سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت اجلاس،

انٹر سٹی بس ٹرمنلز آمدورفت کے لئے شٹل سروس شروع کرنے کا فیصلہ

جمعرات اپریل 12:30

سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت اجلاس،
کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) محکمہ ٹرانسپورٹ حکومت سندھ نے یوسف گوٹھ بس ٹرمنل ا ور سپر ہائی وے پر الآصف اسکوائر بس ٹرمنل پر مسافروں اور بس آپریٹرز کے لئے سہولتوں کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے، انٹر سٹی بسوں کے لئے ملیر میں بھی بس ٹرمنل بنایا جائے گا، اس سلسلے میں منصوبہ بندی کر لی گئی ہے اور عملدرآمد کے لئے ترجیحی اقدامات کئے جا رہے ہیں، یوسف گوٹھ اور الآصف اسکوائر بس ٹرمنلز پر مسافروں کی سہولت کیلئے شہر کے مختلف مقامات سے شٹل سروس شروع کی جائے گی، انٹر سٹی بس ٹرمنلز کو بہتر بنانے کیلئے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ناصر حسین شاہ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو خصوصی احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

انٹرسٹی بس ٹرمنلز کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے کمشنر کراچی کے دفتر میں وزیر ٹرانسپورٹ سید ناصر حسین شاہ نے محکمہ ٹرانسپورٹ ٹریفک پولیس اور ڈپٹی کمشنرز کا خصوصی اجلاس طلب کیا جس میں کمشنر کراچی،، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور ڈی آئی جی ٹریفک بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

اجلاس میں انٹر سٹی بس ٹرمنلز کے منصوبوں کو بہتر بنانے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یوسف گوٹھ بس ٹرمنل اور سپر ہائی وے پر الآآصف اسکوائر پر نجی شعبہ کے تعاون سے قائم کئے جانے والے بس ٹرمنل کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جائے گا اور ٹرمنل پر مسافروں اور آپریٹرز کے لئے تمام ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ کمشنر کراچی خود متعلقہ افسران کے ہمراہ جاکر جائزہ لیں گے اور اقدامات کریں گے۔

اجلاس نے انٹر سٹی بسوں کی شہر کے اندر آمد اور انٹر سٹی بسوں کے مختلف اڈوں کے باعث شہریو ں کو درپیش مشکلات و پریشانی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ شہر کے اندر مصروف شاہراہوں پر قائم غیر قانونی بس اڈوں کو ختم کیا جائے گا۔ فیصلہ کیا گیا کہ شہر کے اندر انٹر سٹی بسوں کے غیر قانونی اڈوں کے خاتمہ کے سلسلہ میں مسافروں کی سہولت کو مدنظر رکھ کر اقدامات کئے جائیں گے، فوری طور پر بس اڈوں کو ختم کر نے کے بجائے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے فوری اقدامات کے طور انہیں محدود کیا جائے گا، پابند کیا جائے گا کہ بس اڈے شہریوں کی تکلیف کا باعث نہ بنیں۔

اجلاس نے انٹر سٹی بس ٹرمنلز آمدورفت کے لئے بس آپریٹرز کے تعاون سے شٹل سروس شروع کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اندروں ملک اور اندرون سندھ کے مسافروں کو سفر کی معیاری سہولت ملے اور ان بسوں کی وجہ سے شہر کا ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم نہ ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انٹر سٹی بس ٹرمنلز پر سہولتوں کی فراہمی اور شٹل سروس کے آغاز سے ٹرانسپورٹرز اور مسافر دونوں کو سہولت میسر آئے گی اور شہر میں ٹریفک کا دبائو کم کرنے کی حکومت کی کوششوں میں مدد ملے گی۔

اجلاس میں کمشنر کراچی اعجاز احمد خان، سیکریٹری ٹرانسپورٹ سعید احمد اعوان، ڈی آئی جی پو لیس ٹریفک عمران یعقوب منہاس، ڈپٹی کمشنر ضلع شرقی افضل زیدی، مختلف زونز کے ایس ایس پیز، سینئر ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکشن کے ڈی اے قاضی عبد القادر، صوبائی ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نذر حسین شاہانی، سیکریٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی سبحان شورو اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیشنل ہائی وے سے آنے جانے والی اندرون سندھ کی بسوں کے لئے بھی ملیر میں ایک جدید تقاضوں کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت انٹر سٹی بس ٹرمنل بنایا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کراچی میں ٹرانسپورٹ اور ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں، ان کی ہدایت ہے کہ کراچی کا ٹریفک نظام بہتر ہو اور شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولتیں میسر آئیں۔

بعد ازاں کمشنر کراچی اعجاز احمد خان نے سیکریٹری ٹرانسپورٹ، ڈی آئی جی ٹریفک،، ڈپٹی کمشنر شرقی اور دیگر افسران کے ہمراہ سپر ہائی وے اور یوسف گوٹھ اور الآصف اسکوائر بس ٹرمنل کا دورہ کیا اور بس ٹرمنل کو بہتر بنانے اور ضروری سہولتوں کی فراہمی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے وہاں مسافروں، بس آپریٹرز اور بس مالکان کو دی جانے والی سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔ کمشنر نے سیکرٹری ٹرانسپورٹ، سیکرٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ڈی آئی جی ٹریفک اور سینئر ڈائریکٹر ٹریفک انجینئرنگ، کے ڈی اے سے بھی مشاورت کی۔ کمشنر کراچی اس سلسلے میں اپنی تجاویز صوبائی وزیر کو پیش کریں گے۔