نیب کاٹرائل ایک ماہ میں مکمل کرنے کاقانون غیرمناسب ہے،جسٹس آصف سعید کھوسہ

قانون بنانے والے بیٹھے ہیں ان کوکیوں نہیں کہتے،ایسی گفتگو نہ کریں جس پر ہم کچھ نہ بول سکیں ہم کچھ بولے توشام کواس پر ٹاک شوز ہوں گے، شرجیل میمن کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران ریمارکس سماعت ایک دن کے لیے ملتوی

بدھ اپریل 20:55

نیب کاٹرائل ایک ماہ میں مکمل کرنے کاقانون غیرمناسب ہے،جسٹس آصف سعید ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے شرجیل میمن کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب کاٹرائل ایک ماہ میں مکمل کرنے کاقانون غیرمناسب ہے،قانون بنانے والے بیٹھے ہیں ان کوکیوں نہیں کہتے،ایسی گفتگو نہ کریں جس پر ہم کچھ نہ بول سکیں ہم کچھ بولے توشام کواس پر ٹاک شوز ہوں گے۔

(جاری ہے)

بدھ کے روز شرجیل میمن کی درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، شرجیل میمن کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیارکیاکہ شرجیل میمن کے خلاف کیس جولائی 2013 سے جون 2015 تک بنایا گیا، صرف شرجیل میمن کو ٹارگٹ کرکے کیس بنایا گیا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اشتہاری ایجنٹس کے چناؤ کا طریقہ کار کیا تھا ،،لطیف کھوسہ بولے کسی شریک ملزم نے شرجیل میمن کانام نہیں لیا ، جسٹس کھوسہ نے کہاکہ ہائیکورٹ کے مطابق بعض بل براہ راست شرجیل میمن کو دئیے گئے ،ہائی کورٹ کے مطابق معاہدہ سے پہلے ہی ادائیگی کی گئی، سیکرٹری وزارت اطلاعات سندھ ذولفقار کے وکیل افتخار گیلانی نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیاکہ ڈائریکٹرمحکمہ اطلاعات زینت جہاں نے شکایت درج کرائی، جب شکایت درج ہوئی اس وقت میراموکل محکمہ اطلاعات میں نہیں تھا ، ایک طرف کہا جاتا ہے سب کچھ شرجیل میمن نے براہ راست کیا ہے، دوسری جانب سیکریٹری اطلاعات کو ملزم بنایا گیا، جسٹس کھوسہ نے کہاکہ سیکریٹری پر الزام اختیارات کا نا جائز استعمال کا ہے، کیا سیکرٹری اطلاعات ساری ہینکی پھینکی پر خاموش رہے، نیب قانون میں ایک ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا لکھاہے، نیب کاٹرائل مکمل کرنے کاقانون غیرمناسب ہے، ایک ماہ میں مقدمہ مکمل ہوناممکن نہیں ،قانون بنانے والے بیٹھے ہیں ان کوکیوں نہیں کہتے ، ہم قانون پر ہاتھ ڈالیں تواعتراض ہوتاہے،وکیل افتخارگیلانی نے بتایا کہ چیرمین نیب نے خود کہا کہ مشرف نے بندے امریکہ کے حوالے کئے ہیں،جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ ایسی گفتگو نہ کریں جس پر ہم کچھ نہ بول سکیں ہم کچھ بولے توشام کواس پر ٹاک شوز ہوں گے بیوروکریسی ٹھیک تھی توپاکستان ٹھیک چل رہاتھا کسی سیاستدان کی جرات نہیں تھی کہ بیورو کریسی کے بغیر فیصلہ کرے وکیل افتخار گیلانی نے موقف اختیار کیاکہ بیوروکریسی میں اب وہ جرات نہیں رہی بعد اذاں عدالت نے انعام میمن کی درخواست ضمانت کیس کی سماعت ایک دن کے لیے ملتوی کردی۔