بلوچستان میں اقلیتی برادری اس وقت عدم تحفظ کا شکار ہے، بلوچستان کی روایات اور اسلامی اصولوں کے مطابق اقلیتوں کا تحفظ ہر فرد پر لازم ہے،سینیٹر اسرار اللہ زہری

صوبائی حکومت اقلیتوں کے مال و جان کی حفاظت کو یقینی بنائیں تاکہ اقلیتی برادری میں پائی جانے والی احساس محرومی اور بے چینی کا خاتمہ ہو سکے،خصوصی بات چیت

پیر اپریل 23:02

کو ئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی صدر و سینیٹر میر اسرار اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں اقلیتی برادری اس وقت عدم تحفظ کا شکار ہے بلوچستان کی روایات اور اسلامی اصولوں کے مطابق اقلیتوں کا تحفظ ہر فرد پر لازم ہے صوبائی حکومت اقلیتوں کے مال و جان کی حفاظت کو یقینی بنائیں تاکہ اقلیتی برادری میں پائی جانے والی احساس محرومی اور بے چینی کا خاتمہ ہو سکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’آن لائن‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اتوار کے روز مسیحی برادری پر حملہ حکومت اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے عوام کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے حکمران عوام کو تحفظ دینے کے لئے مزید موثر اقدامات اٹھائیں تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات رونما نہ ہوسکیں انہوں نے کہا کہ بی این پی عوامی ایک سیاسی ‘ جمہوری اور مظلوم و محکوم عوام کی پارٹی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے بلوچستان کے ہر مظلوم کے لئے آواز بلند کی ہے اور کرتے رہیں گے بی این پی عوامی ایک جمہوری جماعت ہے جو صرف جمہوریت کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں امن کے دعوے کرنے کے بجائے امن کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں جس میں بلوچستان کے پسماندہ عوام اور اقلیتی برادری کے جان ومال کا تحفظ ممکن ہو سکے مشکل کی اس گھڑی میں بی این پی عوامی مسیحی برادری کے شانہ بشانہ ہے اقلیتی برادری اپنے آپ کو تنہاء نہ سمجھیں بی این پی عوامی ان کے دکھ و غم میں برابر کے شریک ہیں۔

متعلقہ عنوان :