درآمدات کو قابل تجدید توانائی کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے، اس کام کیلئے تعلیم یافتہ اور توانائی کے شعبے کے ماہرین سے کام لینے کی ضرورت ہے

، قابل تجدید توانائی کے لیے ادارہ قائم کیا جائے گا،خواتین کو توانائی کے شعبے میں ڈگری لیتے دیکھ کر خوشی ہوئی،نسٹ یونیورسٹی نے بین الاقوامی سطح پر اپنا میعار قائم کیا، جدید توانائی میں انجیرنگ کی ڈگری حاصل کرنے والا طلبا توانائی کے شعبے میں ترقی کے لیے کام کریں گے وفاقی وزیرتوانائی اویس احمد خان لغاری کا نسٹ کنووکیشن سے خطا ب

بدھ اپریل 17:21

درآمدات کو قابل تجدید توانائی کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے، اس کام کیلئے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) وفاقی وزیرتوانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہدرآمدات کو قابل تجدید توانائی کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے، اس کام کیلئے تعلیم یافتہ اور توانائی کے شعبے کے ماہرین سے کام لینے کی ضرورت ہے ، قابل تجدید توانائی کے لیے ادارہ قائم کیا جائے گا،خواتین کو توانائی کے شعبے میں ڈگری لیتے دیکھ کر خوشی ہوئی،نسٹ یونیورسٹی نے بین الاقوامی سطح پر اپنا میعار قائم کیا، جدید توانائی میں انجیرنگ کی ڈگری حاصل کرنے والا طلبا توانائی کے شعبے میں ترقی کے لیے کام کریں گے۔

بدھ کو نسٹ کنووکیشن سے خطا ب کرتے ہوئے اویس احمد خان لغاری نے کہاکہ خواتین کو توانائی کے شعبے میں ڈگری لیتے دیکھ کر خوشی ہوئی ، نسٹ یونیورسٹی نے بین الاقوامی سطح پر اپنا میعار قائم کیا، جدید توانائی میں انجیرنگ کی ڈگری حاصل کرنے والا طلبا توانائی کے شعبے میں ترقی کے لیے کام کریں گے ۔

(جاری ہے)

انھوںنے کہاکہ امریکا کی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس پروگرام میں معاونت فراہم کی ، ہیومن ریسورس پر سرمایہ کاری کی شدت سے ضرورت ہے ۔

اویس لغاری نے کہا کہ ملک کی پالیسی کو تعلیمی اکانومی پر کام کرنے کی ضرورت ہے ، منسٹری میں بھی پیشہ ورانہ ماہرین کی کمی ہے ۔انکا کہنا تھاکہ 16 سے 18 نئی بھرتیوں کو شروع کیا جانا ہے جو کہ توانائی کے شعبے میں تکنیکی معاونت فراہم کریں، قابل تجدید توانائی ملک کا مستقبل ہے ، درآمدات کو قابل تجدید توانائی کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے ۔انھوں نے کہاکہ اس کام کے لیے تعلیم یافتہ اور توانائی کے شعبے کے ماہرین سے کام لینے کی ضرورت ہے ، قابل تجدید توانائی کے لیے ادارہ قائم کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :