلاد ھار بارشیں ہوئیں کہ اس صحافی کے گھر کی چھت اور ایک دیوار گرگئی ۔وہ پریشانی میں پھر رہاتھا کہ فرازصاحب سے ملاقات ہوگئی۔جب فراز صاحب نے اس کی پریشانی کا احوال سنا تو اسے آٹھ لاکھ روپے کی بلا شر ط امداد دے دی خووداری پر حرف نہ آئے ۔بھلے وقتوں میں آٹھ لاکھ روپے بہت بڑی رقم ہوا کرتی تھی ۔زیدی صاحب نے بات جاری رکھی ۔

میریپاس فراز صاحب کے اکاونٹس کا حساب رکھتا تھا۔ وہ کوئی بیواوں اور ضرورت مندوں کی باقاعدہ امداد کرتے تھے۔ان کے ماہانہ خرچ بند ھے ہوئے تھے جو فراز صاحب کے اکاونٹ سے باقاعدہ طور پر منہا ہوتے رہتے تھے۔میں ان کا مکمل حساب رکھتا تھا۔فراز کا بینکار یہ سب کچھ بتارہاتھا تو مجھے فراز کی ایک بات یاد آگئی جو انھوں نے اگست 2008 اپنی وفات سے پہلے مجھے کہی تھی ۔

سچا آدمی ہی بہادر آدمی ہوتا ہے ۔ میری یادواشت کے پاتال سے ان کے قہقہوں کی گونج سنائی دی ۔میں ایک کام یاب سرمایہ کار ہوں ۔وہ شاید واقعی ایک کا م یاب سرمایہ کار تھے۔شاعر مستحقین کی امداد اور سچائی میں سرمایہ کاری کرنے والے انوکھے اور دلیر آدمی۔اسپاٹ لائٹ شاعر کی آواز کی تیز ہوتی لے کے ساتھزیز ہوتی جاتی ہے۔یہاں تک کے ایک مقام پر آکر شاعر آخری شعر پڑھتا ہے اور حاضرین کی طرف دھندلی نگا ہوں سے دیکھتا ہے ۔

سامعین پر گویا سکتہ طاری ہے شاعر کھڑا ہوتا ہے مڑتا ہے دھیرے دھیرے مخصوص چال چلتا ہوا پردے کے پیچھے گم ہوجاتا ہے ۔سامنے صرف پردہ رہ جاتا ہے یا اس پراسپاٹ لائٹ کا گول دائرہ ۔سامعین ہوش میں آجاتے ہیں اور کھڑے ہو کر تالیاں بجانے لگتے ہیں تالیوں گونج بڑھتے بڑھتے ہر جانب پھیل جاتی ہے۔سامنے اسٹیج پر کرسی خالی ہے شاعر پردے کی دوسری جانب ایک نئی محفل سجانے کی تیاری کررہا ہے۔


ہم اپنے سلسلے ”دروازے “ میں (کہ یہ علم وہنر کی دل کش، رنگین دنیا میں کھلتے کچھ روزن، چنددریچے‘ ادب دفن کی بستی کے دروازے ہی ہیں) چند آئینہ کار خاکے اس امیدپرقارئین کی نذر کررہے ہیں کہ ان میں بہت کچھ سامانِ دیدوشنید ہے۔ مصنف کے دراصل کی نامور، ہم عصرادیبوں،شاعروں سے دوستانہ،مشفقانہ روابط رہے ،اوراسی سبب وہ خاکہ نگاری کی جانب ملتفت بھی ہوئے۔

متعددسوانحی، تجزیاتی نوعیت کے مضامین/ خاکے لکھ چکے ہیں۔ اور اب ان کی ذہانت، صلاحیت ولیاقت کی اِک اورگواہی یہ سلسلہ” دروازے“ ہے۔ آپ بھی دیکھے کہ ہمارے محبوب ادیب شاعر دانش ورکس طور زندگی برتتے ‘ صبح کوشام‘ شام کو صبح کرتے تھے اور کن حالات میں انھوں نے متعدد تخلیقی معر کے سر کیے۔ہمارے سلسلے کایہ چوتھا خاکہ احمد فراز کاہے۔ پڑھیے اور بتایے کہ کیاواقعی وہی احمد فراز ہیں جنھیں آپ اور ایک دنیا جانتی ہے۔ ہمیں یقین ہے‘ ہمارے اس سلسلے کی یہ چوتھی کڑی بھی آپ سے سندِ قبولیت حاصل کرے گی ۔ ہمیں اپنی راے سے آگاہ کرناہر گز مت بھولیے گا۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-05

Your Thoughts and Comments