علمائے کرام سانحہ کٹھوعہ کے خلاف اپنی آواز بلند کریں، آسیہ اندرابی

بدھ اپریل 17:32

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں دختران ملت کی سربراہ آسیہ انداربی نے علماء کرام سے کہاہے کہ وہ کٹھوعہ میں آٹھ سالہ ننھی آصفہ کی بے حرمتی اورقتل کے سانحے کے خلاف اپنی آوازبلند کریں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آسیہ اندرابی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں علمائے کرام سے کہا کہ انہیں اس سانحے کے خلاف لوگوں کا ساتھ دینے کیلئے دارالعلوموں سے نکل کر سڑکوں پر آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ علماء کرام کا کردار اہم ہے اس لئے انہیں اس سانحے کے خلاف احتجاج میں عوام کی قیادت کرنی چاہیے۔دختران ملت کی سربراہ نے کہاکہ کیا کنن پوشہ پورہ، شوپیاں ،ہندواڑہ ، اسلام آباد اور اب کٹھوعہ جیسے سانحات ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی نہیںہیںاور کیا یہ سارے واقعات عبرت ناک نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں علماء کرام بہتر طورپرجانتے ہیں کہ جب ہماری مائوں ، بہنوںاور بیٹیو ںکی عفت و عصمت خطرے میں ہوں تو انہیں کیاکردار ادا کرنے ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ بی جے پی ، آر ایس ایس اور ہندو ایکتا منچ نے کٹھوعہ کے خانہ بدوشوں کو بے گھر کرنے کیلئے ایک سازش کے تحت یہ کارروائی کی ہے اور وہ خانہ بدوشوں کی اراضی ہتھیانا چاہتے ہیں۔ آسیہ اندرابی نے کہاکہ سانحہ کٹھوعہ کے مجرموں کے حق میں مارچ کی قیادت کرنے والا لال سنگھ کئی بار جموںوکشمیر کے مسلمانوں کودھمکیاں دے چکا ہے اور جموںبار ایسوسی ایشن نے بھی قاتل کے حق میں ریلیاں نکالی ہیں۔

انہوںنے کہاکہ یہ لوگ مسلمانوں کو جموںسے نکالنے کیلئے انہیںہراساں اور خوف زدہ کررہے ہیں ۔ ادھر دختران ملت کی ترجمان نے ایک بیان میں جیلوں میں نظربند کشمیریوں کی حالت زار پرشدید تشویش ظاہرکی ہے۔انہوںنے کہاکہ ادھمپور جیل نظربند ڈاکٹر محمد قاسم کی صحت بگڑ گئی ہے اور کسی کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔دریں اثناسرینگر کی ایک عدالت نے گزشتہ اتوار کو بھارتی پولیس کی طرف سے گرفتار کی گئی دختران ملت کی سات میں سے پانچ کارکنوں کو ضمانت پر رہا کرنے کے حکم جاری کیا ہے۔