علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ادبی میلے میں 2 مشہورکتابوں کی تقریب رونمائی

پیر اپریل 16:33

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں منعقدہ ادبی و ثقافتی میلے کے تیسری روز 2 مشہورکتابوں کی تقریب رونمائی ہوئی ،ْ ان کتابوں میں اختر عثمان کی غزلوں اور شعری مجموعے پر مشتمل کتاب "چراغ زار" جبکہ فاروق عادل کی سیاسی شخصیات کے 35شخصی خاکوں پر مشتمل کتاب "جو صورت نظر آئی"شامل تھی۔چراغ زار کی تقریب رونمائی کی صدارت افتخار عارف نے کی تھی۔

دیگر مقررین میں منظر نقوی اور قاسم یعقوب شامل تھے جبکہ "جو صورت نظر آئی" کی تقریب رونمائی کی صدارت خورشید ندیم نے کی تھی ،ْ دیگر مقررین میں محمد حمید شاہد اور جنید آذر شامل تھے۔مقررین نے شاعری اور غزلوں کو ایک منفرد انداز میں پیش کرنے کی اختر عثمان کی کوششوں کو سراہا جس نے آرٹ فریمیوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ فاروق عادل کی کتاب نظروں کو اپنی جانب مبذول کرنی والی ہے جس میں انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح اور شہید بے نظیر بھٹو جیسے عظیم لیڈروں اور سیاسی شخصیات کے خاکے پیش کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کتاب نے اہم شخصیات کی نئی معلومات فراہم کی ہے۔وائس چانسلر ،ْ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اپنی اختتامی خطاب میں دونوں مصنفین کی ادبی خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ "ادب اور سوشل میڈیا"پر خصوصی سیشن بھی منعقد کی گئی جس کی صدارت افتخار عارف نے کی جبکہ دیگر مقررین میں وجاہت مسعود ،ْ زاہدہ حنا ،ْ منظر نقوی ،ْ فاطمہ حسن اور خورشید ندیم شامل تھے۔

مقررین نے کہا کہ سوشل میڈیا نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کا ایک بہترین فلیٹ فارم ہے۔سبوخ سید اس سیشن کے معاون تھے جبکہ شرکاء گفتگو میں یاسر چھٹہ ،ْ شاہد اعوان اور وسعت الله خان شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا ادب پڑھنے اور لکھنے کے خواہشمند افراد کے لئے سب سے موثر ذریعہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنے چینل بنوائے ہیں جن میں وہ ادبی شخصیات کے ساتھ گھنٹوں گھنٹوں بحٹ مباحثے کرتے ہیں اور اسی طرح سوشل میڈیا ادب پھیلانے میں نہایت اہم کردار ادا کررہا ہے۔

زاہدہ حنا کے ساتھ ملاقات کے معاونین فاطمہ حسن اور حمیرا اشفاق نے زاہدہ حنا کی تعارف میں اُن کی ادبی سفر کی کہانی اور کامیابیوں کا تفصیلی ذکر کیا۔میلے میں پاکستان کے مختلف صوبوں کے ثقافتی پروگرام پیش کئے گئے ڈول کی تھاپ پر خٹک ڈانس ،ْ طلبہ کے بنگھڑے اور قبائلی اتھن توجہ کا مرکز رہے۔تین روزہ ثقافتی میلے میں مختلف صوبوں سے آئے ہوئے طلبہ و طالبات کا کہنا تھا کہ تین روزہ فیسٹول میں پاکستان کے مختلف صوبوں کی ثقافت کے بارے میں معلومات ملی ۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے اس قسم کے ایونٹس کا انعقاد ضروری ہے۔

متعلقہ عنوان :