ریاست کے تین بنیادی ستونوں ایگزیکٹیو ، پارلیمنٹ ، اور عدلیہ کو آئین میں حاصل اختیارات سے تجاوز نہیں کر نا چاہیے،

پاکستان اور بھارت کو مل کر مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنا چاہیے، تاخیر دونوں ممالک کو مشکل میں ڈال سکتی ہے، مسئلہ کشمیر کے حل تک جنوبی ایشیا میں کسی صورت امن قائم نہیں ہو سکتا،کشمیر کشمیریوں کا ہے اور مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری عوام ہیں، ان کی رائے کا احترام کیا جانا ضروری ہے، پاکستان میں سیاسی استحکام ہی دراصل کشمیر کی آزادی کا ضامن ہے، مقبوضہ کشمیر میں آٹھ سالہ بچی آصفہ کی آبرو ریزی اور قتل کے واقعہ پر خاموشی گناہ ہے، آزادکشمیر کے وکلاء کو پاکستان کی عدالتوں میں پریکٹس کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر ماہر قانون دان یاسین آزاد ایڈووکیٹ کا کشمیر جرنلسٹس فورم کی فکری نشست سے خطاب

پیر اپریل 19:38

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر ماہر قانون دان یاسین آزاد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ریاست کے تین بنیادی ستونوں ایگزیکٹیو ، پارلیمنٹ ، اور عدلیہ کو آئین میں حاصل اختیارات سے تجاوز نہیں کر نا چاہیے، پاکستان اور بھارت کو مل کر مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنا چاہیے، تنازعہ کشمیر کے حل میں تاخیر دونوں ممالک کو مشکل میں ڈال سکتی ہے ، مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے ہمیں جذباتی ہو کر نہیں بلکہ ہوش کا مظاہرہ کرنا چاہیے ، مسئلہ کشمیر کے حل تک جنوبی ایشیا میں کسی صورت امن قائم نہیں ہو سکتا،کشمیر کشمیریوں کا ہے اور مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری عوام ہیں، ان کی رائے کا احترام کیا جانا ضروری ہے، پاکستان میں سیاسی استحکام ہی دراصل کشمیر کی آزادی کا ضامن ہے، مقبوضہ کشمیر میں آٹھ سالہ بچی آصفہ کی آبرو ریزی اور قتل کے واقعہ پر خاموشی گناہ ہے، آزادکشمیر کے وکلاء کو پاکستان کی عدالتوں میں پریکٹس کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز یہاں کشمیر جرنلسٹس فورم کی فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سابق صدرسپریم کورٹ باریاسین آزاد نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے مسائل مل بیٹھ کرطے نہیں کرتیں، جب کوئی معاملہ پارلیمنٹ سے ہٹ کرسپریم کورٹ میں جاتا ہے توسپریم کورٹ کو آئین وقانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے، یہ فیصلہ ایک پارٹی کے حق میں اوردوسری پارٹی کے خلاف ہی جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کونااہل کرنے کیلئے آئین کے اندر ایک طریقہ کار دیا گیا ہے، اگر منتخب وزیراعظم کو ہٹانا ہو تو اس کیلئے تحریک عدم اعتمادلائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی نظام میں مداخلت سے نظام چلانا مشکل ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ مسئلہ کشمیر پر کشمیر ی قیادت کو کبھی ایک پلیٹ فارم پر نہیں دیکھا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کشمیر ی سیاسی قیادت پاکستان کی سیاسی قیادت کو مسئلہ کشمیر کی حساسیت کے بارے میں آگاہ کرتی مگر کشمیر ی سیاستدان وہ کردار ادا نہیں کر سکے ہیں جو انہیں ادا کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ی سیاسی قیادت کے مشترکہ موقف پر پاکستان کی سیاسی جماعتیں لائن آف ایکشن لیتیں تو بہتر ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں کشمیر پر مشتر کہ قرارداد پیش کی گئی جس کا ایک سیاسی جماعت نے بائیکاٹ کر دیا اور اس پر ہندوستان نے شدید پروپیگنڈہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں تاکہ یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ کشمیر پر سیاسی قیادت ایک نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر پر دنیا کی تمام بڑی زبانوں پر لڑیچر تیار ہونا چاہیے تاکہ ان ممالک کے لوگوں کو مسئلہ کشمیر کے بارے میں آگاہی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی ایکٹ 74 میں ترامیم کر سکتی ہے انہیں اس بارے میں کس نے روکا ہے،آزادکشمیر کی اپنی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ہے، پیچھے باقی کیا رہ گیا ہے۔

2005 میں جب آزادکشمیر میں زلزلہ آیا تو یہ معاملہ پہلی بار پاکستان بارکونسل میں سامنے آیا لیکن اس مرتبہ بھی یہ پابندی برقرارر ہی۔ انہوں نے کہا کہ 1954 میں مولوی تمیز الدین کیس میں جب گورنر جنرل غلام محمد نے اپنے اختیارات میں تخفیف کے خطرہ کے پیش نظر جمہوریت پر کاری وار کیا اور دستور ساز اسمبلی برخاست کر دی تھی، تب دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین خان نے غلام محمد کے اس اقدام کو للکارہ تھا،جو کرپشن سے بھی زیادہ سنگین اور عوام کے بنیادی حقوق غضب کرنے کا اقدام تھا۔

وہ زمانہ مہذب سیاست کا تھا۔ مولوی تمیز الدین خان نے نہ تو کنٹینر پر چڑھ کر گورنر جنرل کو صلواتیں نہیں سنائیں اورنہ گالم گلوچ سے آسمان سر پر اٹھایا۔ انہوں نیعدالت سے رجوع کیا اور دستور ساز اسمبلی کی بر طرفی کے خلاف سندھ چیف کورٹ نے مولوی تمیز الدین خان کے حق میں فیصلہ دیا اور گورنر جنرل غلام محمد کے اقدام کو غیر قانونی قراردیا۔ اس فیصلہ کے خلاف غلام محمد نے وفاقی عدالت میں اپیل کی جہاں چیف جسٹس منیر نے نظریہ ضرورت کے تحت گورنر جنرل غلام محمد کے اقدام کے حق میں فیصلہ دیا۔

جسٹس کارنیلیس نے جسٹس منیر کے فیصلہ سے اختلاف کیا۔ یوں عدلیہ نے عوام کے جمہوری حق پر ڈاکے کو حق بجانب قرار دے کر ملک کی سیاست کا رخ ہمیشہ کے لئے موڑ دیا اور فوجی طالع آزمائوں کے لئے ملک کے اقتدار پر قبضہ کا راستہ کھول دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام دراصل کشمیر کی آزادی کا ضامن ہے، سیاست دانوں کو فری ہینڈ ملنا چاہیے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کو کریڈٹ جاتاہے کہ اس نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور اب ن لیگ کی حکومت بھی اپنی مدت پوری کر رہی ہے۔ انہوں نے ریاست کے تین بنیادی ستونوں ایگزیکٹیو ، پارلیمنٹ ، اور عدلیہ کو آئین میں دیئے اختیارات سے تجاوز نہیں کر نا چاہیے ۔تینوں کی حدود آئین میں متعین ہیں ۔ اداروں میں ٹکرائو سے نظام متاثر ہو تا ہے۔ سابق صدرسپریم کورٹ بار یاسین آزادنے کہا کہ سپریم کورٹ جوبھی فیصلہ دیتی ہے وہ پبلک ڈاکومنٹ بن جاتاہے اور پبلک ڈاکومنٹ پراظہارخیال کرنے کا اختیار ہرآدمی کو ہے، مدعی کے خلاف جب فیصلہ آتاہے تووہ اپنے تحفظات کا اظہارکرتاہے کہ قانون کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ نہیں دیاگیا یا انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے، ایسی صورت میں اس پارٹی کویہ کہنا کہ وہ تنقیدکیوں کرتاہے،کوئی خاص بات نہیں ہے ،مدعی کا حق ہے کہ وہ فیصلے پر آئینی حدود میں رہتے ہوئے تحفظات کا اظہار کرے۔

نوازشریف کی سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل کاجوفیصلہ آیا وہ سب کے سامنے ہے، نظرثانی اپیل کاصرف دولائن کا فیصلہ لکھا جاتا ہے لیکن سپریم کورٹ کا فیصلہ دولائنوں پرنہیں ہے، نوازشریف کونااہلی کی سزا دینے سے پہلے ان کے کیسزنیب کوبھیج دیئے جاتے توبہترہوتا، نیب اگرنوازشریف کے خلاف الزامات ثابت کرتا اور سزاہوجاتی تو وہ ازخودنااہل ہوجاتے،۔

ماہر قانون یاسین آزاد نے کہا کہ اس حوالے سے ملکی تاریخ سیاہ ترین ہے کہ جب بھی طاقت کے بل بوتے پرکوئی ڈکٹیٹراقتدارمیں آیا عدالتوں نے مارشل لاء کو قانونی تحفظ فراہم کیا، فوجی جنرل غیرقانونی طریقہ اختیارکرکے آتے رہے، ہم نے گیارہ ،گیارہ سال تک ڈکٹیٹروں کوبرداشت کیا مگر ان کے خلاف عدالتوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے مسائل مل بیٹھ کرطے نہیں کرتیں۔

ایک سوال کے جواب میں یاسین آزاد نے کہا کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں اس وقت شمولیت اختیار کی جب وہ مشکلات میں تھی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہ پارلیمنٹ21 کروڑ سے زائد عوام کا نمائندہ ادارہ ہے، پارلیمنٹ پر لعنتیں بھجنے والوں کے خلاف سزا تجویز کرنے کی ضرورت ہے۔