پاسبان کی دائر کردہ سندھ اسمبلی یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوشنز لاز ترمیمی بل کیس

سرکاری وکیل غیر حاضر ،سندھ حکومت جواب داخل نہیں کراسکی ،سماعت 8مئی تک کے لئے ملتوی

جمعرات اپریل 16:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) سندھ ہائیکورٹ میں پاسبان پاکستان کے صدر الطاف شکور کی جانب سے سندھ اسمبلی میں یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوشنز لاز ترمیمی بل کی منظوری کے خلاف دائر کردہ آئینی درخواست کی سماعت سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ،عدالت میں ایڈوکیٹ جنرل سندھ وڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل سندھ غیر حاضر رہے اور حکومت سند ھ جواب داخل نہیں کراسکی۔

جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے آئندہ سماعت پر پاسبان کے وکیل عرفان عزیز ایڈوکیٹ کو یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوشنز لاز ترمیمی بل ایکٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 8مئی تک کے لئے ملتوی کردی ۔پاسبان پاکستان کے صدر الطاف شکور اور پاسبان کے وکیل عرفان عزیز ایڈوکیٹ نے سماعت کے بعد سندھ ہائیکورٹ کے میڈیا چوک پر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ نے پرائمری اور سیکنڈری کی تعلیم کو تباہ و برباد کردیا۔

(جاری ہے)

اب سندھ حکومت یونیورسٹیز کے اختیارات حاصل کرکے یونیورسٹیز کی سیٹوں کو کرپشن کی نذر کرنا چاہتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بھی تباہ و برباد کرکے طالبعلموں کے روشن مستقبل کو اندھیروں میں دھکیلنا چاہتی ہے ۔ پاسبان کی آئینی درخواست سندھ کے 24یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات ،انجینئرز ڈاکٹر اور دیگر شعبہ جات رکھنے والے طالبعلموں کے مستقبل کو تحفظ کی فراہمی اور سندھ حکومت کو یونیورسٹیز کی تعلیمی معیار کا بیڑہ غرق کرنے سے روکنے کے لئے ہے ۔

الطاف شکور نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ حکومت سندھ پہلے پرائمری اسکولوںاور سیکنڈری اسکولوں کے معیار کو بہتر بنائے جن کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے سندھ بھر میں پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار لگ چکی ہے ۔پاسبان سندھ کی 24یونیورسٹیز کے بچوں کا مستقبل تباہ کرنے نہیں دے گی ۔ حکومت سندھ کو ترمیمی بل واپس لینا ہوگا اور سندھ کے عوام باالخصوص طلبہ و طالبات سے معافی بھی مانگنی ہوگی ۔

عرفان عزیز ایڈوکیٹ نے کہا کہ دنیا بھر میں یونیورسٹیز کے اختیارات کے معاملات واضح ہیں ۔بیرونی دنیا کے یونیورسٹیز بل کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوگا کہ سندھ اسمبلی سے منظور شدہ یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوشنز لاز ترمیمی بل خلاف آئین اور خلاف وقانون ہے ۔ پاسبان آئندہ سماعت پر ایکٹ عدالت میں پیش کریگی ۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے نوجوانوں اور بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے سندھ کے تمام مخلص قوتوں کو سند ھ طالبعلموں کے مستقبل کو بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔