معصوم نسلیں، اچھو، گاما اور گلو بٹ

پیر اکتوبر

Anwaar Ayub Raja

انوار ایوب راجہ

بہت سال پہلے ، کوئی ایک دہائی پہلے ، برطانیہ کے ایک چھوٹے سے قصبے سے ایک اہم شخصیت کی بیٹی گھر سے بھاگ گئی ۔یہ گھر کی بات تھی گھر میں ہی رہی ۔ان صاحب نے سب کو بتایا کہ ان کی بیٹی پڑھنے امریکہ چلی گئی ہے ، یہ راز بہت کم لوگوں کو معلوم تھا ۔آہستہ آہستہ سب نے مان لیا کہ ان کی بیٹی امریکہ ہی گئی ہے ۔
کوئی سال بعد اس قصبے میں ایک اور اہم شخصیت کا ایک بیٹا منشیات کی سمگلنگ میں گرفتار ہو گیا ، اسے پولیس نے تگڑے ثبوتوں کے ساتھ گرفتار کیا تھا اس لیے عدالت نے قانونی کاروائی کے بعد اس صاحبزادے کو بیس سال کی قید سنا دی ۔

اس چھوٹے سے قصبے کے لوگ صرف پاکستانی یا انڈین چینل دیکھتے تھے یہ لوگ نہ تو انگریزی اخبار پڑھتے تھے اور نہ ہی انگریزی چینل دیکھتے تھے۔

اس لیے کسی کو علم نہیں ہو سکا کہ ان کی کمیونٹی کے کسی اہم شخصیت کا بیٹا ایک اہم معرکے میں دھر لیا گیا ہے ۔جب کچھ عرصے تک یہ صاحبزادہ بھی لوگو ں کو نظر نہیں آیا تو لوگوں نے سوال کیے۔والدین نے لوگوں کو بتایا کہ ان کا بیٹا امریکہ کمپیوٹر کورس کرنے گیا ہے اور اس کے بعد اسے وہیں نوکری بھی مل جائے گی ۔

لوگوں نے مبارکباد دی اور سب نے مان لیا کہ یہ امریکہ ہی گیا ہے ۔
اسی طرح ایک اور اہم شخصیت کا بھائی کسی جرم میں پکڑا گیا ، اسے بھی سزا ہوئی اور وہ بھی امریکہ چلا گیا …..۔آہستہ آہستہ امریکہ جانے والے شہری بڑھتے گئے اور قصبے کے لوگوں کو احساس ہو گیا کہ امریکہ کوئی عام سی جگہ ہے جہاں کوئی بھی جا سکتا ہے ۔ایک روز ایک دوکان پر چھاپا پڑا، لاکھوں پاوٴنڈ مالیت کے چور ی کے آلات پکڑے گئے اور یہاں سے بھی کچھ نئے امریکی شہری گرفتار ہوئے۔

یہاں سے پکڑے گئے عزت دار نئے امریکی شہریوں کے والدین نے بھی اپنے بچوں کو امریکہ بھجوا دیا مگر ان میں سے ایک امریکی شہری نہیں تھا ۔ان مجرموں یا مشتبہ افراد میں سے ایک کا باپ سب کے راز جانتا تھا اس لیے اس نے اپنے گھر میں سب کو بتایا کہ اگر کوئی پوچھے تو بتانا ہے کہ ہمارا بیٹا اسپین گیا ہے ۔ اسے لگا کہ کہیں مستقبل میں اگر امریکہ والا راز فاش ہو گیا تو اسے باقی لوگوں کی طرح شرمندگی اٹھانی پڑے گی اس لیے ضروری ہے کہ نئی جگہ متعارف کروائی جائے ، روٹین کو بدلا جائے .
گھر والوں نے سب کو بتانا شروع کر دیا کہ ان کا بیٹا اسپین گیا ہے مگر کوئی یقین نہ کرتا ۔

سب سوچتے کہ اسپین غریب ملک ہے اس لیے دال میں کچھ کالا ہے ۔لوگوں نے آپس میں باتیں شروع کر دیں اور معلومات اکٹھی کیں تو پتہ چلا کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے اور اس کا بیٹا جیل میں ہے .
اس قصبے میں ایک چھوٹی سی ایشین کمیونٹی رہتی تھی ۔زیادہ تر لوگ فیکٹریوں میں کام کرتے تھے اور ان سب کا معمول بڑا ریجمنٹل قسم کا تھا ۔کام پر جا نا ، رات کو آنا ، کھانا کھا کر سو جانا اور پھر سے صبح کا آغاز ، ناشتہ ، کام ، کھانا اور پھر سونا ۔

ان لوگوں کے لیے انگریزی اخبار اور ٹی وی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی سب کے گھروں میں پاکستانی / ہندوستانی چینل آتے اور خواتین کا معمول بس ٹی وی دیکھنا اور فون پر پاکستان بات کرنا تھا ۔اس سب میں ان کی ایک نسل جو یہاں پیدا ہوئی تھی ایک الگ رستے پر چل نکلی .
اسی طرح کئی سالوں سے بہت سے لوگوں کے بیٹے ، بیٹیاں ، بہنیں ، بھائی اور نہ جانے کتنے رشتے دار امریکہ جاتے رہے مگر کسی نے یہ نہیں سوچا کہ امریکہ کا ا سکالر شب ان لوگوں کو ملتا کہاں سے ہے ، جونہی روٹین میں تبدیلی آئی سب کے کان کھڑے ہو گئے اور روٹین سے ہٹ کر بات کرنے والے شخص کو سب نے بے نقاب کر دیا ۔

سب حمام میں ننگے تھے مگر جب کسی نے اپنا الگ حمام کھولنے کی کوشش کی تو وہ بے نقاب ہو گیا کیونکہ وہ امریکہ نہیں اسپین سے تعلق جوڑ رہا تھا .، وہ غیر معمولی بات کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔.
کل رات سے سوشل میڈیا بہت سے معزز صحافی اور تجزیہ نگار پاکستان کیکچھ نجی چینلز پر پاکستان کے ایک انتہائی معزز بدمعاش شاہد عزیز بٹ عرف گلو بٹ عرف شیر لاہور کے انٹرویوز چلنے کے بعد تنقید کر رہے ہیں کہ ایسے شخص کو ایئر ٹائم دینا بہت غلط ہے اور یہ ایک غیر اخلاقی حرکت ہے ۔


پاکستان بھی اسی قصبے جیسا ملک بن گیا ہے جہاں کے شہری صرف امریکہ جاتے تھے مگر جونہی کوئی اسپین گیا سب کو برا لگا یعنی سب صحافی جانے مانے ڈیفالٹر ز ، سزا یافتہ مجرموں اور بڑے بڑے ٹھگوں کو مہان ثابت کرتے رہے مگر جب روٹین میں تبدیلی آئی تو یہ میڈیا ا یتھیکس(اخلاقیات) کے خلاف ہو گیا ۔بہت سے صحافی، عزت دار لوگ اور ناقدین گلو بٹ کے ٹی وی پر انٹرویو کے خلاف ہیں اور نا خوش نظر آتے ہیں ۔

مجھے بھی لگتا ہے کہ یہ انتہائی فضول اور ٹی آر پی حاصل کرنے کا ایک انتہائی بھونڈا طریقہ تھا یا ہو سکتا ہے کہ گلو حقیقت میں ایک قومی مسئلہ ہے مگر سوچنے کی بات ہے کہ جب اصل گلو بٹ ٹی وی پر آتے ہیں تو کوئی احتجاج کیوں نہیں کرتا ۔
گلو ایک لائف اسٹائل کا نام ہے ایسے گلو ہر گلی ، ہر محلے اور ہر شہر میں ہوتے ہیں ۔میں سوچ رہا ہوں کہ وہ دو یا چار درجن گلو جو پورے پاکستان کے نظام کو ہائی جیک کیے ہوئے ہیں اور جنھیں بے شمار ایئر ٹائم ملتا ہے اور جن کی شہرت گندی اور کردار بد بو دار ہے کیا کبھی ایسے ہو گا کہ ان کے ٹی وی پر آنے پر بھی پابندی لگ سکے۔


پاکستان معصوم نسلوں کا ملک ہے ، ان کی معصومیت کی انتہا یہ ہے کہ کوئی بھی کبھی بھی ان کے جذبات سے کھیل سکتا ہے ۔یہاں کک بیک کا سسٹم ہے ۔ایسے میں کون سے ایتھکس اور کہاں کی میڈیا پالیسی ۔صبح کا آغاز ناچ گانوں کے پروگراموں اور بے ہودگی سے ہوتا ہو تو گلو کا ٹی وی پہ آنا بھی کوئی اچنبہے کی بات نہیں ۔کچھ روز پہلے ایک چینل کے مارننگ شو میں ہوسٹ اپنی مہمان سے کہتی ہے کہ میں ایک نمبر ڈائل کرتی ہوں جو کوئی اس نمبر پر بولنے والی شخص سے بکرے کی آواز نکلوائے گا اسے انعام ملے گا ۔

خاتون ہوسٹ نمبر ڈائل کرتی ہیں اور سپیکر فون پر ایک صاحب بات کرتے ہیں ۔ خاتون انھیں کہتی ہیں کہ مجھے آپ سے کام ہے ، وہ صاحب فرماتے ہیں رات بارہ کے بعد فون کرنا پھر ہم تفصیل سے بات کریں گے ۔ خاتون پھر بھی بات جاری رکھتی ہیں اور آخر کار وہ صاحب بکرے کی آواز نکال ہی دیتے ہیں ۔کیا یہ معصوم نسلیں نہیں ہیں ؟ ان میں اخلاقیات کہاں سے آئیں گے ؟ ان ٹی وی شوز سے ؟ یا پھر ان سیاستدانوں سے ؟ نہیں میرا خیال ہے یہ اخلاقیات انہیں گلو بٹ ہی سکھا سکتا ہے اس لیے اس کا ٹی وی پہ آنا کوئی معیوب بات نہیں ۔

پچھلے دنوں ایک دوست نے ایک چھوٹا سا نوٹ بھجوایا جو نظام کی صحیح عکاسی کرتا ہے یہ ٹیکسٹ کی صورت موصول ہوا اور میں اسے ویسے ہی کوٹ کر رہا ہوں .
ٹیکسٹ میں لکھا تھا "سکول میں ٹیچر نے بچوں سے کہا کہ کل کلاس کا گروپ فوٹو ہو گا ، اس لئے سب بچے پچاس پچاس روپے لے کر
آئیں۔اور اچھے سے کپڑے پہن کر آ نا ہے۔چلو اب چھٹی۔سکول سے باہر آ کر ، گاما ، اچھو سے کہتا ہے۔

یار یہ سب سکول ٹیچروں کی چالاکی ہے۔ایک فوٹو کے باہر بیس روپے لگتے ہیں اور یہ ہم سے پچاس پچاس منگوا رہے ہیں۔مطلب یہ کہ ایک بچے سے کوئی تیس تیس روپے بچائیں گے۔یعنی کہ ایک کلاس سے کوئی اٹھارہ سو اور پورے سکول سے کوئی دس ہزار روپے !!!۔انہوں نے کھلی لوٹ مچا کر رکھ دی ہے۔
اچھو نے لقمہ دیا ، ہاں ہاں یہ سارا کمیشن کا چکر ہے۔گاما غصے سے کہتا ہے اور بعد میں یہ سٹاف روم میں بیٹھ کر سمو سے کھائیں گے ، اور ہمیں ٹھینگا ملے گا۔

اچھو گامے کو ٹھنڈا کرتے ہوئے کہتا ہے چل چھڈ یار ، گھر چل کر ماں سے پیسے مانگتے ہیں۔گامے اور اچھو نے گھر جا کر اپنی اپنی ماں سے کہا کل سکول میں گروپ فوٹو ہے !ماسٹر نے سو سو روپے لانے کو کہا ہے !!!گامے کی ماں ، اسی دن فون کر کے اپنے خاوند کو بتاتی ہے کہ مہنگائی بہت ہو گئی ہے۔ماسٹر نے گروپ فوٹو کے دو دو سو روپے منگوائے ہیں اور تمہاری کمائی میں جس تنگی ترشی سے میں گزارہ کر رہی ہوں یہ میں ہی جانتی ہوں یا میرا رب…..." کیا یہ معصوم نسلیں نہیں ہیں ؟ جیسے اس قوم کے لیڈر معصوم ویسے ان کے گلو معصوم اور ویسے ہی ان کے صحافی، ٹی وی اسٹیشن اور ان کے پروگرام ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Masoom Naslain Column By Anwaar Ayub Raja, the column was published on 06 October 2014. Anwaar Ayub Raja has written 83 columns on Urdu Point. Read all columns written by Anwaar Ayub Raja on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.