داعش کے 300سے زائد جہادیوں کے لیے سزائے موت

عراقی شہر بغداد اور تلکیف میں عدالتی سماعت کھلے بندوں کی گئی،ملزمان کودفاع کا موقع بھی فراہم کیاگیا،عدالتی ترجمان

جمعرات اپریل 12:30

داعش کے 300سے زائد جہادیوں کے لیے سزائے موت
بغداد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) عراقی عدالتیں اب تک عسکریت پسند تنظیم داعش کے تین سو سے زائد جہادیوں کو سزائے موت کے حکم سنا چکی ہیں۔ یہ فیصلے موصل کے نواح اور بغداد میں قائم دو عدالتوں نے سنائے۔ ان شدت پسندوں میں درجنوں غیر ملکی جہادی بھی شامل ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ملکی وزارت انصاف نے بتایا کہ ماضی قریب میں شام اور عراق کے وسیع تر علاقوں پر قابض رہنے والی دہشت گرد تنظیم یا داعش کے ان سینکڑوں ارکان کو موت کی یہ سزائیں صرف دو عراقی عدالتوں نے سنائی ہیں۔

ان میں سے ایک عدالت تو شمالی عراقی شہر موصل کے قریب تلکیف کے مقام پر کام کرنے والی ایک عدالت ہے۔ موصل عراق کا وہ شہر ہے، جو کچھ عرصہ پہلے تک داعش کی عسکری طاقت کا ایک بڑا مرکز تھا۔

(جاری ہے)

دوسری عدالت ملکی دارالحکومت بغداد میں قائم ایک ایسی کورٹ ہے، جس نے اب تک خاص طور پر داعش کے غیر ملکی جہادیوں اور اس شدت پسند تنظیم کی خاتون ارکان کے خلاف مقدمات کی سماعت کی ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق بغداد میں قائم عدالت کی طرف سے اس سال جنوری سے لے کر اب تک داعش کے 103 غیر ملکی جہادیوں کے لیے سزائے موت کے فیصلے سنائے جا چکے ہیں۔ ان عسکریت پسندوں میں وہ چھ ترک شہری بھی شامل ہیں، جنہیں اس عدالت نے گزشتہ روز کی سزائیں سنائیں۔ اس کے علاوہ یہی عراقی عدالت اب تک داعش کی رکنیت یا اس عسکریت پسند گروہ سے تعلق کے جرم میں 185 ملزمان کو عمر قید کی سزائیں بھی سنا چکی ہے۔

عراق کی اعلیٰ ترین عدالتی کونسل کے ترجمان عبدالستار بیرقدار کے مطابق موصل کے نواح میں تلکیف کے مقام پر قائم اور داعش کے جہادیوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالت بھی اب تک 212 عسکریت پسندوں کو موت کی سزائیں سنا چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس عدالت نے داعش کے 150 شدت پسندوں کے خلاف عمر قید اور 341 جنگجوؤں کے خلاف مختلف مدت کی قید کی سزاؤں کے فیصلے بھی سنائے۔

بیرقدار کے مطابق بغداد اور تلکیف میں ان سبھی جہادیوں کے خلاف عدالتی سماعت کھلے بندوں کی گئی، ان ملزمان کے بنیادی قانونی حقوق کے پیش نظر انہیں ماہر وکلاء کے ذریعے دفاع کا پورا موقع فراہم کیا گیا اور انہیں سزائیں اس وقت سنائی گئیں، جب ان پر داعش کے ارکان یا حامیوں کے طور پر مجرمانہ کارروائیوں کے ارتکاب کے الزامات ثابت ہو گئے۔