Khush Rahoo

خوش رہو

جمعہ مئی

Khush Rahoo
شفیق الرحمن
لڑکے بھاگم بھاگ بڑے چوک میں پہنچے اور اپنے سرگروہ کا انتظار کرنے لگے۔کچھ دیر بعد جاں نثار چیلوں نے دیکھا کہ استاد آگی ننھے یولی سیز کا ہاتھ پکڑے آرہا تھا۔سب اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔
”آگی‘کچھ ملا؟“
”یہ بھی پوچھنے کی بات ہے؟مجھے درخت پر چڑھتے دیکھا تھا یا نہیں؟“
”تو پھر دکھاؤ خوبانی کہاں ہے؟“
یولی سیز بڑے انہماک سے سب کو دیکھ رہا تھا۔

وہ اب تک نہ سمجھ سکا تھا کہ لڑکے کس چکر میں ہیں‘لیکن اسے یقین تھا کہ جو کچھ ہو رہا ہے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
لڑکوں نے آگی کو گھیر لیا۔”اچھا دیکھیں۔کہاں ہے خوبانی؟“
آگی کا ہاتھ جیب میں گیا۔جیب سے بند مٹھی نکلی۔

(جاری ہے)

سب کی نگاہیں مٹھی پر جمی ہوئی تھی۔
مٹھی آہستہ آہستہ کھلی۔آگی کی ہتھیلی پر چھوٹی سی سبز خوبانی رکھی تھی۔


اس کے مداحوں کے چہرے مسرت سے دمکنے لگے۔وہ اپنے قائد کو بڑی محبت سے دیکھ رہے تھے۔لائینل نے یولی سیز کو گود میں اٹھا لیا‘کہ کہیں وہ اس نظارے سے محروم نہ رہ جائے۔
خوبانی دیکھتے ہی یولی سیز گھر کی طرف بھاگا کہ یہ کہانی کسی کو سنائے۔
چوک کی بڑی دکان سے ایک لمبے قد کا فلاسفر نما شخص باہر نکلا۔یہ مسٹر ایرا تھا‘جو سات برس سے پھلوں کا کاروبار کرتا تھا۔

وہ کچھ دیر آگی اور اس کے ساتھیوں کو دیکھتا رہا۔
”لڑکوں!یہ کیا ہو رہا ہے؟ریاست ہائے متحدہ کی کانگرس کا اجلاس!چلو بھاگو!دکان کے سامنے جلسے نہیں کیا کرتے۔“
”مسٹر ایرا ہم ابھی چلے جاتے ہیں۔آپ کو خوبانی دکھائیں؟“آگی بولا۔
”خوبانی۔خوبانی کہاں سے ملی؟“
”درخت سے توڑ کر لائے ہیں۔“
”ابھی سے کہاں دھری ہیں خوبانیاں۔

دو مہینے بعد کہیں آئیں گی‘مئی میں۔“
”جی نہیں یہ مارچ کی خوبانی ہے۔دیکھئے کیسی حسین و جمیل ہے ملاحظہ فرمایئے۔“
”اچھا اچھا دیکھ لی۔اب کہیں اور جا کر جلسہ کرو۔سینچر بیوپار کا دن ہوتا ہے ۔تم نے صبح ہی صبح دکان پر بھیڑ لگا دی۔گاہک بدک کر اِدھر اُدھر چلا جائے گا۔“
”بہت اچھا مسٹر ایرا۔ہم جانتے ہیں۔چلو لڑکوں۔


ایرا انہیں سڑک عبور کرتے دیکھ رہا تھا۔جب لڑکے دور نکل گئے‘تو وہ واپس دکان میں آگیا۔اندر ایک چھوٹا سا لڑکا کھڑا‘جس کی شکل ہوبہو ایرا پر تھی۔
”ابا۔“
”ہاں بیٹے۔“ایرا نے آرمینی زبان میں کہا۔
”سیب لوں گا۔“
باپ نے سیبوں کے ڈھیر میں سے ایک اچھا سا دانہ چنا۔
”یہ لو سیب۔“
وہ اپنے بیٹے کو دیکھنے لگا۔

لڑکا کچھ بجھا بجھا سا تھا۔وہ بشاشت غائب تھی جو عموماً بچوں کے چہروں پر ہوتی ہے۔ایسی ہی پژمردگی باپ کے چہرے پر تھی‘حالانکہ ان کی عمروں میں کوئی چالیس برس کا فرق ہو گا۔بچے نے سیب چکھا اور کسی خیال میں کھو گیا۔باپ سمجھ گیا کہ سیب لے کر بچہ کچھ زیادہ خوش نہیں ہوا۔بچے نے سیب ایک طرف رکھ دیا اور باپ کو دیکھنے لگا۔
اپنے آبائی وطن سے سات ہزار میل دور۔

وہ دونوں اتھیکا میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔شاید دل کی ویرانی تھی یا احساس تنہائی جس کی وجہ سے دونوں اداس تھے۔لیکن یہ اداسی سات ہزار میل پرے اپنے وطن میں بھی ہو سکتی تھی۔باپ غور سے اپنے بیٹے کے چہرے کو دیکھ رہا تھا‘جو اس کے اپنے چہرے کا عکس تھا۔وہی خدوخال‘وہی آنکھیں‘آنکھوں سے جھلکتی ہوئی وہی اداسی۔دونوں بالکل ایک جیسے تھے۔

فقط ایک کم عمر تھا۔باپ نے سیب اٹھا لیا اور خود کھانے لگا۔اسے سیب کچھ زیادہ پسند نہیں تھے۔بھوک بھی نہیں تھی‘پھر بھی وہ کھانے لگا۔اگر بیٹے نے نہیں کھایا تو اتنا اچھا سیب ضائع ہو جائے گا۔اس کا اصول تھا کہ کوئی چیز ضائع نہیں کرنی چاہیے۔مشکل سے اس نے سیب ختم کیا۔
”ابا۔“
”ہاں بیٹے۔“
”نارنگی لوں گا۔“
باپ نے ایک اچھی سی نارنگی چن کر بیٹے کو دے دی۔


”لو نارنگی۔“
لڑکا چھلکا اتارنے لگا۔اتنی تیزی سے نارنگی چھیلتے دیکھ کر اسے یقین ہو گیا کہ بیٹا خوش ہوا ہے لیکن لڑکے نے دو پھانکیں کھا کر نارنگی ایک طرف رکھ دی۔
باپ کو نارنگی بھی کھانی پڑی۔اس مرتبہ اس نے نصف سے زیادہ نارنگی کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دی۔
”ابا۔“
”ہاں بیٹے۔“
”مٹھائی لوں گا۔“
اس نے الماری کھول کر سب سے لذیذ اور عمدہ مٹھائی کی بڑی ساری ڈلی لڑکے کی ہتھیلی پر رکھ دی۔


”یہ رہی مٹھائی۔“
لیکن لڑکے کو لطف نہ آیا۔مٹھاس کے سوا اس میں کچھ بھی تو نہیں تھا۔اس نے ڈلی کا بچا ہوا حصہ باپ کو واپس دے دیا۔محض ضائع نہ کرنے کے خیال سے اس نے ایک لقمہ لے تو لیا لیکن پھر کچھ سوچ کر اسے بھی پھینک دیا۔اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چلا تھا۔وہ دل ہی دل میں ان لوگوں کو کوس رہا تھا‘جو نرے گنوار اور جنگلی تھے‘جو کئی ہزار میل دور آباد تھے۔


”ابا۔“
”ہاں بیٹے۔“
”کیلا لوں گا۔“
باپ نے لمبا سانس لیا۔ابھی وہ بالکل ناامید نہیں ہوا تھا۔اس نے گچھے سے بڑا سا پکا ہوا کیلا توڑا۔
”یہ لو کیلا۔“
ایک گاہک دکان میں آگیا۔دونوں نے سر ہلا کر علیک سلیک کی۔
”آپ کے پاس شیرمال ہیں؟“گاہک نے پوچھا۔
”کس قسم کے شیرمال؟“
اتنے میں ایک اور گاہک آگیا۔

یہ یولی سیز تھا‘جو کونے میں کھڑا غور سے باتیں سن رہا تھا۔
”شیرمال جن میں کشمش ہوں۔“پہلے گاہک نے بتایا۔
”کشمش والے شیرمال۔جن میں کشمش ہوں۔دیکھتا ہوں۔“
ایرا الماریاں کھولنے لگا۔اس کا لڑکا بچا ہوا کیلا لے کر سامنے آکھڑا ہوا۔
”ابا۔“
باپ نے غصے سے دیکھا۔”تم نے سیب مانگا‘میں نے سیب دیا۔نارنگی مانگی وہ دی‘پھر مٹھائی لی‘کیلا لیا۔

اب کیا چاہیے؟“
”شیرمال لوں گا۔“
”کیسا شیرمال؟“
اس کاروئے سخن بیٹے کی طرف تھا‘گاہک کی طرف تھا۔اور ان سب لوگوں کی طرف بھی جو ہر وقت چیزیں مانگتے رہتے ہیں۔
”جس میں کشمکش ہوں“۔لڑکے نے جواب دیا۔
باپ نے غصہ ضبط کر لیا‘بیٹے سے کچھ کہنے کی بجائے گاہک سے بولا۔
”دکان میں اور سب چیزیں ہیں‘لیکن شیرمال نہیں ہیں۔

ویسے کیا کریں گے آپ شیرمال کا؟“
”ایک بچے کو دوں گا۔“
”یہ میرا بچہ جو آپ کے سامنے کھڑا ہے‘سیب‘نارنگی‘مٹھائی کے علاوہ اور نہ جانے کیا کیاخرافات مانگتا رہتا ہے‘لیکن اسے کچھ بھی پسند نہیں آتا۔“
”میرے بھتیجے کو تیز بخار ہے‘وہ رو رہا ہے‘بار بار یہی کہتا ہے کہ کشمش والا شیرمال لوں گا۔“گاہک بولا۔


”ابا۔“ایرا کے لڑکے کو ایک ہی دھن لگی ہوئی تھی۔نہ اسے گاہک کی پروا تھی نہ باپ کی۔
ایرا نے کوئی توجہ نہ دی۔وہ گاہک کو دیکھنے لگا جس کا بھتیجا بیمار تھا۔اسے گاہک سے ہمدردی سی ہو گئی تھی۔اس کے دل میں کئی چیزوں کے لئے نفرت عود کر آئی۔بیماری‘درد‘تنہائی‘کسی شے کی جستجوئے لا حاصل۔اپنے اوپر غصہ آنے لگا کہ وطن سے ہزاروں میل دور آکر دکان کھولی۔

لیکن اب بیمار بچے کے لئے شیرمال کی ضرورت ہوئی تو وہی اس کے پاس نہ نکلا۔
اس نے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کیا”میرے بیٹے کو لیجیے۔یہ اچھا بھلا ہے‘تندرست ہے۔اسے سیب چاہیے‘نارنگی چاہیے‘مٹھائی‘کیلا‘ اور نہ جانے کیا کیا چاہیے۔دراصل کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔سب دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔خدایا!ہمیں یہ عطا فرما۔

وہ عطا فرما۔
انسان ہر وقت غیر مطمئن اور کچھ نہ کچھ مانگتا ہی رہتا ہے۔اس دائمی وحشت کا کیا علاج ہے؟خدا نے ہمیں سبھی کچھ تو دے دیا۔زندگی‘روشنی‘ دھوپ‘محبت کرنے والے عزیز و اقارب‘گھر کی سکون بخش فضا۔لیکن ناشکرا انسان اس بچے کی طرح غمگین رہتا ہے جسے بخار چڑھا ہوا ہو۔ بار بار وہ شیرمال مانگتا ہے جس میں کشمش ہوں۔“
ایرا نے کاغذ کا تھیلا لیا اور اس میں چیزیں بھرنے لگا”یہ شیریں نارنگیاں ہیں۔

یہ خوشبودار سیب۔یہ لذیذ کیلے۔میری طرف سے اپنے بھتیجے کو دے دیجیے۔شاید وہ بہل جائے۔قیمت ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔مجھے افسوس ہے کہ آپ کو شیرمال نہ دے سکا۔“
”شکریہ!میں یہ تھیلا اسے دے دوں گا‘مگر اس پر تو جیسے بھوت سوار ہے۔
بار بار شیرمال مانگتا ہے۔اگلی دکان پر نہ پوچھ لوں؟“
”پوچھ لیجیے۔لیکن کشمش والے شیرمال ان کے ہاں بھی نہیں ہیں۔

یہاں کسی کے ہاں نہیں ملیں گے۔“
گاہک چلا گیا۔ایرا اپنے بیٹے کی طرف گھورتا رہا۔پھر اپنی مادری زبان میں زور زور سے بولنے لگا۔”دنیا پاگل ہو گئی ہے۔ہمارے وطن کے پڑوس میں روس ہی کو دیکھو۔لاکھوں بچے اور بڑے بھوکوں مر رہے ہیں۔دن بھر ٹھٹھرتے ہوئے‘ننگے پاؤں مارے مارے پھرتے ہیں۔ رات کو سونے کے لئے چھت کا سایہ تک میسر نہیں۔اور ہم ہیں کہ امریکہ میں گلچھرے اُڑا رہے ہیں۔

بڑھیا جوتے اور قیمتی کپڑے پہن کر سیریں کرتے ہیں۔کوئی پستول لے کر ہمارا تعاقب نہیں کرتا۔کوئی بندوق لے کر ہمارے عزیزوں کو مارنے نہیں آتا۔کوئی ہمارے مکان نہیں جلاتا۔ہم موٹروں میں اُڑتے پھرتے ہیں۔اچھے سے اچھا کھانا میسر ہے۔زبگدی کی سب آسائشیں موجود ہیں لیکن ہم پھر بھی خوش نہیں ہیں۔غمگین رہتے ہیں۔سیب۔نارنگی۔مٹھائی۔کیلا۔بیٹے خدا کے لئے ایسی حرکتیں مت کیا کرو‘ان سے ناشکری ٹپکتی ہے۔

میں کروں تو کوئی بات بھی ہے۔لیکن تم میرے بیٹے ہو اور تمہیں مجھ سے بہتر ہونا چاہیے۔ہمیشہ خوش رہو۔میں غمگین ہوں‘تم تو خوش رہا کرو۔“
اس نے عقبی دروازہ کی طرف اشارہ کیا۔بچہ چپ چاپ گھر میں چلا گیا۔ایرا نے یولی سیز کی طرف دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔
”ننھے‘تمہیں کیا چاہیے؟“
”دلیا۔“
”کس قسم کا دلیا؟“
”ناشتے کا۔


”دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک زود ہضم ہے اور دوسرا کچھ ثقیل لیکن منٹوں میں تیار ہوتا ہے۔کون سا دوں؟“
”ناشتے کا دلیا۔“
”زود ہضم یا دوسرا؟“
”جی دلیا جو ناشتے میں کھایا جاتا ہے۔“
”اچھا زود ہضم لے جاؤ۔آٹھ سینٹ ہوئے۔“
یولی سیز نے مٹھی کھول کر چمکدار سکہ نکالا۔ریزگاری اور دلیے کا پیکٹ لے کر دکان سے باہر آگیا۔آج کے واقعات ایک حد تک ناقابل فہم تھے۔پہلے خوبانیوں کا درخت‘پھر کشمش والا شیرمال‘اس کے بعد مسٹر ایرا کی کسی اجنبی زبان میں تقریر۔
خیر جو کچھ بھی تھا‘کافی دلچسپ تھا۔
یولی سیز نے طرارہ بھرا اور گھر کی طرف بھاگنے لگا۔
تاریخ اشاعت: 2021-05-07

Your Thoughts and Comments