الیکشن قانون میں سقم دور نہ کیا گیا تو انتخابات کا بروقت انعقاد ممکن نہیں ،ْ

خورشید شاہ نے موجودہ حالات میں الیکشن قانون میں بڑے سقم کی نشاندہی کر دی سیکشن 22 کو دیکھا جائے تو چار ستمبر سے پہلے الیکشن نہیں ہو سکتے ،ْقانون سازی نہ کی گئی تو الیکشن کی قانونی حیثیت چیلنج ہو جائیگی ،ْ سب چاہتے ہیں الیکشن وقت پر ہوں جس کیلئے قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں قانون سازی کرنا ہو گی ،ْاپوزیشن لیڈر کا بیا ن

جمعرات اپریل 16:04

الیکشن قانون میں سقم دور نہ کیا گیا تو انتخابات کا بروقت انعقاد ممکن ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے موجودہ حالات میں الیکشن قانون میں بڑے سقم کی نشاندہی کر تے ہوئے کہاہے کہ سقم دور نہ کیا گیا تو الیکشن کا بروقت انعقاد ممکن نہیں ،ْسیکشن 22 کو دیکھا جائے تو چار ستمبر سے پہلے الیکشن نہیں ہو سکتے ،ْقانون سازی نہ کی گئی تو الیکشن کی قانونی حیثیت چیلنج ہو جائیگی ،ْ سب چاہتے ہیں الیکشن وقت پر ہوں جس کیلئے قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں قانون سازی کرنا ہو گی ۔

جمعرات کو ایک بیان میں خورشید شاہ نے کہا کہ حلقہ بندیوں کا حتمی نوٹفکیشن 4 مئی کو جاری کرنے کا کہا گیا ہے ،ْسیکشن 22 واضح ہے کہ حلقہ بندیوں کے بعد ایک سو بیس دن چاہیے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ دوسری طرف اسمبلی کی مدت مکمل ہونے کے ساٹھ دن کے اندر الیکشن ہونا ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ اگر یکم جون کو اسمبلی مدت پوری کرتی ہے تو یکم اگست تک الیکشن ہونے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ موجودہ حالات میں سیکشن 22 کی موجودگی میں بروقت الیکشن ممکن نہیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ سیکشن 22 کو دیکھا جائے تو چار ستمبر سے پہلے الیکشن نہیں ہو سکتے۔ خورشید شاہ نے کہاکہ الیکشن کمیشن سیکشن 22 اور دیگر شقوں میں تضاد کا فوری جائزہ لے۔ انہونے کہاکہ الیکشن کمیشن سیکشن 22 کو سیکشن 14 کے ساتھ ملا کر پڑھے۔ خورشید شاہ نے کہاکہ اگر یہ قانون سازی نہ کی گئی تو الیکشن کی قانونی حیثیت چیلنج ہو جائے گی۔ خورشید شاہ نے کہاکہ سب چاہتے ہیں الیکشن وقت پر ہوں جس کیلئے قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں قانون سازی کرنا ہو گی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ حلقہ بندیوں معاملے کی ٹائم لائن کی وجہ سے یہ سقم بنا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ اس سقم کو دور کرنا انتہائی ضروری ہے۔