ٹنڈوآدم ، کوٹری اور جیکب آباد میں ریلوے کراسنگ پر زیر تعمیر تین اوورہیڈ برجز کو جون 2018 تک مکمل کیاجائے ،وزیراعلی سندھ کی ہدایت

بدھ اپریل 19:53

ٹنڈوآدم ، کوٹری اور جیکب آباد میں ریلوے کراسنگ پر زیر تعمیر تین اوورہیڈ ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ ورکس اینڈ سروسز کو ہدایت کی ہے کہ ٹنڈوآدم ، کوٹری اور جیکب آباد میں ریلوے کراسنگ پر زیر تعمیر تین اوورہیڈ برجز کو جون 2018 تک مکمل کیاجائے کیونکہ نامکمل کام کی وجہ سے لوگوں کو سنگین قسم کے مشکلات کاسامنا کرناپڑتاہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو ریپیئر اینڈ مینٹیننس(ایم اینڈ آر) کے تحت شروع کی گئی اسکیموں اور نامکمل اسکیموں پر ہونے والی پیشرفت سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس میں چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم ، وزیر اعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت، سیکریٹری ورکس اعجاز میمن ، چیف انجینئر (روڈز)و دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ گذشتہ جنوری میں ٹنڈوآدم کے ان کے دورے کے دوران انہوں نے اوور ہیڈ برج بشمول ریلوے کراسنگ سے ملحقہ سڑکوں کا دورہ کیاتھا اور یہ بات نوٹ کی تھی کہ محکمہ ورکس نے ریلوے پورشن کو چھوڑ کر باقی کام تقریبا مکمل کرلیاہے۔

(جاری ہے)

اس پر سیکریٹری ورکس اعجاز میمن نے وزیر اعلی سندھ کو بتایا کہ ریلوے اتھارٹیز ریلوے کراسنگ پر پورشن کی تعمیر کے لیے این او سی جاری نہیں کررہی ہیں ۔وزیر اعلی سندھ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری ورک کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی طورپر ریلوے اتھارٹیز کے ساتھ بات کریں اور این او سی حاصل کریں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں وہ متعلقہ اتھارٹیز کے ساتھ خود بات کریں گے اور انہوں نے ہدایت کی کہ اسے جون 2018 تک مکمل کریں۔

کوٹری شہر اور کوٹری انڈسٹریل ایریا کے درمیان ریلوے لائن تک اوور ہیڈ برج کے حوالے سے غورکرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ انہوں نے فروری کے پہلے ہفتے میں برج کا دورہ کیاتھا۔انہوں نے کہاکہ برج پر کام مکمل ہونا باقی ہے ۔سیکریٹری ورکس نے وزیر اعلی سندھ کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ حیدرآباد نے ستمبر2017 میں اسٹے آرڈر جاری کردیاتھا اس پر وزیر اعلی سندھ نے ہدایت کی کہ وہ عدالت میں مقدمے کی اچھے طریقے سے پیروری کریں اور اسٹے آرڈر کو ختم کرائیں اور کام شروع کریں ۔

انہوں نے انہیں یہ بھی مشور ہ دیا کہ وہ یہ بھی دیکھیں کہ اگر ریلوے اتھارٹی نے این او سی جاری کیا ہے کہ نہیں تاکہ اس معاملے کو بھی اسی طریقے سے حل کیاجاسکے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جھل پھاٹک جیکب آباد میں بلاول بھٹو زرداری فلائی اوور پل کا کام بھی نامکمل ہے ۔سیکریٹری ورکس نے ایک بار پھر کہا کہ چند نجی پارٹیوں نے ہائی کورٹ میں کلیمز فائل کیے ہیں ۔

وزیر اعلی سندھ نے چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم کو ہدایت کی کہ وہ چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم (سی ایم آئی ٹی کے ذریعے کاموں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر کی تحقیقات کرائیں اور انہیں رپورٹ دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ ذاتی طورپر اسکیم کا دورہ کریں اور اس کی جون 2018 تک تکمیل کو یقینی بنائیں۔انہوں نے چیئرمین پی اینڈ ڈی کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان اسکیموں پر لاکھوں روپے خرچ کیے ہیں اور جب تک یہ مکمل نہیں ہوجاتیں اس وقت تک ان کا استعمال نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں یہ کہنا چاہتاہوں کہ ان تینوں اسکیموں کو وہ جون 2018 تک مکمل دیکھنا چاہتے ہیں لہذا اس حوالے سے جو بھی رکاوٹیں ہیں ان کا خاتمہ کیاجائے۔