کل جماعتی حریت کانفرنس کا مقبوضہ کشمیر میں ننھی آصفہ کے قتل کے خلاف ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ

جمعرات اپریل 18:12

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے ننھی آصفہ کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کے خلاف اسلام آباد میں ڈی چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں مظاہرین نے شرکت کی۔ اس موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنمائوں فاروق رحمانی، محمود اے ساگر، سید یوسف نسیم سمیت دیگر نے بھی شرکت کی۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر جسٹس فار آصفہ کے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس ظلم اور بربریت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ حریت رہنمائوں نے اس موقع پر بھارتی مسلح افواج کی جانب سے اس بربریت کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، کشمیریوں کی پر امن جدوجہد کے خلاف طاقت کا استعمال کھلی بربریت ہے۔

(جاری ہے)

کشمیری اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ اپنا حق خود ارادیت مانگ رہے ہیں۔ اس کے لئے وہ پر امن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ مظاہرے میں انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ انسانی حقوق کی سرگرم کارکن فرزانہ باری نے مقبوضہ کشمیر میں معصوم آصفہ کے ساتھ پیش آنے والے انسانیت سوز ظلم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں پر امن جدوجہد دبانے کے لئے کبھی کشمیری بچوں کے خلاف پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی ان کی عصمت دری کی جاتی ہے۔

بھارت کی طرف سے یہ تمام حربے بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مسلم کانفرنس کی سیکرٹری مہر النساء نے کہا کہ کشمیری اپنی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کے لئے آگے آئے۔