اپوزیشن جماعتیں لندن میں ہونے والی اے پی سی ملتوی کرنے پر متفق، حتمی منظوری نواز شریف دیں گے،مشترکہ اجلاس میں وکلاء کی احتجاجی تحریک اور چیف جسٹس کو غیر فعال کئے جانے کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال بارے آئندہ کی حکمت عملی طے کی گئی، سندھ میں 19 مارچ کو وکلاء کی طرف سے احتجاج کی کال پر بھرپور شرکت کا فیصلہ، سرحد میں احتجاجی پروگرام میں بھرپور شرکت کی جائے گی، 21 مارچ کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کیخلاف ریفرنس کی سماعت کے موقع پر تمام اپوزیشن جماعتیں احتجاج میں شریک ہوں گی، اے پی سی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کی صحافیوں و بریفنگ

ہفتہ مارچ 23:51

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17مارچ۔2007ء ) تمام حزب اختلاف جماعتوں نے لندن میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس ملتوی کرنے پر اتفاق کیا ہے تاہم اس کی حتمی منظوری نواز شریف دیں گے۔ اجلاس میں پیپلزپارٹی کے کسی عہدیدار نے شرکت نہیں کی۔ مشترکہ اجلاس میں وکلاء کی احتجاجی تحریک اور چیف جسٹس کو غیر فعال کئے جانے کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال بارے آئندہ کی حکمت عملی طے کی گئی جبکہ سندھ میں 19 مارچ کو وکلاء کی طرف سے احتجاج کی کال پر بھرپور شرکت کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرحد میں احتجاجی پروگرام میں بھرپور شرکت کی جائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 21 مارچ کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کیخلاف ریفرنس کی سماعت کے موقع پر تمام اپوزیشن جماعتیں احتجاج میں شریک ہوں گی۔

(جاری ہے)

یہ فیصلے ہفتہ کو یہاں مسلم لیگ (ن) سیکرٹریٹ میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے ہونے والے مشترکہ اجلاس میں کئے گئے جس میں ایم ایم اے کے صدر قاضی حسین احمد، سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان، جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ سمیع الحق، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، شہزادہ فضل کریم، اے این پی کے زاہد خان، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) حمید گل، مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق، تہمینہ دولتانہ، ایم ایم اے کے رہنما ساجد نقوی، مشاہد اللہ، امیر حسین گیلانی و دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفرالحق نے صحافیوں کوبریفنگ دی تاہم ایک نجی ٹی وی چینل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں تمام پارٹیوں نے لندن میں ہونے والی آل پارٹیزکانفرنس ملتوی کرنے پر اتفاق کیا ہے تاہم اس سلسلے میں منظوری نواز شریف دیں گے جبکہ پیپلزپارٹی نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور اس کے کسی نمائندے نے شرکت نہیں کی۔

اجلاس میں وکلاء کی احتجاجی تحریک اور چیف جسٹس کو غیر فعال کئے جانے کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال بارے آئندہ کی حکمت عملی طے کی گئی جبکہ سندھ میں 19 مارچ کو وکلاء کی طرف سے احتجاج کی کال پر بھرپور شرکت کا فیصلہ کیا گیا۔ سرحد میں احتجاجی پروگرام میں بھرپور شرکت کی جائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 21 مارچ کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کیخلاف ریفرنس کی سماعت کے موقع پر تمام اپوزیشن جماعتیں احتجاج میں شریک ہوں گی۔

جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹریٹ میں ہونے والی اے پی سی کے اختتام پر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) چیئرمین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اجلاس میں لندن میں 24 اور 25 مارچ کو ہونے والی اے پی سی ملتوی کرنے کے بارے میں آراء آئی ہیں تاہم یہ معاملہ نواز شریف پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ کیا اے پی سی ملتوی کی جائے یا منعقد کرائی جائے اور وہی اب اس کا حتمی فیصلہ وہی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں 19 تاریخ کو کراچی میں وکلاء کے احتجاجی مظاہرے میں بھرپور شرکت کریں گی۔ راجہ ظفر الحق نے کہا کہ چند روز قبل جماعت اسلامی کے سیکرٹریٹ میں تمام جماعتوں نے شرکت کی تھی اور وہاں پر ایک سٹیئرنگ کمیٹی بنائی گئی جس کی میں نے صدارت کی۔ ایم ایم اے کے صدر قاضی حسین احمد نے اس خواہش کااظہارکیا تھا کہ وکلاء، صحافیوں اورسیاسی قائدین پر جو تشدد ہوا ہے اسلام آباد، لاہوراورکراچی میں خاص طور پر حکومت کی طرف سے جو تشدد کی لہر آئی ہے اس کے بارے میں ایک مشترکہ حکمت عملی اختیارکی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہفتے کی رات کواجلاس میں حکومت کی طرف سے پولیس گردی، وکلاء اورصحافیوں اور قائدین پر تشدد، نجی ٹی وی چینل کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی مذمت کی ہے۔ راجہ ظفرالحق نے کہا کہ صحافیوں اور صحافت پر جو حکومت کی طرف سے پریشر ڈالا گیا ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور ان کی دلیری اورجرات کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 19 تاریخ کو کراچی میں وکلاء نے مظاہرے کا جو اعلان کیا ہے ساری جماعتیں عملاً اس کی حمایت کریں گی۔

21 مارچ کو اپوزیشن بھرپور شرکت کرے گی اور جواس دفعہ شریک نہیں ہوئے تھے اگلی بار وہ بھی شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ پورے سرحد میں اے این پی اے ورکر، وکلاء بھوک ہڑتالی کیمپ منعقد کریں گے جس پر تمام اپوزیشن نے انہیں اپنے تعاون کا یقین دلایاہے۔ اے پی سی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اجلاس میں دوقسم کی رائے تھیں جن میں بعض جماعتوں کا موقف تھا کہ تیاری چونکہ مکمل ہو چکی ہے اس لئے اے پی سی میں بھرپور شرکت کی جائے تاکہ حکومت کو پروپیگنڈہ کرنے کا موقع نہ ملے لیکن بعض جماعتوں کا موقف تھا کہ اگرسیاسی قیادت ملک سے باہر چلی گئی تو قوم کو تنہا چھوڑ دینے کے مترادف ہوگاایم ایم اے اوراے آر ڈی کا مشترکہ موقف تا کہ جو فیصلہ بھی میاں نوازشریف کریں گے اس پر عمل کیا جائے گا۔

اگر انہوں نے مصلحت کے تحت اے پی سی کی نئی تاریخ کا تعین کیا تو اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں راجہ ظفرالحق نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے مختلف جماعتوں کو اپنے جھنڈے اور پارٹی نعرے لگانے کی بجائے اجتماعی طور پر شرکت کرنی چاہیے حالیہ اجلاس میں پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کی شمولیت نہ کرنے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مخدوم امین فہیم نے انہیں ہفتے کی شام فون کرکے بتایا کہ وہ شریک نہیں ہوسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ الزام بے بنیاد ہے کہ چیف جسٹس کے قانونی مسئلے کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ موجودہ حکومت کی طرف سے عدلیہ پر کاری ضرب تھی اور سیاسی جماعتوں کی شرکت کا مقصد عدلیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جمعہ کے روزبے پناہ گرفتاریاں کی ہیں صرف لاہور سے 57 افراد کو گرفتارکیا گیا ہے جن پر 16 ایم پی او اے کے تحت مقدمات درج کر کے مختلف جیلوں میں بھیج دیاگیا ہے۔

جبکہ اجلاس میں پیپلزپارٹی کے کسی عہدیدار کے شریک نہ ہونے سے متعلق سوال کا جواب دینے سے انہوں نے گریز کیا اور کہا کہ غیرحاضری کے بارے میں پیپلزپارٹی والے ہی بتا سکتے ہیں۔ جبکہ ایک نجی ٹی وی چینل کے ذرائع کے مطابق کانفرنس جب ختم ہوئی تو مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں کے چہروں سے مایوسی نظر آ رہی تھی اور ایسا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ لندن میں ہونے والی اے پی سی کو ملتوی کئے جانے پر اتفاق رائے کیا گیا ہے۔