پاکستان میں ہیمو فیلیا کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے،حکومت اقدامات کرے ،راحیل احمد

پیر اپریل 18:56

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) ہیمو فیلیا ویلفیئر سوسائٹی کراچی کے جنرل سیکرٹری راحیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہیمو فیلیا کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔حکومت کی جانب سے اس مرض کے علاج کے لیے کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔عوام کو اس مرض سے آگاہی کے لیے 17اپریل کو ورلڈ ہیمو فیلیا ڈے منایا جائے گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے پیر کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

راحیل احمد نے کہا کہ ہیمو فیلیا ایک خطرناک موروثی بیماری ہے ۔۔پاکستان میں اس وقت اس کے 20ہزار سے زائد مریض ہیں ۔حکومتی سطح پر جس طرح پولیو کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اسی طرح ضروری ہے کہ ہیمو فیلیا کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں کیونکہ پولیو سے مریض صرف معذور ہوتا ہے جبکہ ہیمیو فیلیا معذوری کے ساتھ موت کا بھی دوسرا نام ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ ہیمیو فیلیا کے ادویہ انتہائی مہنگی ہیں ۔مریضوں کو لگایا جانے والا ایک انجکشن 10سے 15ہزار روپے کا ہے جو ایک عام آدمی سے استطاعت سے باہر ہے ۔اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے غریب آدمی بھی اس کا علاج کراسکے ۔راحیل احمد نے کہا کہ مختلف این جی اوز ہمارے نام پر ہیموفیلیا کے لیے فنڈریزنگ کررہی ہیں جو قابل مذمت ہے ۔ان این جی اوز اس مرض کی روک تھام اور آگاہی کے لیے کوئی کام نہیں کیا ہے ۔

متعلقہ عنوان :