لاہور ہائیکورٹ کا انڈسٹری پارک سرگودھا کرپشن کیس میں گرفتار ملزم زاہد محمود کی رہائی کا حکم

شہریوں کی آزادی کے ساتھ کسی کو کھیلنے نہیں دیا جائے گا،نیب اتھارٹی کو آنکھیں بند کر کے نہیں بیٹھنا چاہیے، جیل میں بند کر کے شہری کو کیسے بھول گئے‘عدالت کا اظہار برہمی

بدھ اپریل 20:15

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے انڈسٹری پارک سرگودھا کرپشن کیس میں گرفتار ملزم زاہد محمود کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نیب اتھارٹی کو آنکھیں بند کر کے نہیں بیٹھنا چاہیے، جیل میں بند کر کے شہری کو کیسے بھول گئے۔۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد قاسم علی خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے انڈسٹری پارک سرگودھا کرپشن میں گرفتار گرفتار ملزم زاہد محمود کی درخواست ضمانت پر سماعت کی جہاں ڈی جی نیب سلیم شہزاد پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس قاسم علی خان نے ریمارکس دیے کہ شہریوں کی آزادی کے ساتھ کسی کو کھیلنے نہیں دیا جائے گا۔عدالت کے نزدیک شہریوں کی آزادی سب سے مقدم ہے، آئین شہریوں کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ا نہوں نے نیب حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیب اتھارٹی کو آنکھیں بند کر کے نہیں بیٹھنا چاہیے، جیل میں بند کر کے شہری کو کیسے بھول گئے۔

(جاری ہے)

عدالت معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے، اگر نیب کہ غفلت ثابت ہوگئی تو روزانہ کی بنیاد پر غفلت برتنے پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔۔سماعت کے دوران ملزم زاہد محمود نے عدالت میں کہا کہ نیب نے انہیں انڈسٹری پارک سرگودھا کرپشن اسکینڈل میں غیر قانونی طور پر گرفتار کیا۔نیب ریفرنس میں بھی میں بے قصور ہوں لیکن پھر بھی نیب حکام نے گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا، لہذا ضمانت منظور کی جائے۔بعدِ ازاں عدالت عالیہ نے ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے اس کی رہائی کا حکم دے دیا۔