قبائلی علاقوں میں عالمی حالات کے باعث بدامنی، انتہاپسندی اوردہشت گردی کا ماحول مسلط کیاگیاتھا،اقبال ظفرجھگڑا

بدھ اپریل 20:15

قبائلی علاقوں میں عالمی حالات کے باعث بدامنی، انتہاپسندی اوردہشت گردی ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) گورنرخیبرپختونخوا انجینئراقبال ظفرجھگڑا نے کہاہے کہ قبائلی علاقوں میں گذشتہ پندرہ سالوں سے عالمی حالات کے باعث بدامنی، انتہاپسندی اوردہشت گردی کا ماحول مسلط کیاگیاتھا ۔ پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب اور دیگرمہمات کے نتیجے میں دہشت گردی کاخاتمہ کردیاگیاہے اور قبائلی علاقوں کے چپے چپے پر حکومتی عملداری قائم کردی گئی ہے ۔

انہوں نے مزیدکہا کہ اسلامی تعلیمات اور آئین پاکستان کی روشنی میں تشکیل کردہ "پیغام پاکستان " کے نام سے قومی بیانیہ وقت کی ضرورت اورقومی تعمیر کے مرحلے میں ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ یہ بیانیہ ملک سے انتہاپسندی، تشدد، فرقہ پرستی اور لسانی تعصبات جیسے منفی عوامل کے قلع قمع کرنے اور قومی یکجہتی واتحاد کو یقینی بنانے کی بنیاد ثابت ہوگا۔

(جاری ہے)

گورنرنے کہاکہ افواج پاکستان نے سرزمین پاک سے دہشت گردوں کا تقریباً خاتمہ کردیا ہے لیکن فکری گمراہی کے خلاف جدوجہد اس پیغام پاکستان کے ذریعے سے کی جاسکتی ہے اور اس کیلئے پورے ملک میں باالعموم اورخیبرپختونخوا ورفاٹا میں بالخصوص پیغام پاکستان کو عملی طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ بدھ کے روز گورنرہاؤس پشاورمیں "پیغام پاکستان"" کی تعارفی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے ۔

اس موقع پر قبلہ آیاز چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن،چیئرمین وفاق المدارس العربیہ مولانا محمد حفیظ جالندھری، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی سمیت صوبائی وزراء، قبائلی اراکین پارلیمنٹ،، وفاق ہائے دینی مدارس کے نمائندے، علماء کرام اور اساتذہ کرام کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

گورنرنے کہاکہ پاکستان کو اللہ نے بہترین افرادی قوت سے نوازا ہے۔ آبادی کی بڑی اکثریت نوجوانوں پرمشتمل ہے جوحب الوطنی کے جذبہ سے سرشارہیں۔ انہوں نے کہاکہ وحدت فکر کے ذریعے ہی وحدت عمل کو یقینی بنایاجاسکتاہے اور اس ضمن میں قومی بیانیہ اہم کردار ادا کرسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ تخریبی فکرکامقابلہ کرنے کیلئے تعمیری فکر اور درست ومعروضی حقائق پرمبنی قومی بیانیہ وقت کی ضرورت ہے۔

ادارہ تحقیقات اسلامی اوراسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے اس کام کوتندہی سے انجام دیاہے جبکہ وفاق المدارس ، یونیورسٹیز اساتذہ اورمدارس کے علماء کرام کی مشاورت نے اسے مزیدنکھاراہے۔ گورنرنے اس امرپرزوردیا کہ پیغام پاکستان کے اس قومی بیانیے کو ہرجگہ اورزندگی کے ہرشعبے سے تعلق رکھنے والی شخصیات تک پہنچایاجائے اور بیرون ملک اس کی ترویج واشاعت میں پاکستانی سفارتخانے بھی اپناکردار اداکریں گے۔

گورنرنے کہاکہ نوجوان نسل اس بیانیے کے مطابق ایک متحدہ جدوجہد کے ذریعے عظیم ترپاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔گورنرنے کہاکہ عارضی طور پر بے گھرافراد کو واپس اپنے اپنے علاقوں میں آباد کردیاگیاہے اور حکومت نے ان علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں لانے کیلئے اقدامات کا آغاز کردیاہے ۔ اس سلسلے میں گذشتہ روز صدرمملکت ممنون حسین نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ پشاور کادائرہ کار فاٹا تک بڑھانے کے بل پر دستخط کرکے باقاعدہ قانون کی شکل دے دی ہے جس سے فاٹا کے عوام کو فوری انصاف تک رسائی ممکن ہوگئی ہے۔

گورنرنے کہاکہ بعض عناصر اس امن کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں لیکن قبائیلی عوام محب وطن ہیں وہ ان سازشوں میں نہیں آئیں گے۔ قبائلی علاقوں میں امن اورترقی کو برقراررکھنابڑاچیلنج ہے اس سے نبردآزماہوں گے اورمزید کہاکہ فاٹا میں اربوں روپے کے منصوبوں پرتیزی سے کام بھی جاری ہے۔انہو ں نے کہاکہ عالمی برادری میں نمایاں مقام حاصل کرنے کیلئے تعلیمی نصاب کو ایک کرناپڑے گا۔