مشترکہ حریت قیادت کی بھارتی مظالم اور سٹیٹ سبجیکٹ قانون کو ختم کرنے کے منصوبے کیخلاف 12 اگست کو ہڑتال کی کال

بھارتی حکومت کشمیر میں اسرائیلی طرز پر آبادی کے تناسب کو تبدیل کرکے اس کے مسلم تشخص کو ختم کرنا چاہتی ہے، حریت قیادت

پیر اگست 19:37

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 اگست2017ء) مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی،میرواعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ قانون کو ختم کرنے کی کوششوں، کشمیری نوجوانوں کی نسل کشی اورحریت رہنمائوں کوگرفتار اورہراساں کرنے کے خلاف 12اگست کو مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مزاحمتی رہنمائوں نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہاکہ نہتے کشمیری نو جوانوں کے لہو سے ہرروز ہولی کھیلی جارہی ہے اور بھارتی فوجی شہداء کی متیوں کی بے حرمتی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ عسکریت پسندی کا بہانہ بناکر پورے کشمیر خاص طور پر جنوبی کشمیر کے اِسلام آباد،پلوامہ،شوپیان،کولگام، بجبہاڑہ، پانپور اور شمالی کشمیر کے سوپور و بارہمولہ علاقوں میں شبانہ چھاپوں، لوگوں کی اندھا دھندمار پیٹ،گھروں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ،نوجوانوں ،بزرگوں،بچوں اور خواتین کی گرفتاریاں جاری ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ان مظالم اور کشمیریوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے کے مذموم اقدامات سے بھارتی عوام اور اقوام عالم کی توجہ ہٹانے کیلئے این آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے مزاحمتی رہنمائوں کو گرفتار کیا جارہا ہے اور ان کے اہل خانہ اور بچوں کو ہراساں کیا جارہا ہے جبکہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر محض پیسوں کا معاملہ ہے اور مزاحمتی قیادت کے خلاف جھوٹا ،من گھڑت اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔

مزاحمتی رہنمائوں نے کہاکہ پی ڈی پی کے کٹھ پتلی حکمران اس پراپیگنڈے میں برابرکے شریک ہیں اور کشمیریوں پر تمام مظالم انہی کے اشاروں پر ڈھائے جارہے ہیں۔ آزادی پسند رہنمائوں نے جموںو کشمیر میں نافذ اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کی مجوزہ منسوخی کو بھارتی حکمرانوں اور ان کے کٹھ پتلیوں کی ایک اور مذموم کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون جموں وکشمیر میں سابقہ مہاراجہ نے نافذ کیا تھا تاکہ یہاں آبادی کے تناسب کو حد میں رکھا جائے کیونکہ یہ سرزمین جنگلات،آبی ذخائر ، زرخیز میدانوں اورگلیشرز سے بھری پڑی ہے اوراسکی آبادی کے تناسب میں کوئی بگاڑ پورے برصغیر میں ماحولیاتی توازن کو تباہ کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھار ت میں قائم آر ایس ایس حکومت کی روز اول سے کوشش ہے کہ کشمیرمیں اسرائیلی طرز پر آبادی کے تناسب کو تبدیل کرکے اس کے مسلم تشخص کو ختم کیاجائے اور پی ڈی پی او ر دیگر بھارت نواز سیاسی جماعتیں حوس اقتدار میں ان کی بھرپور مدد کرتی ہیں ۔ انہوں نے بھارتی حکمرانوں اور انکے کٹھ پتلیوں کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی تو کشمیری اس کے دفاع کیلئے کسی قربانیاں سے دریغ نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے مظالم، قتل وغارت اور جموں وکشمیر کے مذہبی تشخص کو تبدیل کرنے کے لیے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کو منسوخ کرنے کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے کشمیری عوام متحرک ہیں اور اگر یہ مکروہ منصوبے نہ روکے گئے تو ان کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

متعلقہ عنوان :